۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
1

حوزہ/ درگاہ باب الحوائج حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام بگھرہ مظفر نگر کی مخصوصی مجالس میں دفتر نمائندگی" لکھنؤ "کے زیر اہتمام درگاہ کمیٹی کی معاونت سے چار روزہ شرعی سوالات و جوابات کے کیمپ لگایا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس 13 رجب المرجب 1444 ہجری کو دفتر نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی دام ظلہ لکھنؤ کی جانب سے اتر پردیش میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کے وکیل حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی غروی کے زیر نظر مومنین کرام خصوصا مقلدین کے شرعی سوالات کے جوابات کے لئے شعبہ استفتاءات کا آغاز ہوا، واٹسپ، ٹیلیگرام وغیرہ کے ذریعہ اب تک ملک و بیرون ملک سے ہزاروں مومنین و مومنات نے اپنے شرعی سوالات کے جوابات حاصل کئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

اسی سلسلے میں درگاہ باب الحوائج حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام بگھرہ مظفر نگر کی مخصوصی مجالس میں دفتر نمائندگی" لکھنؤ "کے زیر اہتمام درگاہ کمیٹی کی معاونت سے چار روزہ شرعی سوالات و جوابات کے کیمپ لگایا گیا، متعدد‌ علماء ، خطباء اور ذاکرین کرام ک کیمپ میں تشریف لائے اور وہاں اپنی مجلسوں میں مومنین کرام کو اس جانب متوجہ کیا اور علماء اعلام، خطباء کرام‌ اور دینی، مذہبی اور قومی شخصیات نے اس خدمت کو سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت بتایا۔

شعبہ استفتاءات دفتر نمایندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی لکھنؤ نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ایک بار پھر دینی تعلیم کے سلسلہ میں سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی ورنہ حالات مزید ابتر ہو جائیں گے، ابتدائی دینی تعلیم سے لے کر اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے تحریک کی صورت میں کام کرنے کی ضرورت ہے، مدارس دینیہ پر توجہ دینے، معیار بڑھانے اور مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے بلکہ آن لائن آف لائن دینی کلاسز چلانے کی ضرورت ہے، اگرچہ ہمیں علم ہے کہ مخلصین اور باصلاحیت افراد آج بھی کام کرنے کا حوصلہ اور ہمت رکھتے ہیں لیکن ناسازگار حالات اور بے توجہی کے سبب ہمت نہیں کر پاتے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے: شائد یہ واجب کفائی کی حدوں کو عبور کرکے حالات کی ابتری کی بنا پر واجب عینی بن گیا ہوکہ ہر شخص اس سلسلے میں اپنے تئیں اقدام کرے، کیونکہ واٹس ایپ گروپ پر کلاس نہیں لگائی جا سکتی، کلاس کلاس ہی کی طرح لگائی جا سکتی ہے، نیز ہماری مخلص قوم جو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و کرامات اور توسل کی جانب متوجہ ہی اور اس میں ہر شخص اپنے تئیں خدمات انجام دیتا ہے اسی طرح اس جانب متوجہ ہونا ہوگا کہ ہم اہل بیت اطہار علیہم السلام کے علوم و معارف پر بھی توجہ دیں۔ مخلص اہل علم کی قدر کریں تاکہ وہ بھی بہتر سے بہتر خدمات انجام دے سکیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .