حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے ملک ہندوستان کے اعلیٰ حکام کی دعوت پر دہلی کے دورے کے دوران آج رات ہندوستان کے اسلامی علما اور مختلف مذاہب کے ممتاز رہنماؤں سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کا ہندوستانی علما کی جانب سے بھرپور استقبال کیا گیا۔ پروگرام شروع ہونے کے ابتدائی ہی چند منٹوں میں مرکزی ہال مکمل طور پر بھر گیا، جس کے بعد دیگر شرکا کو ملحقہ ہالوں میں بٹھایا گیا۔ ہندوستان کے متعدد میڈیا اداروں نے بھی اس اہم ملاقات کی بھرپور کوریج کی۔

ایران کسی بھی صورت ظلم و جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا
ایران کے چیف جسٹس نے اس دوستانہ ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے دورے اور اس ملک کے علما و مذہبی شخصیات سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: ہندوستان کے آزاد منش عوام اور ممتاز علما نے شہید امام سید علی خامنہ ای کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں، خواہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہوں یا ایران میں، نمایاں اور قابل قدر شرکت کی۔ اسی لیے میں ہندوستانی عوام اور اس ملک کے بزرگ علما کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
انہوں نے شہید امام سید علی خامنہ ای کی تشییع و تدفین کی شاندار تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان مراسم میں شریک تمام افراد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک عظیم اور غیر معمولی عوامی و تمدنی تحریک نے ایران اسلامی کے شہید رہنما کو الوداع کہا۔ ہندوستان کی وہ ممتاز شخصیات بھی، جو ان مراسم میں شریک تھیں، اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔
محسنی اژہ ای نے مزید کہا: میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا گرمجوش سلام ہندوستانی عوام اور بزرگ علما تک پہنچاتا ہوں اور ان کی جانب سے شہید امام کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں آپ کی بھرپور اور باشعور شرکت پر دلی تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔
ایران کے چیف جسٹس نے قرآن کریم کی آیت «وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ...» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم کی صریح تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ اعلیٰ ترین مقام تک پہنچ سکتا ہے، لیکن دوسری جانب یہی انسان اپنی مادی اور دنیاوی خواہشات کے باعث کبھی ظالم، سرکش، ناشکرا اور جاہل بن جاتا ہے اور بعض اوقات حیوان سے بھی بدتر مقام تک پہنچ جاتا ہے۔

ایران اور ہندوستان نے آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں
محسنی اژہ ای نے ہندوستان کی سامراج مخالف جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہندوستان جیسے قدیم اور متمدن ملک کو آزاد ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ آپ ہندوستانیوں نے آزادی اور ظالم و استعمار پسند طاقتوں کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات اور سختیاں برداشت کی ہیں۔ ایران اسلامی نے بھی گزشتہ 48 برسوں کے دوران آزادی، عزت اور خودمختاری کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے اپنے بہترین فرزندوں کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ ہم نے بھی مستکبرین اور طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں بہت سی مشکلات اور تکالیف برداشت کی ہیں۔
ایران کے چیف جسٹس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا کا سب سے زیادہ استکبار مخالف ملک قرار دیتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی مستکبرین اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف تقریباً 48 سالہ جدوجہد کے ثمرات دیکھے ہیں اور اللہ کی نصرت اس کے شامل حال ہوئی ہے۔ آج ایران واحد ملک ہے جو سربلندی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی مستکبر طاقت، یعنی طاقتور اور دنیا پر تسلط قائم کرنے کے خواہاں امریکہ کے مقابل کھڑا ہے اور اس جارح طاقت کو شکست دے چکا ہے۔ ایران انسانیت کو استکبار کے غلامی کے طوق سے آزاد کرانے کے اپنے مقدس مقصد کے لیے آج بھی جدوجہد کر رہا ہے اور امریکہ کے سامنے پوری قوت کے ساتھ ’’نہیں‘‘ کہتا ہے۔

انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران امن پسند اور عدل گستر ملک ہے اور وہ پوری انسانیت کے لیے ایسے عالمی نظام کا خواہاں ہے جہاں امتیاز، استحصال اور استعمار نہ ہو اور تمام انسان امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم کی تعلیمات اور پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی روشنی میں ایرانی قوم کبھی ظلم و جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔ مختلف مذاہب کے دانشوروں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ دنیا میں پائیدار امن، انصاف اور سکون کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔
محسنی اژہ ای نے کہا: ایران نے قرآن کریم اور رسول اکرم، جو عدل و اخلاق کے عظیم نمونہ ہیں، کی تعلیمات سے یہ سیکھا ہے کہ وہ ظلم و جبر کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ آئندہ جھکے گا۔
میناب اسکول پر حملہ کھلا جنگی جرم
ایران کے چیف جسٹس نے ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے دوران ایک اسکول میں موجود متعدد بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور وہ شہید ہوگئے۔ ان معصوم بچوں کے جسم اس وحشیانہ حملے میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ میناب کے ’’شجرہ طیبہ‘‘ اسکول پر حملہ ایک واضح جنگی جرم ہے، اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اس اسکول کو ایک غیر فوجی تعلیمی مرکز قرار دیتے ہوئے حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
محسنی اژہ ای نے عالمی ضمیر سے سوال کرتے ہوئے کہا: کیا ایک اسکول اور ایسا پرائمری اسکول جہاں معصوم بچے تعلیم حاصل کرتے ہوں، بھاری بموں اور طاقتور میزائلوں کا نشانہ بننا چاہیے؟ اس اسکول کے بچے اس طرح شہید ہوئے کہ متعدد لاشوں کی شناخت بھی ممکن نہیں ہوئی اور والدین کو اپنے بچوں کی شناخت کے لیے خصوصی طبی معائنے اور ڈی این اے ٹیسٹ کروانے پڑے۔
انہوں نے شہید طلبہ کی تصاویر، اسکول بیگز اور بچوں کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ تصاویر واضح کرتی ہیں کہ کس طرح معصوم بچے جنگ کا شکار ہوئے۔ یہ بچے حقیقتاً مظلوم ترین مظلوم تھے اور امریکیوں اور درندہ صفت صہیونیوں کے جرائم کا نشانہ بنے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کے جرائم کا صرف ایک حصہ ہے۔ درجنوں اسکول، اسپتال، ثقافتی مراکز اور قومی و مذہبی بنیادی ڈھانچے بھی امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کا نشانہ بنے، حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر فوجی مقامات کو خصوصی انسانی تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملہ کرنے کی ممانعت واضح قانونی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا: شہید امام خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی اس عظیم شرکت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، انسانیت اور آزادی کی سربلندی کے لیے جدوجہد میں گزاری اور آخرکار اسی سیدھے راستے میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔

غزہ میں جرائم کے خلاف عالمی خاموشی نے جارحیت کا راستہ ہموار کیا
محسنی اژہ ای نے غزہ میں صہیونی حکومت کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جب غزہ کے عوام کے خلاف وسیع پیمانے پر منظم جرائم کا ارتکاب کیا گیا، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کو قتل کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، اگر عالمی ادارے اور دنیا کے آزاد انسان ان جرائم کے خلاف کھڑے ہوتے تو آج جارح طاقتیں کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے اور اپنے جرائم پر فخر کرنے کی جرأت نہ کرتیں۔
انہوں نے مزید کہا: امریکیوں اور صہیونیوں کی جانب سے آزاد اور خودمختار قوموں کے خلاف جرائم اور جارحیت پر عالمی برادری کی بے حسی ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اگر ان اقدامات کے خلاف مزاحمت نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید ممالک بھی جارحیت کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایران کے چیف جسٹس نے ہندوستان میں مختلف مذاہب کے دانشوروں اور رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آئیے ہم سب مل کر عالمی امن، سکون، انصاف، رفاہ اور تمام انسانوں کی ترقی کے لیے کوشش کریں۔ اگر مختلف اقوام اور مذاہب کے رہنما باہمی مشاورت اور تعاون کریں تو طاقت کے نشے میں مبتلا مستکبر عناصر کبھی بھی عراق، افغانستان، لبنان، غزہ اور ایران پر حملہ نہیں کر سکے گا اور مستقبل میں دوسرے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی جرأت نہیں کرے پائے گا۔

انہوں نے کہا: ہمیں باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے جارحیت کرنے والوں کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا تاکہ جارح طاقتوں کو روکا جاسکے اور پوری دنیا میں پائیدار امن و سکون قائم ہو۔
رئیس قوه قضاییہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: امید ہے کہ یہ ملاقاتیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایران اور ہندوستان، بلکہ تمام مسلمانوں اور پوری انسانیت کے لیے مفید اور خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔
ایران اور ہندوستان مشترکہ تہذیبی ورثے کے حامل ہیں
ایران کے چیف جسٹس کے خطاب سے قبل ہندوستان میں ایران کے سفیر فتحعلی نے ایران اور ہندوستان کے درمیان تہذیبی اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دونوں قوموں کی مشترکہ تہذیبیں ایک گراں قدر سرمایہ اور موقع ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے شہید قائد امت کی شہادت کے ایام میں ہندوستانی عوام کی وسیع پیمانے پر سوگواری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: قائد شہید امت کی شہادت کے موقع پر ہم نے ہندوستان میں عوام کے عظیم سوگ اور ایرانی عوام کے ساتھ ان کی یکجہتی اور ہمدردی کا مشاہدہ کیا۔
ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الہی نے بھی اس ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران اور ہندوستان دو عظیم تہذیبی مراکز ہیں جن کے درمیان صدیوں سے علم و حکمت، ادب و عرفان، ثقافت اور معنویت کے میدانوں میں باہمی تبادلہ جاری رہا ہے۔

انہوں نے کہا: برصغیر میں فارسی زبان و ادب کی دیرینہ موجودگی اور ایرانی و ہندوستانی علما، ادبا اور عرفا کے علمی و ادبی آثار ایران اور ہندوستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کی صرف ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: قائد شہید امت کی شہادت کے غم کے موقع پر بھی یہ تاریخی تعلق ایک شاندار انداز میں ظاہر ہوا۔ علما، مختلف مذاہب کے رہنماؤں، شیعہ و سنی مسلمانوں، ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں، عیسائیوں اور ہندوستان کے تمام شریف اور عزیز عوام کی جانب سے شہید سید علی خامنہ ای کی شہادت پر جس محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا، وہ بے مثال اور ناقابل بیان تھا۔
محسنی اژہ ای فقہ، حقوق، قضا اور انتظامی امور میں ممتاز شخصیت ہیں
نمائندہ ولی فقیہ ہند نے ایران کے چیف جسٹس کی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے کہا: حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے کئی دہائیوں تک ایران کے عدالتی نظام کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دی ہیں اور اس وقت ایران کی عدلیہ کے سربراہ ہیں۔ وہ فقہ، قانون، عدلیہ اور انتظامی امور کے میدان میں ایک ممتاز شخصیت ہیں، جنہوں نے حوزوی تعلیم، قانونی و عدالتی تجربے اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو نظامِ عدل کی خدمت کے لیے بروئے کار لایا ہے۔
حجۃ الاسلام حکیم الہی نے مزید کہا: حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای کے علمی، عدالتی اور انتظامی تجربات کے علاوہ زہد، سادہ زندگی، تواضع اور محنت بھی ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای کا ہندوستان کا دورہ اور ہندوستانی علما و دانشوروں کے ساتھ ان کی دوستانہ ملاقات ایران و ہندوستان کے درمیان علمی و ثقافتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مذاہب و اقوام کے درمیان باہمی مفاہمت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک نیا قدم ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا: ہندوستان میں نمائندگی ولی فقیہ کا دفتر اپنی دینی و تربیتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی اپنا فریضہ سمجھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ملک ہندوستان میں حوزہ ہائے علمیہ اور دینی مراکز میں مصروف علمائے کرام دانشور حضرات اور دینی و ثقافتی اداروں کے ساتھ روابط کو مزید گہرا اور وسیع کرے۔
اس ملاقات میں سکھ گوردوارہ کی کمیٹی کے سربراہ سردار پی ایس چندوک، دہلی کے امام جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین سید محسن تقوی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے شعبۂ فارسی کے سربراہ پروفیسر احمد اخلاق آہن، عالمی امن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ و ہندو رہنما سوامی سارنگ، آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے سیکریٹری مولانا مرزا محمد یعسوب عباس، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر پروفیسر محمد سلیم انجینئر، دہلی میں امیر خسرو فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور سماجی و سیاسی کارکن حجۃ الاسلام سید کلب رشید نے بھی خطاب کیا۔

ملاقات کے آغاز میں ہندوستان کے متعدد علما نے ایران کے چیف جسٹس اور ایرانی اعلیٰ عدالتی وفد کی خدمت میں یادگاری تحائف پیش کیے۔
ملاقات کے بعد محسنی اژہ ای نے مختلف مذاہب کے رہنماؤں، علما، دانشوروں اور ہندوستانی فرہیختگان کے ہمراہ عشائیے میں شرکت کی اور دوستانہ ماحول میں ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران ایران اور ہندوستان کے درمیان گہرے تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی روابط پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے علما، دانشوروں اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور روابط کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ