حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے پُرآشوب ایام میں جہاں ہر طرف اضطراب اور بے یقینی کی فضا تھی، وہیں قم المقدسہ مقدسہ میں زیرِ تحصیل ہندوستانی طلبہ نے خدمت، ایثار اور اخلاص کی ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے مومنین اور زائرینِ اہل بیتؑ کی خدمت کا ایک یادگار سلسلہ شروع کیا، جسے اہلِ قم اور زائرین نے بے حد سراہا۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے بعض ہندوستانی طلبہ، جن میں علی عمار خان، سید رہبر علی زیدی اور سید محمد کمیل رضوی اور انکے ساتھ انکے دیگر ساتھی، نے جنگ کے دوران سب سے پہلے “موکبِ ہندیہ” کے عنوان سے ایک خدمت گاہ قائم کی، جہاں تقریباً پینتیس سے چالیس روز تک مسلسل مومنین اور زائرین کی خدمت انجام دی جاتی رہی۔ اس موکب میں آنے والوں کے لیے ضروری شربت، چائے اور دیگر خدمات کا انتظام کیا گیا، جس نے خدمت کے ایک منفرد جذبے کو نمایاں کیا۔
اب اسی خدمت کے تسلسل میں ان طلبہ نے حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں واقع چائے خانہ میں زائرین کی خدمت کو اپنا شرف قرار دیا ہے۔ ہر پنجشنبہ مغرب کے بعد سے آخرِ شب تک یہ طلبہ حرم میں موجود رہتے ہیں اور زائرین کے لیے مفت چائے کی تقسیم میں بھرپور انداز سے حصہ لیتے ہیں۔ اگرچہ چائے کا انتظام حرمِ مطہر کی جانب سے ہوتا ہے، تاہم یہ طلبہ خالصتاً جذبۂ خدمت، اخلاص اور ایثار کے تحت وہاں پہنچ کر زائرین کی خدمت انجام دیتے ہیں۔

اس موقع پر علی عمار خان نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: “جنگ کے دنوں میں موکبِ ہندیہ کے ذریعے خدمت کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ ہمارے لیے روحانی سکون اور باطنی اطمینان کا سبب بنا۔ اب حرمِ حضرت معصومہؑ میں زائرین کی خدمت ہمارے لیے عظیم سعادت اور افتخار ہے۔”

اسی طرح سید رہبر علی زیدی نے کہا: “زائرینِ اہل بیتؑ کی خدمت درحقیقت خود اہل بیتؑ کی بارگاہ میں حاضری کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ہر پنجشنبہ اس مقدس مقام پر اپنی بساط کے مطابق خدمت انجام دے رہے ہیں، اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہے گا۔”

سید محمد کمیل رضوی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “حرمِ حضرت معصومہؑ کے جوار میں خدمت کا یہ موقع ہمارے لیے باعثِ برکت ہے۔ اس خدمت سے نہ صرف روحانی سکون حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ احساس بھی تازہ ہوتا ہے کہ طالبِ علم کا حقیقی جوہر علم کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق اور ایثار میں بھی مضمر ہے۔”

واضح رہے کہ مقامی عوام اور زائرین نے ہندوستانی طلبہ کے اس جذبۂ خدمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف طلبہ کے اخلاص کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ملتِ ہند کے دینی اور اخلاقی کردار کا بھی بہترین تعارف ہے۔










آپ کا تبصرہ