تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I مدینہ… وہ شہر جس کی فضا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سانسیں بسی تھیں، جہاں ایمان صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ، دھڑکتی حقیقت تھا—مگر جب امام حسین علیہ السلام نے باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، تو یہی مدینہ اچانک سناٹے میں ڈوب گیا… دروازے بند، دل سہمے ہوئے، زبانیں گنگ، نگاہیں جھکی ہوئی—حسینؑ نکل رہے تھے… اور امت دیکھ رہی تھی… کوئی قدم آگے نہ بڑھا، کوئی دیوار بن کر نہ کھڑا ہوا، کوئی سینہ سپر نہ ہوا… یہ وہی مرحلہ تھا جہاں تاریخ نے پہلی بار اپنے لرزتے ہوئے صفحات پر یہ سچ لکھا کہ حق تنہا بھی ہو سکتا ہے—اور اکثریت… ہاں اکثریت… خاموش بھی ہو سکتی ہے!
پھر مکہ… کعبہ کا سایہ، لبیک کی گونج، لاکھوں کا اجتماع، سجدوں کی بہار—مگر اسی سمندر میں ایک جزیرہ تنہا کھڑا تھا… حسینؑ! عبادتیں تھیں مگر غیرت نہ تھی، طواف تھا مگر جرأت نہ تھی، زبان پر لبیک تھا مگر دل میں خوف تھا… حسینؑ نے احرام کھول دیا—مگر امت نے اپنے ضمیر پر پڑی مصلحتوں کی گرہیں نہ کھولیں… اور یہ وہ مقام تھا جہاں ہزاروں انسانوں کی بھیڑ بھی حسینؑ کی تنہائی کو نہ چھپا سکی… ہجوم تھا، شور تھا، زندگی تھی—مگر حق پھر بھی اکیلا تھا!
پھر کربلا… جہاں ۷۲ نے تاریخ کا رخ موڑ دیا… اور ہزاروں نے اپنی خاموشی سے اپنے ناموں پر ہمیشہ کے لیے داغ ثبت کر لیا… سوال آج بھی فضا میں معلق ہے: حسینؑ اکیلے کیوں تھے؟
اور جواب بھی اتنا ہی بے رحم ہے: کیونکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے والے کم تھے… بہت کم!
مگر آج… آج تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، ہمارے سامنے زندہ ہو کر کھڑی ہے، سانس لے رہی ہے، چیخ رہی ہے، پکار رہی ہے… آج غزہ جل رہا ہے، مائیں اپنے بچوں کو ملبے سے نکال رہی ہیں، انسانیت لہو میں ڈوبی ہوئی ہے… اور اسی لمحے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ یلغار نے ایک نئی کربلا کا نقشہ کھینچ دیا ہے!
یہ صرف ایک جنگ نہیں… نہیں!
یہ حق اور باطل کی ایک اور فیصلہ کن صف بندی ہے!
یہ وہ معرکہ ہے جہاں ایک طرف طاقت کا غرور ہے، اور دوسری طرف حق کی استقامت!
ایران کھڑا ہے—تنہا… مگر پہاڑ کی مانند… زخموں سے چور مگر سر بلند… پابندیوں کے طوفان، حملوں کی آگ، اور دباؤ کے اندھیروں کے باوجود سینہ تانے ہوئے!
اور دوسری طرف… پوری مسلم دنیا!
خاموش… محتاط… مصلحتوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی…!
مگر سنو! المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا—یہ تو ابھی شروع ہوا ہے!
یہ وہ کربلا ہے جہاں صرف خاموشی نہیں، بلکہ کچھ مسلم حکمراں پردے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساز باز میں مصروف ہیں… کچھ ان کے دست و بازو بن چکے ہیں… اور کچھ نے اپنے ضمیر کا سودا کر کے اس یلغار کے خاموش سہولت کار بننے میں عافیت سمجھ لی ہے!
یہ وہ منظر ہے جہاں سامنے سے آنے والے تیر کم زخمی کرتے ہیں… اور پیچھے سے ملنے والی اپنوں کی بے وفائی زیادہ لہو بہاتی ہے…
اور تاریخ ایک بار پھر چیخ اٹھتی ہے:
“حسینؑ کو صرف دشمن نے نہیں… اپنوں کی خاموشی اور سازشوں نے بھی تنہا کیا تھا!”
کیا یہ وہی منظر نہیں جو مدینہ میں تھا؟
کیا یہ وہی کیفیت نہیں جو مکہ میں تھی؟
کیا یہ وہی خاموشی نہیں جو کربلا سے پہلے چھا گئی تھی؟
آج بھی کروڑوں مسلمان ہیں… درجنوں اسلامی ممالک ہیں… وسائل ہیں… طاقت ہے… مگر جب وقت آیا کہ کوئی ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو—تو سب پیچھے ہٹ گئے!
بیانات دیے گئے… مذمتوں کی گرد اڑائی گئی… لفظوں کے فتوحات حاصل کیے گئے… مگر عملی میدان؟
وہی صفر… وہی خاموشی… وہی خوف!
اور اے امتِ مسلمہ! اب بات صرف حکمرانوں تک محدود نہیں رہی—
ہاں! تمہارے حکمران تو اکثر بے ضمیر، استعماری طاقتوں کے دست نگر، مفاد کے غلام بن چکے ہیں—مگر سوال تم سے ہے… ہاں تم سے!
تمہاری غیرتِ ایمانی کہاں ہے؟
تمہارا وہ جوش کہاں ہے جسے قرآن نے “خَیْرَ أُمَّةٍ” کہا تھا؟
کیا تم نے بھی اپنی ذمہ داری چند سطروں، چند پوسٹوں، چند نعروں تک محدود کر دی ہے؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف بیان بازی سے تم بری الذمہ ہو جاؤ گے؟
کیا قیامت کے دن تم کہہ دو گے: “ہم نے مذمت تو کی تھی”… اور تم بچ جاؤ گے؟
یاد رکھو!
خاموشی ہمیشہ معصوم نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ جرم بن جاتی ہے کبھی کبھی یہ خیانت بن جاتی ہے۔
اور جب امت خاموش ہو جائے تو ظالم کے ہاتھ تلوار نہیں، طاقت پکڑ لیتے ہیں!
آج اگر ایران تنہا کھڑا ہے تو یہ صرف حکمرانوں کی ناکامی نہیں… یہ پوری امت کے ضمیر کا امتحان ہے…!
اٹھو! اپنے دل کو جھنجھوڑو! اپنے آپ سے پوچھو
کیا تم صرف تماشائی بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہو؟
یا تم وہ امت ہو جو حق کے لیے اٹھتی ہے، بولتی ہے، کھڑی ہوتی ہے—چاہے دنیا اس کے خلاف کیوں نہ ہو!
فیصلہ تمہیں کرنا ہے… کیونکہ تاریخ صرف ظالموں کو نہیں، خاموش رہنے والوں کو بھی یاد رکھتی ہے!
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ چیخ کر کہتی ہے:
یزید ہر دور میں کمزور ہوتا ہے مگر خاموش اکثریت اسے طاقت دیتی ہے!
کربلا میں یزید کی اصل قوت اس کی فوج نہیں تھی—بلکہ وہ لوگ تھے جو حق کو پہچان کر بھی خاموش رہے!
اور آج بھی امریکہ اور اسرائیل کی طاقت صرف ان کے ہتھیار نہیں—بلکہ وہ خاموش مسلم دنیا ہے جو سچ جانتے ہوئے بھی کھل کر سامنے نہیں آتی!
یہ وقت صرف تجزیہ کا نہیں فیصلہ کا ہے!
یہ وقت صرف آنسو بہانے کا نہیں—موقف اپنانے کا ہے!
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا:
اگر ہم مدینہ میں ہوتے تو کیا کرتے؟
اگر ہم مکہ میں ہوتے تو کیا کرتے؟
اگر ہم کربلا میں ہوتے تو کہاں کھڑے ہوتے؟
اور آج… جب ایران تنہا کھڑا ہے، جب غزہ آج کی کربلا بن چکا ہے—تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یاد رکھو!
کربلا کوئی ماضی نہیں—ایک معیار ہے!
حسینؑ کوئی نام نہیں—ایک راستہ ہے!
حق ہمیشہ تنہا ہوتا ہے… مگر ٹوٹتا نہیں، بکھرتا نہیں، ہارتا نہیں!
اور باطل… جتنا بھی طاقتور دکھائی دے—اندر سے کھوکھلا، لرزتا ہوا، اپنے انجام سے خوفزدہ ہوتا ہے!
فیصلہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے:
یا تم حسینؑ کے ساتھ کھڑے ہو… یا خاموش رہ کر یزید کے ساتھ لکھ دیے جاؤ!
آؤ عہد کریں—
ہم خاموشی کا حصہ نہیں بنیں گے!
ہم مصلحت کے غلام نہیں بنیں گے!
ہم حق کا ساتھ دیں گے—چاہے وہ تنہا کیوں نہ ہو!
کیونکہ تاریخ پھر لکھی جا رہی ہے…
اور اس بار بھی لکھا جائے گا:
کون حسینی تھا… اور کون صرف تماشائی!
اللهم اجعلنا من أنصار الحق، ولا تجعلنا من الصامتین على الباطل۔









آپ کا تبصرہ