حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ تقریب امام جواد فاؤنڈیشن کی جانب سے گزشتہ تین سال سے جاری اجتماعی شادی پروگرام کے سلسلے کی ایک کڑی تھی، جس کا مقصد معاشی مشکلات سے دوچار مستحق خاندانوں کے لیے باوقار اور آسان ازدواجی زندگی کے آغاز میں معاونت فراہم کرنا اور معاشرے میں سادگی و تعاون کی اسلامی اقدار کو فروغ دینا ہے۔

تقریب میں حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی اکبر ترابی، نمائندہ امام جواد فاؤنڈیشن گجرات، نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر رکن پارلیمنٹ لداخ حاجی محمد حنیفہ جان، سابق چیئرمین جموں و کشمیر قانون ساز کونسل حاجی عنایت علی، سابق ڈپٹی کمشنر کرگل حاجی گلزار حسین سمیت دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
اس کے علاوہ علماء کونسل کے اراکین، جید و معزز علماء کرام، سماجی و مذہبی شخصیات، عمائدینِ قوم، خیرخواہان اور ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نو بیاہتا جوڑوں کے لیے اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

"شیخ علی اکبر ترابی کا اہل بیت اطہارؑ کے طرزِ زندگی کو ازدواجی زندگی کے لیے نمونہ بنانے پر زور"
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی اکبر ترابی نے نو بیاہتا جوڑوں کو مبارکباد پیش کی اور ازدواجی زندگی کو ایمان، باہمی احترام، صبر، ایثار، حسنِ فہم اور اللہ تعالیٰ سے وابستگی کی بنیاد پر استوار کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے نو بیاہتا جوڑوں پر زور دیا کہ وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی بابرکت ازدواجی زندگی کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنائیں اور اپنی گھریلو زندگی میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات اور عملی سیرت کو اختیار کریں۔
شیخ ترابی نے حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرامین اور تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان محبت، ہمدردی، باہمی افہام و تفہیم، عفت و حیا، ذمہ داری اور روحانی وابستگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب خاندان صرف مادی آسائشوں سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ اس کی بنیاد ایمان، حسنِ اخلاق، صبر، عفو و درگزر اور ایک دوسرے کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔
انہوں نے نو بیاہتا جوڑوں کو تلقین کی کہ زندگی کے نشیب و فراز اور مشکلات کا سامنا باہمی تعاون، صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ کریں اور اپنی زندگی کو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

"تسبیح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اہمیت پر عملی وضاحت"
شیخ علی اکبر ترابی نے اپنے خطاب کے دوران تسبیح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی روحانی اہمیت اور فضیلت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور اس کا عملی طریقہ بھی بیان کیا، تاکہ حاضرین اور بالخصوص نو بیاہتا جوڑے اس کی اہمیت اور طریقۂ ادائیگی کو آسانی سے سمجھ سکیں۔
انہوں نے نو بیاہتا جوڑوں کو تاکید کی کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ذکرِ الٰہی، نماز اور روحانی اعمال کو خصوصی اہمیت دیں، کیونکہ وہ گھرانے جو اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت سے وابستہ رہتے ہیں، زندگی کے چیلنجز اور مشکلات کا زیادہ حوصلے اور اطمینان کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔
"نو بیاہتا جوڑوں کے لیے خصوصی تربیتی و رہنمائی نشست"
اجتماعی تقریب سے قبل شیخ علی اکبر ترابی نے تقریب میں شامل تمام دولہا اور دلہنوں کے لیے ایک خصوصی اور مفید تربیتی و رہنمائی نشست بھی منعقد کی۔
اس نشست کے دوران انہوں نے ازدواجی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے نو بیاہتا جوڑوں کو حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مثالی ازدواجی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک پُرامن، باوقار، باہمی احترام اور روحانی اقدار پر مبنی خاندانی ماحول قائم کرنے کی رہنمائی فراہم کی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بابرکت ازدواجی زندگی سے متعلق کتب و مستند اسلامی لٹریچر کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ ترابی نے واضح کیا کہ حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں موجود باہمی سمجھ بوجھ، سادگی، ایثار، احترام، محبت اور روحانی رفاقت مسلم خاندانوں کے لیے ایک بہترین اور دائمی نمونۂ عمل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات میں نکاح محض ایک سماجی رشتہ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد، خاندان کی تعمیر اور صالح معاشرے کے قیام کی بنیادی اکائی ہے۔
"شیخ ناظر مہدی محمدی کی امام جواد فاؤنڈیشن کی کاوش کو سراہتے ہوئے اظہارِ تشکر"
اس موقع پر صدر جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل لداخ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے تمام نو بیاہتا جوڑوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے پُرامن، خوشحال، بابرکت اور کامیاب ازدواجی زندگی کی دعا کی۔
شیخ ناظر مہدی محمدی نے شیخ علی اکبر ترابی اور امام جواد فاؤنڈیشن گجرات کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مسلسل تیسری مرتبہ کرگل میں اجتماعی شادی پروگرام کے انعقاد کے لیے تعاون کیا اور اس بابرکت تقریب میں شرکت کے لیے کرگل تشریف لائے۔
انہوں نے شیخ علی اکبر ترابی کی جانب سے نو بیاہتا جوڑوں کو دینی اور عملی رہنمائی فراہم کرنے کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
شیخ ناظر مہدی محمدی نے معاشرے پر زور دیا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات، بالخصوص خاندانی زندگی، اخلاق، سماجی ذمہ داری اور انسانی اقدار سے متعلق تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات فرد اور معاشرے دونوں کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، جبکہ ایمان، عدل، ہمدردی، صبر، سادگی، ایثار اور حسنِ اخلاق جیسی اقدار کو اپنانے سے پُرامن خاندان اور ایک مضبوط و بااخلاق معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

"14 نئے خاندانوں کے لیے باوقار اور بابرکت آغاز"
اجتماعی تقریبِ ازدواج نے 14 جوڑوں کی ازدواجی زندگی کے لیے ایک باوقار اور بابرکت آغاز فراہم کیا اور ساتھ ہی معاشرے میں باہمی تعاون، اجتماعی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو بھی اجاگر کیا۔
اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف مستحق خاندانوں کو شادی کے مالی اخراجات اور مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں سادگی، مساوات، اخوت، ہمدردی اور باہمی تعاون جیسی اسلامی اقدار کے فروغ کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر نو بیاہتا جوڑوں کے لیے اجتماعی دعا کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے ان کی پُرامن، خوشحال، کامیاب اور بابرکت ازدواجی زندگی کے لیے دعا مانگی گئی۔ اس کے ساتھ یہ بھی دعا کی گئی کہ ان کے گھرانے ہمیشہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرت سے وابستہ رہیں۔
منتظمین کی جانب سے مستحق خاندانوں کی معاونت اور معاشرے میں ایمان، اتحاد، اخوت اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے والی ایسی کاوشوں کی کامیابی اور تسلسل کے لیے بھی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ