تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
زیارتِ اربعین صرف ایک مذہبی سفر یا تاریخی یادگار نہیں، بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور دینِ محمدی کے ساتھ تجدیدِ عہد و پیمان کا عظیم مظہر ہے۔ یہ وہ مقدس اجتماع ہے جس میں انسان اپنے ایمان، کردار، وفاداری اور جذبۂ قربانی کا عملی اعلان کرتا ہے۔
زائرِ اربعین اپنے ہر قدم سے اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ راہِ حق پر ثابت قدم رہے گا، ظلم و باطل کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا اور امام حسین علیہ السلام کے آفاقی مشن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے گا۔
زیارتِ اربعین درحقیقت تولّی اور تبرّی کی عملی تفسیر ہے۔ اس میں ایک مؤمن اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی محبت، اطاعت، وفاداری اور نصرت کا اعلان کرتا ہے، جبکہ ان کے قاتلوں، دشمنوں، ظالموں اور باطل قوتوں سے براءت کا اظہار کرتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جس نے کربلا کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ہر دور میں ظلم کے خلاف مزاحمت، آزادی، عزت اور حق کی سربلندی کا دائمی منشور بنا دیا۔
اربعین کا ہر قدم اس عہد کی تجدید ہے کہ اگر عاشورا دوبارہ برپا ہو تو ہم بھی "لبیک یا حسینؑ" کہتے ہوئے اپنی جان، مال، عزت اور ہر محبوب شے کو راہِ خدا میں قربان کرنے کے لیے حاضر ہوں گے۔ یہی جذبہ زائر کو حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے بھی آمادہ کرتا ہے، کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت کا حقیقی تسلسل امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نصرت ہی میں مضمر ہے۔
اربعین کی پیادہ روی اس اعتبار سے بھی بے مثال ہے کہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا پُرامن، رضاکارانہ اور روحانی اجتماع ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں انسان ایک ہی مقصد، ایک ہی شعار اور ایک ہی محبت کے تحت نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امام حسین علیہ السلام کسی ایک قوم، نسل یا خطے کے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے امام ہیں، اور ان کا پیغام عدل، آزادی، کرامتِ انسانی اور خدا پرستی کا آفاقی پیغام ہے۔
اس عظیم سفر کی ایک نمایاں خصوصیت عراقی عوام کی بے مثال خدمت، ایثار اور مہمان نوازی ہے۔ راستے بھر قائم مواکب میں لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔ کوئی اپنا گھر کھول دیتا ہے، کوئی اپنا آخری جانور قربان کر دیتا ہے، کوئی رات بھر جاگ کر کھانا تیار کرتا ہے، کوئی پانی، چھاچھ، لسی، چائے، دوا اور آرام گاہ فراہم کرتا ہے۔ یہ سب حضرت سیدالشہداء علیہ السلام سے بے پایاں محبت کا عملی اظہار ہے۔ گویا وہ اپنے کردار سے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر عاشورا آج برپا ہوتی تو وہ اپنی جان و مال کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لیے حاضر ہوتے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے پیدل زیارتِ حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ جو شخص پیدل چل کر حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے، ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ جب وہ زیارت سے فارغ ہوتا ہے تو فرشتے اسے بشارت دیتے ہیں کہ اس کے گناہ معاف کر دیے گئے، وہ اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے گروہ میں شامل ہو گیا، اور جہنم اس پر حرام کر دی گئی۔ یہ روایت اس روحانی سفر کی عظمت، فضیلت اور بے مثال اجر کو نمایاں کرتی ہے۔
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمۂ معصومین علیہم السلام کے مزاراتِ مقدسہ کی پیدل زیارت کا سلسلہ خود ائمۂ اطہار علیہم السلام کے مبارک زمانے سے جاری رہا ہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں ظالم حکومتوں، سیاسی حالات اور مخالف قوتوں کی رکاوٹوں کے باعث اس سنت کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ کبھی ختم نہ ہو سکی۔ آلِ بویہ اور صفوی حکمرانوں نے اس مقدس روایت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بعد کے ادوار میں جلیل القدر علماء و مراجع نے اپنے عمل کے ذریعے اس سنت کو زندہ رکھا۔
تاریخ میں جلال الدولہ کا حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے روضۂ اقدس تک ننگے پاؤں حاضر ہونا، شاہ عباس صفوی کا اصفہان سے مشہدِ مقدس تک پیدل سفر کرنا، اور آخوند خراسانی رحمۃ اللہ علیہ سمیت متعدد اکابر علماء کی پیادہ زیارتیں اس عظیم سنت کی روشن مثالیں ہیں۔ ان بزرگوں نے اپنے عملی نمونے سے ثابت کیا کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ ایثار، عاجزی اور عملی وابستگی کا نام ہے۔
بعد کے زمانوں میں جب بعض سیاسی اور معاشرتی حالات کے باعث اربعین کی پیادہ روی کمزور ہونے لگی تو محدثِ کبیر میرزا حسین نوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عظیم سنت کو دوبارہ زندہ کیا۔ ان کے اس عملی اقدام نے اس روایت میں نئی روح پھونک دی، اور یہی کارواں بتدریج بڑھتے بڑھتے آج کروڑوں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام کے عالمی اجتماع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا جواد آقا ملکی تبریزی رحمۃ اللہ علیہ اربعین کو سالکِ راہِ خدا کے لیے ایک غیر معمولی روحانی موقع قرار دیتے تھے اور زیارتِ اربعین کو ایمان کی نمایاں علامات میں شمار فرماتے تھے۔ علامہ عبدالحسین امینی رحمۃ اللہ علیہ ہر سال پیادہ زیارت میں شریک ہوتے، اور کربلا کے قریب پہنچتے ہی ان کی آنکھوں سے بے اختیار اشک جاری ہو جاتے تھے۔ اسی طرح علامہ سید محسن امین رحمۃ اللہ علیہ، محدث نوری رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ مصطفیٰ خمینی رحمۃ اللہ علیہ، شہید محراب آیۃ اللہ سید اسد اللہ مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء نہ صرف خود اس عظیم عبادت کا اہتمام کرتے تھے بلکہ اپنے شاگردوں اور مؤمنین کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔
مرجعِ اعلی دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ العالی زائرینِ اربعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زیارتِ اربعین محض ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور مقصدِ شہادت سے وابستگی کے عہد کی عملی تجدید ہے۔ اس مبارک سفر کا تقاضا ہے کہ زائر نمازِ اول وقت، اخلاص، تقویٰ، حجاب و عفت، صبر، حسنِ اخلاق، نظم و ضبط، قوانین کی پابندی اور دیگر اسلامی احکام پر پوری طرح عمل کرے، کیونکہ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی تعلیم اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے کردار، سیرت اور بے مثال قربانیوں کے ذریعے انسانیت کو دی ہے۔ زیارت کا حقیقی ثمر یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت کے مطابق ڈھالے، ہر عمل میں رضائے الٰہی کو مقدم رکھے، ذکرِ خدا میں مشغول رہے، دوسروں کے لیے بہترین عملی نمونہ بنے اور اپنی گفتار و کردار سے دینِ اسلام اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا پیغام عام کرے۔ یہی حقیقی زیارت انسان کی روحانی تربیت، اصلاحِ نفس، قبولیتِ اعمال اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے، اور اسے روزِ قیامت اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی معیت، شفاعت اور قربِ الٰہی کی امید سے سرفراز کرتی ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی دامت برکاتہ کے نزدیک اربعین کی پیادہ روی تعظیمِ شعائرِ الٰہی، تبلیغِ ولایت اور تشیع کی عظمت کا بے مثال مظہر ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ عظیم اجتماع دشمنانِ اسلام اور باطل قوتوں کے لیے خوف و ہیبت کا باعث بنتا ہے اور دنیا کے سامنے مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی قوت، وحدت اور عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔
آیۃ اللہ محمد تقی بہجت رحمۃ اللہ علیہ زیارتِ اربعین کو دنیا کے سامنے حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم شخصیت اور ان کے آفاقی پیغام کو متعارف کرانے کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیتے تھے، جبکہ آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی دام ظلہ العالی زائرین کو معصومین علیہم السلام کی نیابت میں زیارت انجام دینے اور حضرت بقیۃ اللہ الأعظم امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لیے کثرت سے دعا کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔
آیۃ اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی دام ظلہ العالی کے مطابق زیارتِ اربعین صرف ایمان کی ایک علامت نہیں، بلکہ ولایت کا ستون ہے؛ جس طرح نماز دین کا ستون ہے، اسی طرح زیارتِ اربعین انسان کو ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے مضبوط وابستگی، دینی بصیرت، حق شناسی اور راہِ حق پر استقامت عطا کرتی ہے۔ اسی لیے اربعین کا حقیقی پیغام صرف کربلا پہنچنا نہیں، بلکہ کربلا کے پیغام کو اپنی فکر، کردار اور عملی زندگی میں زندہ کرنا ہے۔
درحقیقت اربعین کا پیغام صرف کربلا تک پہنچنے کا نہیں، بلکہ کربلا کو اپنی فکر، کردار اور عملی زندگی میں زندہ کرنے کا نام ہے۔ یہ مقدس سفر انسان کو سکھاتا ہے کہ ایمان محض ایک عقیدہ یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ عمل، ایثار، قربانی، صبر، خدمتِ خلق، اخلاص، اتحاد، وفاداری اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا دوسرا نام ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہیں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب نے میدانِ کربلا میں اپنے خون سے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
آج جب دنیا ظلم، استعمار، مادہ پرستی، اخلاقی زوال اور فکری انتشار کا شکار ہے، اربعین کا عالمی اجتماع پوری انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کبھی تنہا نہیں ہوتا اور باطل کبھی دائمی نہیں رہتا۔ جب ایمان، اخلاص، بصیرت اور قربانی زندہ رہیں تو کربلا کا پیغام ہر دور میں زندہ رہتا ہے اور ظلم و استبداد کی ہر طاقت بالآخر شکست سے دوچار ہوتی ہے۔
اربعین ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام سے محبت صرف آنسو بہانے، مجالس میں شرکت کرنے یا زیارت پر جانے کا نام نہیں، بلکہ ان کے مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا، مظلوموں کی حمایت کرنا، ظالم کے سامنے ڈٹ جانا، عدل و انصاف کو فروغ دینا، انسانیت کی خدمت کرنا، اخلاقِ محمدی ﷺ کو اپنانا، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت کو اپنی زندگی کا نمونہ بنانا اور حضرت بقیۃ اللہ الأعظم امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حقیقی منتظر اور وفادار مددگار بننے کی عملی تیاری کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی حقیقی معرفت، زیارتِ اربعین کی روح اور اس کے پیغام کو سمجھنے، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی ولایت پر ثابت قدم رہنے، ان کے دشمنوں سے براءت اختیار کرنے، مظلوموں کی نصرت، حق کی سربلندی اور دینِ اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں حضرت بقیۃ اللہ الأعظم امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مخلص منتظرین، جان نثار انصار اور روزِ قیامت حضرت سیدالشہداء علیہ السلام، ان کے اصحابِ باوفا اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی معیت میں محشور فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(ماخوذ از رسالہ نور الثقلین لکھنو)









آپ کا تبصرہ