تحریر: عامر حسین کشمیری
حوزہ نیوز ایجنسی|
اربعینِ حسینیؑ محض ایک سالانہ اجتماع یا محض ایک پیادہ سفر نہیں ہے، بلکہ یہ نظامِ عشق کی وہ معراج ہے جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا روحانی اور باطنی سفر ہے جس کا نقطہ آغاز کربلا اور مرکز، معشوقِ حقیقی حضرت امام حسین علیہم السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔
اس سفر کی سب سے بڑی عظمت اور خصوصیت یہ ہے کہ اس عظیم عشق کی سربراہی اور سرپرستی خود فرزندِ رسولؐ، یوسفِ زہراؑ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ وہ بالواسطہ اور بلاواسطہ اپنے جد امام حسینؑ کے زائرین کی میزبانی فرماتے ہیں اور اس عظیم لشکرِ عشق کی ہدایت و رہنمائی کرتے ہیں۔
اربعین کا سفر رنگ، نسل، زبان، قوم اور قبیلے کی تمام مصنوعاتی دیواروں کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ جب دنیا کے کونے کونے سے مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف لباس پہننے والے اور مختلف روایات سے تعلق رکھنے والے انسان کربلا کی طرف گامزن ہوتے ہیں، تو وہ تمام ظاہری اختلافات بھول جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی زبان نہ جاننے کے باوجود، زائرین ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن اور اندرونی طلب کو بغیر کسی ترجمان کے سمجھ لیتے ہیں۔
جب کسی رشتے کی بنیاد اور مرکز حضرت امام حسینؑ کی ذاتِ اقدس بن جائے، تو وہ رشتہ دنیاوی غرض و غایت سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایسا تعلق لازوال، پائیدار اور غیر متزلزل ہو جاتا ہے۔
سچی محبت صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں ہے، بلکہ محبت کی اصل روح اور اس کا کمال "قدر دانی" میں پوشیدہ ہے۔
جب محبت میں احترام، ایثار اور ایک دوسرے کی قدر شامل ہو جائے، تو وہ محبت اپنی معراج کو پہنچ جاتی ہے۔
اربعین کے اس سفر میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک زائر دوسرے زائر کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔ میزبان اپنے گھر، مال اور تمام وسائل کو زائرینِ حسینیؑ کے قدموں میں نچھاور کر دیتے ہیں۔ یہ خلوص اور احترام ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ محبت اپنے بلند ترین مقام پر فائز ہے۔
آج کی اس مادیت پرستی سے بھری دنیا میں، جہاں رشتے مفاد کی بنیاد پر بنتے اور ٹوٹتے ہیں، اربعینِ حسینیؑ کا یہ منظرِ محبت انسانیت کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی اتحاد اور ہم آہنگی کیسے قائم کی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا ہے کہ۔
وہ ہمیں اپنے وقت کے امام، یوسفِ زہرا حضرت امام مہدیؑ کے ساتھ اور ان کی زیرِ سرپرستی اربعین کربلا کے اس عظیم روحانی سفر کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمیں یہ سعادت نصیب ہو کہ ہم ذاتی طور پر، حضورِ امامؑ کے ساتھ، مولا حسینؑ کے روضۂ اطہر پر حاضر ہو کر اپنا سلامِ عقیدت پیش کر سکیں۔
پروردگار ہمارے دلوں میں حسینیؑ محبت، قدر دانی اور معرفت کا یہ جذبہ ہمیشہ زندہ و جاوید رکھے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ