حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ مصباح یزدی (قدس سرہ) نے فلسفۂ قیامِ کربلا کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ امام حسین علیہ السلام کا بنیادی مقصد اسلام کی اساس کا تحفظ اور امت کو فکری جہالت اور گمراہی کی حیرت سے نجات دلانا تھا۔ حضرت اباعبداللہ علیہ السلام کی تحریک نے بنو امیہ کے سحر و فریب کو باطل کر دیا۔
انہوں نے کہا: جن حالات میں امام حسین علیہ السلام نے قیام فرمایا، اس وقت معاشرے میں اسلام کو محفوظ رکھنے اور لوگوں نیز آنے والی نسلوں کو صحیح راستہ دکھانے کا واحد راستہ وہی تھا جو امام حسین علیہ السلام نے اختیار کیا۔
انہوں نے کہا: امام حسین علیہ السلام اس لیے شہید نہیں ہوئے کہ اس کے بدلے میں صرف ان کے دوست جنت میں جائیں بلکہ آپ نے اپنی جان اس لیے قربان کی تاکہ اس دور کے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے دین باقی رہے۔ اس حقیقت پر متعدد دلائل موجود ہیں جن میں حضرت اباعبداللہ علیہ السلام کی زیارتِ اربعین کا یہ مبارک فقرہ بھی شامل ہے: «وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَیْرَةِ الضَّلَالَةِ» (بحار الانوار، جلد ۱۰۱، باب ۱۸، روایت ۳۰، صفحہ ۱۷۷)
آیت اللہ مصباح یزدی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس فقرے میں بیان ہوا ہے: «وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ» یعنی سید الشہداء علیہ السلام نے اپنا خونِ دل اللہ کی راہ میں پیش کیا تاکہ «لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَیْرَةِ الضَّلَالَةِ» تاکہ اللہ کے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی سرگردانی سے نجات دلائیں۔
انہوں نے کہا: معاویہ کی وسیع اور گمراہ کن تبلیغات نے لوگوں کو اس حد تک متاثر کر دیا تھا کہ وہ حق و باطل میں تمیز کھو بیٹھے تھے۔ عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی نے ان تمام طلسمات کو توڑ دیا، بنو امیہ کے تمام فریب کو باطل کر دیا اور لوگوں پر حقیقت آشکار ہو گئی۔
آیت اللہ مصباح یزدی نے کہا: بنو امیہ نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جو سلوک کیا اور جس بے رحمی سے یہ مظالم ڈھائے، وہ اس قدر شرمناک اور رسوا کن تھے کہ ہر سننے والا یہ سمجھ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی جانشین ایسا ظلم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا: سانحۂ کربلا تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ لوگوں نے نہ اس سے پہلے اور نہ ہی کفار کے بارے میں ایسا ظلم دیکھا یا سنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک نے بنو امیہ کو ہمیشہ کے لیے رسوا کر دیا اور معاویہ کی برسوں کی سازشیں ایک ہی دن میں خاک میں ملا دیں۔ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہرا خلیفہ ہو کر آپ کے نواسے اور اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ایسا سلوک کرے۔ اسی لیے سب پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ایسا شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
آیت اللہ مصباح یزدی نے کہا: امام حسین علیہ السلام کی تحریک اتنی طاقتور اور اثر انگیز تھی کہ تقریباً چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس کی حقانیت پر کوئی گرد نہیں پڑی اور کوئی بھی یہ شبہ پیدا نہیں کر سکا کہ یزید اور یزیدی حق پر تھے بلکہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا ساتھی حق پر تھے۔
انہوں نے مزید کہا: تاریخ میں بہت سے مسلمہ حقائق پر شبہات پیدا کیے گئے۔ یہاں تک کہ واقعۂ غدیر کے اصل وقوع کا انکار نہ کر سکنے والوں نے اس کے مفہوم میں شبہات پیدا کیے۔ بعض لوگوں نے یہاں تک کہا کہ «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ...» سے مراد ولایت و امامت نہیں بلکہ صرف محبت و دوستی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا: اس کے باوجود کوئی بھی واقعۂ عاشورا اور کربلا میں شبہ پیدا نہیں کر سکا۔ دوست و دشمن، مؤمن و کافر، مسلمان اور غیر مسلم سب اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ وہ خون ہے جو مظلومیت، عقیدے اور ایمان کے دفاع اور انسانوں کی نجات کے لیے بہایا گیا۔
ماخذ: جانہا فدائے دین، صفحات 93 تا 95۔









آپ کا تبصرہ