ہفتہ 1 اگست 2026 - 13:56
اربعین: عالمِ انسانیت کے لیے حریت، اخوت اور ایک نئی تہذیب کا پیغام

حوزہ/اربعینِ امام حُسین آج کی دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام اور طاغوتی و استکباری طاقتوں کی ظلم کی چکی تلے پسے ہوئے طبقات، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو، انہیں خود اعتمادی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی دعوت دیتا ہے۔ امام حُسین کا پیغام انسان کی فطرت اور ضمیر کے عین مطابق ہے؛ خواہ کوئی کسی مذہب کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو، اور کسی بھی معبود کا قائل ہو یا نہ ہو۔

تحریر: علامہ امین شہیدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

اربعینِ امام حسین علیہ السلام آج کی دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام اور طاغوتی و استکباری طاقتوں کی ظلم کی چکی تلے پسے ہوئے طبقات، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو، انہیں خود اعتمادی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی دعوت دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام انسان کی فطرت اور ضمیر کے عین مطابق ہے؛ خواہ کوئی کسی مذہب کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو، اور کسی بھی معبود کا قائل ہو یا نہ ہو۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے واقعے میں ظلم کے خلاف اپنے پورے کنبہ اور قلیل ساتھیوں کے ساتھ قیام کیا۔ آپ نے ظالمانہ نظام کی طاقت اور اپنے عزیز و اقارب کی کم تعداد سے ذرہ برابر مرعوب ہوئے بغیر اُس عظیم ترین قربانی کا مظاہرہ کیا، جو تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ انتہائی سخت حالات اور بدترین مظالم کے مقابلہ میں جن اعلی انسانی اقدار کو کربلا میں زندہ کیا گیا، وہ ایک ایسا لافانی انسانی ورثہ ہیں جو مسلک، فرقوں اور ادیان کے دائرہ سے نکل کر عالمِ انسانیت کو یہ شعور دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے کھڑا ہونا نہ صرف سعادت ہے بلکہ اس راہ میں جامِ شہادت نوش کر کے انسان ہمیشہ کے لیے تاریخ میں زندہ ہو جاتا ہے۔

آج دنیا میں ظلم و بربریت، استحصال اور انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ابلیسی طاقتوں نے جتنے بھی ہتھکنڈے اپنائے ہیں، ان کے مقابلہ میں ایک ہی راستہ، ایک ہی نعرہ اور ایک ہی ہدف انسان کو ان تمام مظالم کے چنگل سے نجات دلا سکتا ہے، اور وہ ہے امام حسین علیہ السلام سے قلبی اور عملی وابستگی کا راستہ۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین کا موقع حسین ابن علی علیہ السلام کی قبرِ اطہر پر حاضر ہو کر ان تمام انسانی قدروں سے وفاداری کا اعلان بھی ہے اور ظلم کے خلاف ایک پرعزم بغاوت کا اظہار بھی۔

اربعین کے ایام میں پوری دنیا سے کروڑوں لوگ عراق کا رخ کرتے ہیں۔ ان کی زبانیں، لباس، ثقافت، گفتگو کا انداز، سوچنے کا ڈھنگ اور زندگی کی اخلاقیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں، لیکن جو واحد چیز ان سب کو ایک لڑی میں پروتی ہے، وہ حسین ابن علی علیہ االسلام کی معرفت اور آپ کی قربانی میں موجود عظیم اقدار ہیں۔ لہٰذا جب کوئی شخص اربعین کے موقع پر کربلا پہنچتا ہے تو اسے بالکل بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب ایک ہی قبیلہ کے لوگ ہیں اور اس قبیلہ کا نام ’’حسینی قبیلہ‘‘ ہے۔ اس طرح کربلا انسانی تہذیبوں، ثقافتوں، جغرافیائی حدود، نسلوں اور قومیتوں کے درمیان حائل دیواروں، دراڑوں اور رکاوٹوں کو مٹا کر تمام انسانیت کو ایک محور پر جمع کرنے کا وہ عظیم ترین پلیٹ فارم ہے جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج ساڑھے آٹھ ارب کی آبادی ایک ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام تلے کچلی جا رہی ہے، ایسے عالم میں فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو ایسے نظام سے نجات ملے اور معاشرہ آزادی کی طرف سفر کرے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کے اس سفر میں سب سے عظیم ہیرو اور ہستی امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس ہے۔ مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلا جیسے آزادی کے عالمی علمبرداروں نے بھی حریت و آزادی کی روح حسین ابن علی علیہ السلام سے ہی حاصل کی تھی، اس لئےاگر کوئی شخص آج کی دنیا میں امام حسین علیہ السلام سے وابستہ ہو جائے تو وہ یقیناً آزادی، حریت اور سربلندی کی منزل پا سکتا ہے۔

اربعین کے یہ ایام انسان کے اندر موجود اسی فطری خواہش کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ ان ایام میں جب انسان کربلا پہنچ کر دنیا بھر سے آئے ہوئے مظلوم انسانوں کو دیکھتا ہے جو ایک نیا عزم لے کر اٹھے ہیں، تو وہ زائر بھی کربلا کے اس عظیم پیشوا کے گنبد کے سامنے کھڑے ہو کر جرأت، ایثار، قربانی اور اعلیٰ ترین انسانی اقدار کو اپنے لیے آئیڈیل بنا لیتا ہے۔ وہ اپنے ملک اور سرزمین کی طرف ایک نئی روح لے کر واپس پلٹتا ہے اور اس پیغام کو عام کرتا ہے۔ کربلا انسانوں کو توڑتی نہیں بلکہ جوڑتی ہے، کمزور نہیں بلکہ طاقتور بناتی ہے، اور اللہ کی بارگاہ میں اشک بہانے کے ساتھ ساتھ اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کوہِ استقامت بن کر کھڑے ہونے کا ہنر سکھاتی ہے۔ اربعین کی یہ پیدل یاترا (واک) اسی لا محدود پوٹینشل اور طاقت سے مالامال ہے۔

اربعین کے اس جلوس نے انسانی معاشرہ کے سامنے ایک نئی تہذیب اور ثقافت کی بنیاد رکھی ہے، جو ایثار، قربانی اور اپنا سب کچھ نچھاور کر کے حقیقی سکون پانے کا ایک انوکھا دریچہ کھولتا ہے۔ عام حالات میں انسان اپنے مفاد، آسائش اور زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کے لیے دن رات تگ و دو کرتا ہے اور اس راہ میں اکثر دوسروں کا حق بھی مار دیتا ہے۔ اس کے برعکس، کربلا اور عاشورا کے اس ثقافتی منظرنامہ نے دنیا کے سامنے جو نمونہ پیش کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ایک عام انسان سارا سال سخت محنت کر کے دولت کماتا ہے، شب و روز ایک کرتا ہے، لیکن ان ایام میں تپتی ہوئی دھوپ میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر زائرینِ امام حسین علیہ السلام کو مفت کھانا، پانی اور شربت پلاتا ہے۔ وہ ان کی رہائش کا بندوبست کرتا ہے، اور خود تھکن سے چور ہونے کے باوجود زائرین کی راحت کا سامان کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ امام حسین علیہ السلام کی راہ میں لٹا دیتا ہے۔ اگرچہ گھر واپسی پر اُس کا ہاتھ خالی ہوتا ہے، لیکن اس کا ضمیر مکمل پرسکون ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا ایک نیا زاویہ ہے، اور یہ انوکھا کلچر صرف اور صرف اربعین کے ایام میں کربلا میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ عام طور پر حج یا عمرہ جیسے مقدس فریضہ کے دوران بھی رہائش، گاڑیاں اور کھانے پینے کی اشیاء کئی گنا مہنگی ہو جاتی ہیں اور زائرین کو بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، لیکن اربعین کا مزاج اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں میزبان اپنی سال بھر کی محنت کی کمائی خوشی خوشی نچھاور کر کے مسرور ہوتا ہے۔ یہاں کی تہذیب کا ایک اور انوکھا انداز یہ ہے کہ اگر کوئی مہمان میزبان کے دسترخوان سے کم کھائے تو میزبان کو دکھ ہوتا ہے، اور اگر نہ کھائے تو وہ رو پڑتا ہے۔ وہ اپنے مہمان کو رو رو کر کھلاتا بھی ہے، پلاتا بھی ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسا لاجواب کلچر دنیا کے کسی بھی خطے یا مذہب میں نہیں پایا جاتا۔ امام حسین علیہ السلام نے اربعین کے ان ایام میں اپنے کروڑوں محبوں کے قلوب کو اس طرح تبدیل کیا ہے کہ میزبان اپنا سب کچھ لٹا کر بھی خوش ہے، اور مہمان تمام صعوبتوں کو جھیلنے کے باوجود بھی اپنے مولا کی بارگاہ میں پہنچ کر سرشار ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha