تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزه نیوز ایجنسی | نسب جب معرفت سے روشن ہو، علم جب عمل سے آراستہ ہو اور محبت جب وفاداری کا پیکر بن جائے تو شخصیت محض تاریخ کا حصہ نہیں رہتی، بلکہ تاریخ کے لئے ایک روشن معیار بن جاتی ہے۔ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام ایسی ہی عظیم المرتبت شخصیت ہیں۔ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام خاندانِ رسالتؐ سے تعلق رکھنے والے جلیل القدر عالم، محدث اور اہل بیت علیہم السلام کے وفادار پیرو تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ تاہم آپ کی عظمت صرف نسب کی نسبت تک محدود نہیں؛ آپ کی شخصیت علم، تقویٰ، معرفتِ امام اور ولایتِ اہل بیت علیہم السلام سے وفاداری کا حسین امتزاج تھی۔
آپ 4 ربیع الثانی 173 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور تاریخ کے ایسے دور میں زندگی گزاری جب ائمۂ اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کو عباسی حکومت کے سیاسی دباؤ اور نگرانی کا سامنا تھا۔ ایسے ماحول میں حق کی معرفت حاصل کرنا، اسے محفوظ رکھنا اور اہل ایمان تک پہنچانا ایک عظیم دینی ذمہ داری تھی۔ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو علم، عمل، تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کا علمی مقام ہے۔ آپ نے ائمۂ اہل بیت علیہم السلام سے معارف حاصل کئے اور ان علوم کو آگے منتقل کیا۔ آپ کے لئے علم محض الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ نہیں تھا؛ وہ علم آپ کے کردار میں ڈھل چکا تھا۔
آپ کی سیرت اہل علم کو یہ سبق دیتی ہے کہ علم کی حقیقی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کو خدا سے قریب، حق کے سامنے جھکنے والا اور باطل کے مقابلے میں ثابت قدم بنا دے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی معرفتِ دین کا ایک اہم واقعہ امام علی نقی الہادی علیہ السلام کی خدمت میں ان کی حاضری ہے۔ روایات کے مطابق آپ نے اپنے عقائد امام علی نقی ہادی علیہ السلام کے سامنے پیش کئے اور توحید، نبوت، امامت، قیامت اور دیگر بنیادی اعتقادی اصولوں کے بارے میں اپنے یقین کا اظہار کیا، نیز ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی امامت کا اقرار کیا۔
یہ واقعہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی شخصیت کے ایک نہایت اہم پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ وہ صرف امام کی محبت کا دعویٰ کرنے والے نہیں تھے، بلکہ معرفتِ امام رکھنے، اپنے عقیدے کو امام کے سامنے پیش کرنے اور اپنی دینی بصیرت کی تصدیق حاصل کرنے والے صاحبِ معرفت مومن تھے۔
یہی واقعہ یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان محض جذبات کا نام نہیں؛ اسے معرفت، یقین اور اطاعت سے استحکام حاصل ہوتا ہے۔
توجہ رہے کہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی زندگی میں ولایت محض قلبی وابستگی نہیں، بلکہ ایک عملی ذمہ داری تھی۔ اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی تعلیمات کو سمجھا جائے، ان کے راستے پر چلا جائے اور اپنے کردار کو ان کے اخلاق سے آراستہ کیا جائے۔
آج محبتِ اہل بیت علیہم السلام کے اظہار کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی سیرت محبت کا ایک بلند تر مفہوم ہمارے سامنے رکھتی ہے کہ محبت اگر معرفت پیدا نہ کرے تو ادھوری ہے، معرفت اگر عمل تک نہ پہنچے تو بے اثر ہے، اور عمل اگر اخلاص سے خالی ہو تو اپنی روح کھو دیتا ہے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی زندگی میں محبت، معرفت اور عمل ایک حسین وحدت کی صورت میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی زندگی کا ایک روشن باب شہرِ رَی سے وابستہ ہے۔ آپ نے وہاں قیام کیا اور اہل ایمان کے درمیان دینی معارف کی ترویج اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ آج اسی سرزمین پر آپ کا حرمِ مطہر اہل بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والوں کے لئے ایک عظیم روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
حرمِ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا گنبد محض ایک تاریخی عمارت کا حصہ نہیں؛ وہ صدیوں کی عقیدت، معرفت اور ولایت کی یادگار ہے۔ وہاں حاضر ہونے والا زائر گویا تاریخ کے اس روشن باب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جہاں ایک عالمِ دین نے اپنے عہد کے فکری اور سیاسی اضطراب کے درمیان اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی ولادت کا دن محض جشن اور اظہارِ مسرت کا موقع نہیں؛ یہ معرفتِ دین، اصلاحِ کردار اور تجدیدِ عہد کی دعوت بھی ہے۔
آج معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر صحیح معرفت کی ضرورت کم نہیں ہوئی۔ اظہارِ محبت کے وسائل پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر محبت کو عمل میں ڈھالنے کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی سیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم حاصل کرو، مگر اسے عمل تک لے جاؤ؛ محبت کرو، مگر اسے وفاداری میں ڈھالو؛ ولایت کا اقرار کرو، مگر اسے کردار میں ظاہر کرو؛ اور دین کو جانو، مگر اپنی زندگی کو بھی دین کی روشنی میں سنوارو۔
یہی وہ پیغام ہے جو صدیوں کا فاصلہ طے کرکے آج بھی ہمارے سامنے پوری معنویت کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی شخصیت یہ حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ عظیم خاندان سے تعلق ایک گراں قدر نعمت ہے، لیکن شخصیت کا حقیقی کمال علم، تقویٰ، کردار اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔
آپ کو نسبتِ حسنی حاصل تھی، مگر آپ کی زندگی نے اس نسبت کو علم، عبادت، تقویٰ اور ولایت سے معنویت عطا کی۔ اسی لئے حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا تذکرہ صرف ایک بزرگ سید کے طور پر نہیں، بلکہ مخلص عالمِ باعمل اور مومنِ صاحبِ معرفت کے طور پر کیا جاتا ہے۔
زمانہ بدل گیا، حکومتیں بدل گئیں اور سیاسی نقشے بھی تبدیل ہوگئے، مگر حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی یاد آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ اس لئے کہ دنیا میں بعض نام اقتدار سے نہیں، کردار سے زندہ رہتے ہیں۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام نے دنیاوی اقتدار کے بجائے علم، تقویٰ اور ولایت کی خدمت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنایا۔ یہی وہ میراث ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتی بلکہ نسل در نسل روشنی بکھیرتی رہتی ہے۔
ان کے یومِ ولادت پر ہمیں صرف خوشی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے اندر یہ سوال بھی بیدار کرنا چاہیے کہ ہماری محبتِ اہل بیت علیہم السلام ہماری زندگی میں کس حد تک معرفت، اخلاق، عبادت اور عمل کی صورت میں جلوہ گر ہے؟
اگر یہ سوال ہمارے دل میں جاگ جائے تو یومِ ولادت محض جشن نہیں رہتا، بلکہ تجدیدِ عہد اور اصلاحِ ذات کا ایک بامعنی موقع بن جاتا ہے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی زندگی کا پیغام یہی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے نسبت کو صرف زبان پر نہیں، کردار میں زندہ رکھا جائے؛ ولایت کو صرف عقیدے میں نہیں، عمل میں محسوس کیا جائے؛ اور علم کو صرف کتابوں میں نہیں، زندگی کے رویّوں میں اتارا جائے۔
رَی کی سرزمین پر بلند ہوتا ہوا ان کا گنبد آج بھی خاموش زبان میں یہی پیغام دیتا محسوس ہوتا ہے کہ جو دل معرفتِ اہل بیت علیہم السلام سے روشن ہو جائے، اس کی روشنی زمانے کی تاریکیوں میں بھی اپنا راستہ بناتی رہتی ہے۔









آپ کا تبصرہ