اتوار 30 اگست 2026 - 20:46
وہ نور اُترا تو کائنات روشن ہوگئی

حوزہ/آغازِ کائنات سے پہلے کیا تھا؟ نہ سمت تھی، نہ جہت؛ نہ صبح تھی، نہ شام؛ نہ زمین تھی، نہ آسماں؛ نہ وقت کی گردش تھی، نہ مکان کی وسعت۔ ایک ذات تھی، ازل سے بے نیاز، ابد تک بے مثال، جس کی کبریائی کے سامنے ہر تصور ہیچ اور جس کی وحدانیت کے مقابل ہر کثرت بے حقیقت۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| آغازِ کائنات سے پہلے کیا تھا؟ نہ سمت تھی، نہ جہت؛ نہ صبح تھی، نہ شام؛ نہ زمین تھی، نہ آسماں؛ نہ وقت کی گردش تھی، نہ مکان کی وسعت۔ ایک ذات تھی، ازل سے بے نیاز، ابد تک بے مثال، جس کی کبریائی کے سامنے ہر تصور ہیچ اور جس کی وحدانیت کے مقابل ہر کثرت بے حقیقت۔

پھر مشیتِ الٰہی نے جلوہ دکھایا، فیضِ ازلی نے پردہ اٹھایا اور نورِ اوّل کا ظہور ہوا۔ روایاتِ اہل بیت علیہم السلام میں جس حقیقت کو نورِ محمد و آلِ محمد (علیہم السلام) کے عنوان سے یاد کیا گیا، وہی نورِ ہدایت کائنات کے لئے فیضِ الٰہی کا واسطہ بنا۔ یہی نورِ اوّل، یہی خلقِ اوّل، یہی عقلِ اوّل اور یہی وہ مقدس امانت تھی جو اصلابِ شامخہ سے ارحامِ مطہرہ تک منتقل ہوتی ہوئی بالآخر صلبِ عبداللہ میں جلوہ گر ہوئی۔

کائنات کی ہر بہار اسی نور کی خوشبو سے آشنا ہوئی، ہر صبح نے اسی نور کی کرن سے اجالا مانگا، ہر نبی نے اسی نور کی برکت سے اپنی رسالت کا چراغ روشن کیا اور ہر ولی نے اسی نور سے ولایت کا فیض پایا۔

وہ نور جس کے سامنے زمانہ بعد میں آیا، مکان بعد میں آیا؛ وہ نور جس کی آمد سے پہلے ہی کائنات اس کی منتظر تھی۔

انبیاء آئے، مگر جس کی خبر سنانے آئے

آدمؑ آئے تو علم کا دروازہ کھلا، مگر ان کے قلبِ مبارک میں جس حقیقت کا نور تھا، وہ محمدؐ کی آمد کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔

نوحؑ آئے تو طوفان نے زمین کو ڈھانپ لیا، مگر سفینۂ نجات کے بادبانوں میں ایک ایسی امانت تھی جو آنے والے نبیِ رحمت کی طرف اشارہ کرتی تھی۔

ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا تو آگ گلزار ہوگئی؛ مگر اس گلزار کے پھولوں میں بھی اس محبوبِ خدا کی خوشبو تھی جس کے لئے خلیلِ خدا کی نسل کو برگزیدہ رکھا گیا۔

موسیٰؑ کو کلیم اللہ بنایا گیا، عیسیٰؑ کو روح اللہ کہا گیا، داؤدؑ کو زبور عطا ہوئی، سلیمانؑ کو سلطنت ملی، یوسفؑ کو حسن بخشا گیا، مگر نبوت کا قافلہ ایک ایسے نقطۂ کمال کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں تمام انبیاء کی بشارتیں ایک نام پر آکر مکمل ہونی تھیں: محمد!

وہ نام جو تورات کی بشارتوں میں گونجا، انجیل کے صفحات میں جلوہ گر ہوا، صحفِ انبیاء میں اس کی آمد کی خبر دی گئی اور جس کا انتظار خود تاریخ کے سینے میں سانس لیتا رہا۔

صدفِ رسالت میں نور کی پرورش

پھر وہ ساعت آئی جب نورِ اوّل صلبِ عبداللہ علیہ السلام سے منتقل ہوکر رحمِ مطہرِ آمنہ سلام اللہ علیہا میں پہنچا۔

صدف کو گویا معلوم ہوگیا تھا کہ اس میں موتی معمولی نہیں۔ جنابِ آمنہ سلام اللہ علیہا اس امانت کی امین بنیں جس کے لئے زمین و آسمان مدتوں سے منتظر تھے۔ روایتوں میں اس زمانے کی ایک نورانی کیفیت کا ذکر ملتا ہے کہ ہر ماہ ایک نبی تشریف لاتے اور اس مولودِ مسعود کی آمد کی بشارت دیتے۔ آدمؑ نے آکر کہا: مبارک ہو! ادریسؑ آئے:

مبارک ہو! نوحؑ آئے، ابراہیمؑ آئے، داؤدؑ آئے، اسماعیلؑ آئے، سلیمانؑ آئے، موسیٰؑ آئے، اور جب نویں ماہ عیسیٰؑ تشریف لائے تو گویا آسمان نے زمین کو آخری پیغام دے دیا: اب انتظار ختم ہونے والا ہے؛ رحمت کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

ہر ماہ ایک بشارت تھی، ہر بشارت ایک اعلان؛ اور ہر اعلان اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ مکہ کی خاک پر اب وہ قدم پڑنے والا ہے جس کی برکت سے خاکِ مکہ افلاک سے زیادہ مقدس ہوجائے گی۔

مکہ نے جب اپنے محبوب کو دیکھا

اللہ نے اپنے محبوب کے لئے مکان بھی منتخب کیا تو مکہ کو منتخب کیا؛ زمان کا انتخاب ہوا تو ربیع الاول کو چنا گیا؛ اور تاریخ نے وہ دن محفوظ کرلیا جسے اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں سترہ ربیع الاول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ محض ایک تاریخ نہ تھی۔

یہ تاریخ کے ماتھے پر لکھی ہوئی وہ سطرتھی جس کے بعد انسانیت کی تقدیر بدلنے والی تھی۔ شب آئی تو کائنات پر ایک عجیب سکوت طاری ہوگیا۔ کسریٰ کے محل کے کنگورے لرز اٹھے، فارس کا آتش کدہ بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہوگیا اور مکہ کے بت اوندھے پڑ گئے۔ گویا باطل کے ایوانوں کو خبر ہوگئی کہ وہ آگیا ہے جس کے سامنے تمہارے تمام چراغ بے نور ہیں۔

شیطان نے آسمان کی طرف پرواز چاہی تو دروازے بند ملے۔ زمین کی طرف آیا تو مکہ کی حدود میں نور کے پہرے تھے۔ کیونکہ اب آسمانوں کی خبریں ہر کان کے لئے نہ تھیں؛ اب وحی کا امین ایک ایسی ہستی کے حضور اترنے والا تھا جس کا نام آسمانوں میں بھی عزت سے لیا جاتا تھا۔

اور پھر مکہ میں سورج طلوع ہوا

پھر وہ لمحہ آیا جس کے لئے تاریخ بے قرار تھی۔ آمنہ سلام اللہ علیہا کی آغوش میں وہ نور جلوہ گر ہوا جس کی روشنی سے زمانے کی تاریکیاں شکست کھانے والی تھیں۔

جس کے چہرے کی تابانی کے سامنے سورج بھی اپنی روشنی کا سوالی معلوم ہو، جس کی نسبت سے خوشبو کے وجود کی حکایتیں بیان کی جائیں، جس کے گزرنے سے راستے معطر اور مقامات منور ہونے کی روایات ملیں، اس محبوبِ کبریا کی آمد پر الفاظ بھی حیران تھے کہ آخر اس ولادت کی مدح کیسے کی جائے؟

اس نور نے جب زمین کو چھوا تو زبانِ مبارک پر توحید کا نغمہ جاری تھا: اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيراً، سُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً۔

یہ پہلا اعلان تھا کہ آنے والا انسانوں کو اپنی پرستش کے لئے نہیں، اللہ کی عبادت اور توحید کے لئے بلانے آیا ہے۔

ابوطالب علیہ السلام کے گھر کی وہ بشارت

عبدالمطلب علیہ السلام کی آنکھوں میں خوشی کے چراغ روشن تھے۔ ابوطالب علیہ السلام کے دل میں مسرت کا سمندر موجزن تھا۔

فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا نے اس نورانی بچے کو دیکھا تو دل میں ایک آرزو پیدا ہوئی: کاش! مجھے بھی ایسا بیٹا عطا ہوتا۔

مومن کامل ابوطالب علیہ السلام نے اپنی مومنہ زوجہ کی پیشانی پر ابھرتی ہوئی حسرت کو پڑھ لیا۔ فرمایا: غم نہ کرو؛ اللہ تمہیں بھی ایسا بیٹا عطا کرے گا جو اس کا وصی اور جانشین ہوگا۔

یہ صرف تسلی نہ تھی۔ یہ مستقبل کا اعلان تھا۔ تاریخ نے اس جملے کو اپنے سینے میں محفوظ کرلیا، یہاں تک کہ تقریباً تیس برس بعد خانۂ کعبہ کی آغوش نے ایک ایسے مولود کا استقبال کیا جس کے بارے میں زمانہ گواہی دے گا: یہ علیؑ ہیں۔

محمدؐ آئے تو رسالت کا آفتاب طلوع ہوا؛ علیؑ آئے تو ولایت کا آفتاب اس کے ساتھ روشن ہوگیا۔

سترہ ربیع الاول؛ دو ولادتیں، ایک نورانی سلسلہ

اور پھر قدرت نے ایک بار پھر سترہ ربیع الاول کو منتخب کیا۔ ایک ہی تاریخ، دو عظیم ولادتیں۔ ایک طرف محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم—خاتم النبیین، رحمت للعالمین، سید المرسلین، صاحبِ حوض و کوثر، شفیعِ روزِ جزا اور محبوبِ پروردگار۔

دوسری طرف اسی خانوادۂ نبوت کا وہ عظیم فرزند جس نے مدینہ کو مدرسہ، مسجد کو مکتب اور علم کو زندگی کا مقصد بنا دیا یعنی حجت رحمٰن ناطق قرآن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کو قرآن عطا کیا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے علومِ قرآن کے دریچے کھولے۔

اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کی بنیاد رکھی تو جعفر صادق علیہ السلام نے اس کے علمی خدوخال کو نسلوں تک پہنچایا۔

اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت بن کر آئے تو جعفر صادق علیہ السلام نے اسی رحمت کے علم، معرفت، اخلاق اور فقاہت کے چشمے جاری کئے۔

یہی وجہ ہے کہ سترہ ربیع الاول صرف جشنِ ولادت کا دن نہیں؛ یہ نبوت اور علم، رسالت اور معرفت، محمدؐ اور جعفرؑ کے نورانی رشتے کو یاد کرنے کا دن ہے۔

وہ نام جس کے لئے کائنات منتظر تھی، محمدؐ یعنی وہ نام جس میں محبت بھی ہے، رحمت بھی، ہدایت بھی، شفاعت بھی اور انسانیت کی نجات بھی، وہ احمد ہیں کہ آسمانوں نے ان کی حمد کی، وہ محمد ہیں کہ زمین و آسمان نے ان کی مدح کی، وہ سراجِ منیر ہیں کہ تاریک دلوں کو روشنی عطا کرتے ہیں، وہ بشیر ہیں کہ رحمت کی بشارت دیتے ہیں، وہ نذیر ہیں کہ غفلت سے جگاتے ہیں، وہ رحمۃ للعالمین ہیں کہ رحمت کو کسی قوم، نسل یا سرحد تک محدود نہیں کرتے، وہ مصطفیٰ ہیں کہ انتخابِ خدا ہیں، وہ امین ہیں کہ وحی کے امین ہیں، وہ خاتم النبیین ہیں کہ نبوت کا قافلہ ان کے وجود پر مکمل ہوا اور وہ عبد ہیں، کیونکہ محبوبیت کی سب سے بلند منزل بھی عبدیت ہی ہے۔

محبوبِ خدا کی ولادت، انسانیت کی صبح

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت دراصل ایک بچے کی ولادت نہیں تھی؛ یہ انسانیت کی نئی صبح تھی۔ یہ وہ صبح تھی جس میں غلام کو انسان ہونے کا شعور ملا، عورت کو عزت ملی، یتیم کو سہارا ملا، کمزور کو حق ملا، علم کو عبادت کا مقام ملا، اخلاق کو ایمان کا حصہ بنایا گیا اور انسان کو اپنے خالق سے جوڑنے والی راہ دکھائی گئی۔

یہ وہ صبح تھی جس نے بتوں کے سامنے جھکے ہوئے سروں کو توحید کے سامنے جھکنا سکھایا۔

یہ وہ صبح تھی جس نے عرب کے ریگستان سے اٹھ کر پوری دنیا کو پیغام دیا کہ خدا ایک ہے، انسان برابر ہیں، عدل لازم ہے، رحمت مطلوب ہے، علم ضروری ہے اور اخلاق دین کی روح ہے۔

اور اسی نورانی سلسلے میں امام جعفر صادق علیہ السلام تشریف لائے تاکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی شمع کو ایسے ہاتھوں میں دیں جو قیامت تک اسے روشن رکھ سکیں۔

سلام ہو اس نور پر!

سلام ہو اس نور پر جس نے ظلمتوں کے سینے چیر دیے۔

سلام ہو اس رسولؐ پر جس کی آمد سے انسانیت کو رحمت کا مفہوم ملا۔

سلام ہو اس مصطفیٰؐ پر جس کی سیرت اخلاقِ الٰہی کا آئینہ ہے۔

سلام ہو اس محمدؐ پر جس کا ذکر اذان میں بلند ہوا، جس پر درود آسمانوں سے اترتا ہے اور جس کی شفاعت کے امیدوار قیامت کے دن کھڑے ہوں گے۔

سلام ہو اس جعفر صادق علیہ السلام پر جس نے اپنے جدِّ امجدؐ کے علم کو مدینہ سے دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔

اور سلام ہو اس سترہ ربیع الاول پر جس نے ایک ہی دن میں تاریخ کو دو چراغ عطا کئے، ایک چراغِ رسالت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک چراغِ علم و ولایت، جعفر صادق علیہ السلام

اے ربیع الاول! تو صرف بہار کا مہینہ نہیں؛ تو وہ موسم ہے جس میں زمین نے آسمان سے ایک تحفہ وصول کیا تھا۔

اے سترہ ربیع الاول! تیری صبح کو سلام، تیرے سورج کو سلام، تیرے افق کو سلام،

اور اس نور کو ہزاروں سلام

جس کے طلوع ہوتے ہی کائنات نے گویا ایک ہی صدا میں کہا: مبارک ہو انسانیت!

رحمت کا رسول آگیا ہے۔

مبارک ہو اہلِ ایمان!

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت مبارک ہو۔

اللّٰهم صلِّ على محمدٍ وآلِ محمدٍ وعجّل فرجهم

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha