اتوار 30 اگست 2026 - 08:02
دنیا کا سمندر اور انسان کی نہ بجھنے والی پیاس

حوزہ/ اسی انسانی المیہ کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک مختصر مگر نہایت بلیغ تشبیہ کے ذریعہ بیان فرمایا ہے: مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ مَاءِ الْبَحْرِ، كُلَّمَا شَرِبَ مِنْهُ الْعَطْشَانُ ازْدَادَ عَطَشًا حَتَّى يَقْتُلَهُ. دنیا کی مثال سمندر کے پانی جیسی ہے؛ پیاسا جتنا اس میں سے پیتا جائے گا، اس کی پیاس اتنی ہی بڑھتی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دے گی۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

انسان کی زندگی ایک عجیب پیاس کا نام ہے۔ وہ دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ بنیادی ضرورتیں ہوتی ہیں؛ پھر خواہشیں جنم لیتی ہیں، خواہشیں آرزوؤں میں ڈھلتی ہیں، آرزوئیں مقاصد بنتی ہیں اور مقاصد ایک ایسی دوڑ کو جنم دیتے ہیں جس کی کوئی آخری منزل دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی یہی دوڑ انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، مگر دل کا سکون نہیں ہوتا۔

اسی انسانی المیہ کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک مختصر مگر نہایت بلیغ تشبیہ کے ذریعہ بیان فرمایا ہے: "مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ مَاءِ الْبَحْرِ، كُلَّمَا شَرِبَ مِنْهُ الْعَطْشَانُ ازْدَادَ عَطَشًا حَتَّى يَقْتُلَهُ"

"دنیا کی مثال سمندر کے پانی جیسی ہے؛ پیاسا جتنا اس میں سے پیتا جائے گا، اس کی پیاس اتنی ہی بڑھتی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دے گی۔"

یہ فرمان صرف ترکِ دنیا یا بے رغبتی کی تلقین نہیں کرتا، بلکہ انسانی نفس، خواہشات کی نفسیات، معاشرتی رویّوں اور روحانی زندگی کے ایک نہایت اہم پہلو کو آشکار کرتا ہے۔

سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے، مگر اس کا کھارا پانی پیاس نہیں بجھاتا۔ پیاسا اگر اسے آبِ حیات سمجھ کر پینا شروع کر دے تو ہر گھونٹ کے ساتھ اس کی پیاس بڑھتی جائے گی۔ دنیا کی بعض خواہشات بھی ایسی ہی ہیں۔ انسان سوچتا ہے: "بس اتنا مل جائے، پھر اطمینان ہو جائے گا۔" لیکن مطلوبہ چیز ملتے ہی دل ایک نئی منزل تلاش کرنے لگتا ہے۔

مال ملتا ہے تو مزید مال کی طلب پیدا ہوتی ہے؛ گھر ملتا ہے تو اس سے بڑا گھر مطلوب ہوتا ہے؛ ایک مقام حاصل ہوتا ہے تو اس سے بلند مقام کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ یوں انسان حصول کے ذریعہ اطمینان حاصل کرنے کے بجائے حصول کے بعد ایک نئی خواہش کا اسیر بنتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ کھارا پانی ہے جس کی طرف امامؑ نے متوجہ فرمایا ہے۔

دنیا اپنی ذات میں مذموم نہیں۔ اسلام حلال رزق کمانے، اہل و عیال کی کفالت کرنے، تعلیم حاصل کرنے، کاروبار کرنے، معاشی ترقی کی کوشش کرنے اور اللہ کی عطا کردہ جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے منع نہیں کرتا۔ مسئلہ دنیا کے وجود کا نہیں، دنیا کی غلامی کا ہے۔

مال ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے؛ مال دل پر قابض ہو جائے تو آزمائش ہے۔ منصب خدمت کا ذریعہ ہو تو سعادت ہے؛ منصب تکبر کا ذریعہ بن جائے تو وبال ہے۔ شہرت حق اور خیر کی خدمت کے لئے ہو تو وسیلہ ہے؛ شہرت خودنمائی اور برتری کا ذریعہ بن جائے تو حجاب ہے۔

اسی لئے زندگی کا ایک سنہرا اصول یہ ہے کہ دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو۔

انسان دنیا میں رہے، مگر دنیا اس کے اندر نہ اترے؛ وہ مال کمائے، مگر مال اسے نہ خرید لے؛ وہ ترقی کرے، مگر ترقی اس کی آخری منزل نہ بن جائے۔

آج کے صارفیت پسند معاشرے میں اس حدیث کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جدید تشہیری نظام ہمیں صرف چیزیں نہیں بیچتا، بلکہ اکثر نئی خواہشیں بھی فروخت کرتا ہے۔ اشتہار ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے پاس موجود چیز کافی نہیں؛ بازار ہمیں نئی چیز کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے؛ اور سوشل میڈیا ہمیں دوسروں کی زندگی کے منتخب اور خوش نما لمحات دکھا کر مسلسل موازنے کی طرف دھکیلتا ہے۔

چنانچہ انسان اپنی زندگی کو اپنی ضرورت سے نہیں، دوسروں کے معیار سے ناپنے لگتا ہے۔

کسی کا نیا گھر دیکھ کر اپنا گھر چھوٹا محسوس ہوتا ہے؛ کسی کی نئی گاڑی دیکھ کر اپنی گاڑی پرانی لگنے لگتی ہے؛ کسی کی کامیابی دیکھ کر اپنی کامیابیاں معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نعمت موجود ہوتی ہے، مگر احساسِ محرومی پیدا ہو جاتا ہے۔

کبھی انسان کے پاس وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کے لئے اس نے برسوں دعا کی ہوتی ہے، لیکن اب اس کی نظر اس پر نہیں رہتی؛ اس کی نگاہ اس چیز پر ہوتی ہے جو ابھی اس کے پاس نہیں۔ یہی خواہش کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں۔

حرص صرف مال جمع کرنے کا نام نہیں۔ زیادہ شہرت، زیادہ تعریف، زیادہ اختیار، زیادہ آسائش اور دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش بھی انسان کو بے چین رکھ سکتی ہے۔ جب انسان اپنی قدر و قیمت کو ان چیزوں سے وابستہ کر لیتا ہے تو اس کی شخصیت کا مرکز اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی نگاہ بن جاتا ہے۔

پھر سوال بدل جاتا ہے کہ "اللہ میرے بارے میں کیا جانتا ہے؟" کے بجائے

"لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟"

یہ تبدیلی انسان کے باطن میں ایک خاموش شکست کا آغاز ہے۔

اس کے مقابلے میں قناعت دل کی آزادی کا نام ہے۔ قناعت کا مطلب ترقی سے دست برداری یا محنت سے کنارہ کشی نہیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش میں کمی نہ کرے، مگر دل کو حرص کا غلام نہ بننے دے۔

کوشش پوری ہو، مگر حرص نہ ہو۔ انسان زیادہ کمائے، مگر حرام راستہ اختیار نہ کرے۔ بہتر زندگی کی کوشش کرے، مگر دوسروں کو حقیر نہ سمجھے۔ نعمتوں سے فائدہ اٹھائے، مگر انہیں اپنی شخصیت کا معیار نہ بنائے۔ کامیابی ملے تو شکر کرے، ناکامی آئے تو مایوسی کے بجائے اللہ پر توکل اور دوبارہ کوشش کا راستہ اختیار کرے۔

عقیدۂ آخرت اس پورے تصور کو ایک نئی سمت عطا کرتا ہے۔

جو شخص دنیا کو آخری منزل سمجھتا ہے، اس کے لئے زیادہ سے زیادہ جمع کرنا ہی کامیابی کا معیار بن سکتا ہے۔ لیکن جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ دنیا کی نعمتوں کو امانت اور آزمائش سمجھتا ہے۔

وہ خود سے پوچھتا ہے کہ یہ مال مجھے کیوں دیا گیا؟ یہ وقت کہاں صرف ہوا؟ یہ صلاحیت کس مقصد کے لئے استعمال ہوئی؟ میرے مال میں دوسروں کے حقوق کہاں ہیں؟

اس طرح مال اس کے لئے مقصد نہیں رہتا، بلکہ آخرت کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ گھر بناتا ہے، مگر اس میں محبت اور عبادت بھی بساتا ہے۔ وہ مال کماتا ہے، مگر اس میں حقوق العباد کو فراموش نہیں کرتا۔ وہ دنیا میں رہتا ہے، مگر دنیا کو اپنی آخری منزل نہیں سمجھتا۔

روایت کے آخری الفاظ نہایت فکر انگیز ہیں کہ "حَتَّى يَقْتُلَهُ" یعنی یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دے۔

دنیا کی محبت اکثر انسان کو ایک ہی لمحے میں نہیں گراتی؛ اس کی گرفت آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی ہے۔ ابتدا میں انسان دنیا کے لئے تھوڑا سا وقت قربان کرتا ہے، پھر عبادت اور ذمہ داریوں کے مقابلے میں دنیاوی مصروفیات بڑھنے لگتی ہیں۔ رفتہ رفتہ حلال و حرام کے درمیان حساسیت کم ہوتی ہے، حقوق العباد ثانوی محسوس ہونے لگتے ہیں اور موت و آخرت کی یاد دھندلا جاتی ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان کے پاس دنیا بہت ہوتی ہے، مگر دل کا سکون کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی روحانی ہلاکت کی ایک شکل ہے۔

اس حدیث کا پیغام فرد تک محدود نہیں؛ خاندان اور معاشرے کے لئے بھی اس میں گہری رہنمائی ہے۔ اگر بچوں کو ابتدا ہی سے یہ سکھایا جائے کہ خوشی مہنگی چیزوں، برانڈز، جدید آلات یا دوسروں سے زیادہ رکھنے میں ہے تو ان کے اندر خواہشات کا ایسا سمندر پیدا ہو سکتا ہے جس کا کوئی ساحل نہیں۔

لیکن اگر ان کی تربیت شکر، قناعت، سادگی، محنت، خدمت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کی جائے تو وہ نعمت کو حق نہیں، عطیہ سمجھیں گے۔

بچے کو صرف یہ نہ سکھایا جائے کہ "تمہارے پاس کیا ہے؟" بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ "جو کچھ تمہارے پاس ہے، اس پر اللہ کا شکر کیسے ادا کرنا ہے؟"

یہی تربیت ایک فرد کے مزاج سے نکل کر پورے معاشرے کے مزاج کو بدل سکتی ہے۔

حقیقی دولت کا تعلق صرف جیب سے نہیں، دل کی کیفیت سے بھی ہے۔ جس کے پاس بہت کچھ ہو مگر ہر وقت مزید کی بے چینی ہو، وہ ظاہری طور پر دولت مند ہو سکتا ہے، لیکن باطنی طور پر محتاج ہے۔ اور جس کے پاس محدود وسائل ہوں، مگر دل شکر سے معمور، حلال پر قانع، دوسروں کے حقوق کا پاس رکھنے والا اور آخرت کی فکر سے وابستہ ہو، اس کے پاس ایسی دولت ہے جسے دنیا کا کوئی بازار خرید نہیں سکتا۔ قناعت غربت نہیں؛ قناعت دل کی آزادی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ ارشاد صدیوں کا فاصلہ طے کرکے آج کے انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھتا ہے۔ اس آئینہ میں ایک پیاسا انسان دکھائی دیتا ہے؛ اس کے سامنے پانی ہی پانی ہے، مگر وہ پانی اس کی پیاس بجھانے کے بجائے اسے مزید پیاسا کر رہا ہے۔

آج کا انسان بھی اسی سمندر کے کنارے کھڑا ہے۔ اس کے سامنے دولت، شہرت، ٹیکنالوجی، آسائشیں، خریداری، مقابلہ اور نمائش کے بے شمار ساحل ہیں؛ مگر بنیادی سوال آج بھی وہی ہے کہ کیا ہم دنیا کی نعمتیں استعمال کر رہے ہیں، یا ہماری خواہشیں ہمیں استعمال کر رہی ہیں؟

دنیا کو چھوڑنا ضروری نہیں؛ دنیا پرستی چھوڑنا ضروری ہے۔ نعمتوں سے محروم ہونا ضروری نہیں؛ نعمتوں کا غلام بننا چھوڑنا ضروری ہے۔ ترقی سے دست بردار ہونا ضروری نہیں؛ ترقی کو زندگی کا واحد معیار سمجھنا چھوڑنا ضروری ہے۔ کیونکہ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے دنیا سے کتنا حاصل کیا؛ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ دنیا حاصل کرتے ہوئے اس نے اپنے رب کو کتنا پہچانا، اپنی ذمہ داریوں کو کتنا نبھایا اور اپنی آخرت کے لئے کتنا سرمایہ جمع کیا۔

دنیا کا سمندر کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، اس کا کھارا پانی دل کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ دل کی حقیقی آسودگی معرفتِ الٰہی، قناعت، شکر، نیک عمل اور آخرت کی امید سے پیدا ہوتی ہے۔

دنیا کو ضرورت کے مطابق حاصل کرو، اللہ کو مقصدِ زندگی بناؤ، نعمت پر شکر کرو، خواہش کو حدود میں رکھو، اور اپنے دل کو اس سمندر کا پیاسا نہ بننے دو جس کا پانی پیاس بجھانے کے بجائے پیاس بڑھاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha