حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لنگر خانہ حسین آباد لکھنؤ ہندوستان میں گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی 9 ربیع الاول کو جشنِ عید زہراء سلام اللہ علیہا جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ جشن کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد مولانا سید علی ہاشم عابدی نے محفلِ فضائل سے خطاب کیا۔
انہوں نے امام علی رضا علیہ السلام کی حدیثِ مبارک ’’دین کا کمال ہماری ولایت ہے اور ہمارے دشمنوں سے براءت ہے‘‘ کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تولی و تبری کا تعلق انسانی فطرت اور وجدان سے ہے۔ انسان جس سے محبت اور عشق کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے براءت اور بیزاری بھی اختیار کرتا ہے۔
مولانا سید علی ہاشم نے کلمۂ ’’لا إله إلا الله‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ کلمہ ہے جس کے اقرار سے انسان کا صرف ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن بھی پاک ہوتا ہے، تاہم اس کلمہ میں بھی پہلے تمام باطل معبودوں سے براءت کا اعلان ہے، اس کے بعد وحدہٗ لا شریک کا اقرار و اعتراف کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح خدا کو ماننے کے لئے جھوٹے خداؤں کا انکار ضروری ہے، حقیقی رسول کو ماننے کے لئے جھوٹے مدعیانِ نبوت کا انکار کرنا ہوگا، اسی طرح حقیقی ائمہ معصومین علیہم السلام کا اقرار کرنے کے لئے باطل اماموں کا انکار بھی ضروری ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کی، قرآن کریم میں تحریف کی، حلالِ محمدی کو حرام اور حرامِ محمدی کو حلال قرار دیا۔ جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے باہر کیا تھا، انہیں واپس بلایا گیا، جبکہ ابوذر جیسے سچے اور حق گو صحابی کو جلاوطن کر دیا گیا۔ دشمنوں نے اصحابِ پیغمبر کی توہین کی، انہیں قتل کیا، اذیتیں دیں اور بھوک و پیاس میں مبتلا رکھا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن چاہے خدا کا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو یا اہل بیت علیہم السلام کا، اس سے براءت اور بیزاری ضروری ہے۔ اگر کوئی اللہ کو مانے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کو نہ مانے تو وہ دشمن ہے اور اس سے براءت لازم ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اللہ اور رسول کو مانے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کا انکار کرے اور ان سے دشمنی رکھے تو اس سے بھی براءت لازم و ضروری ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اہل بیت علیہم السلام کو مانے، مثلاً امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا اقرار کرے، لیکن اللہ اور رسول کا انکار کرے، جیسے نصیری، تو وہ بھی ان افراد میں شامل ہے جن سے براءت ضروری ہے۔
مولانا سید علی ہاشم عابدی نے مؤمنین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہم نماز، روزے اور دیگر شرعی احکام میں اپنے مرجعِ تقلید کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں تبری کے معاملے میں بھی مراجعِ عظام کے فتاویٰ کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بہجت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے اس فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’اگر مشرق میں کسی کے تبری کی وجہ سے مغرب میں کسی مومن کو قتل کیا جائے تو یہ اس کے قتل میں شریک ہے‘‘، مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ سعودی عرب، امارات، افغانستان، شام اور اسی طرح پاکستان کے بعض علاقوں میں شیعہ مؤمنین دشمن کے محاصرے میں ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس سلسلہ میں خصوصی توجہ اور احتیاط کی ضرورت ہے، بالخصوص سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہمارے کسی دینی بھائی، یعنی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے شیعہ یا امام حسین علیہ السلام کے عزادار کو پریشانی یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو جذبات کے بجائے سمجھ داری سے کام لینا چاہیے، دشمن کی سازشوں کو سمجھنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے استعمال میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے، تاکہ ہم دشمن کی کسی سازش کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی ہمارے کسی جذباتی اقدام سے کسی مومن یا مومنہ کو تکلیف پہنچے۔
خطاب کے اختتام پر مقامی شعراء نے بارگاہِ اہل بیت علیہم السلام میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔









آپ کا تبصرہ