تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
حضرت ابو محمد امام حسن عسکری علیہ السلام کا یہ مختصر مگر نہایت عمیق فرمان آج کے دور میں ہمارے لئے ایک اہم اخلاقی، سماجی اور دینی رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے: "إیّاکَ وَالإذاعَةَ وَطَلَبَ الرِّئاسَةِ، فَإِنَّهُمَا یَدْعُوَانِ إِلَى الْهَلَكَةِ."
’’اِذاعہ اور ریاست و سربراہی کی طلب سے بچو، کیونکہ یہ دونوں ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔‘‘
اس حدیث میں "اِذاعہ" کا لفظ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ عربی میں اِذاعہ کے معنی کسی بات کو عام کرنا، پھیلانا اور دوسروں تک پہنچانا ہیں۔ اس لئے ہر بات کا ہمارے علم میں آ جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے ہر شخص تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔
بعض باتیں معلومات ہوتی ہیں، بعض امانت؛ اور امانت کا تقاضا ہمیشہ اظہار نہیں ہوتا۔ کبھی امانت کا تقاضا خاموشی، پردہ پوشی، احتیاط اور حفاظت بھی ہوتا ہے۔
یہی وہ اخلاقی بصیرت ہے جس کی آج کے سوشل میڈیا کے دور میں ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
اصحابِ سر: علم کے ساتھ امانت اور بصیرت
ائمۂ معصومین علیہم السلام کے بعض خاص اور قابلِ اعتماد اصحاب کو روایات اور تاریخی کتب میں اصحابِ سر کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ ان کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام سے حاصل ہونے والی ہر بات کو ہر شخص کے سامنے بیان نہیں کرتے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ ہر بات ہر کان کے لئے نہیں، ہر حقیقت ہر ذہن کے لئے نہیں اور ہر موقع ہر بات کے اظہار کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔
ان کے نزدیک علم محض اظہار کی چیز نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ایک بات درست ہونے کے باوجود اگر نامناسب شخص، نامناسب وقت یا نامناسب ماحول میں بیان کی جائے تو اس کے نتائج نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
یہی امانت، بصیرت اور مصلحت شناسی آج ہمارے لئے قابلِ عمل سبق ہے۔
دور حاضر میں"اِذاعہ" یعنی ایک کلک اور پوری دنیا میں بات پھیل گئی۔ جب کہ گزشتہ زمانے میں انسان کی گفتگو ایک محدود حلقے تک پہنچتی تھی، لیکن آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک ایسا ذریعۂ ابلاغ دے دیا ہے جس کے ذریعہ ایک جملہ، تصویر یا ویڈیو چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لئے آج زبان کی حفاظت کے ساتھ انگلیوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
کسی خبر کو شیئر کرنا، کسی ویڈیو کو فارورڈ کرنا، کسی اشتعال انگیز پوسٹ کو دوبارہ نشر کرنا یا کسی حساس مواد کو عام کرنا محض ایک معمولی عمل نہیں؛ اس کے سماجی اور اخلاقی نتائج ہوسکتے ہیں۔
اس لئے مؤمن کو ہر پوسٹ یا خبر آگے بڑھانے سے پہلے خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ خبر درست اور قابلِ اعتماد ہے؟ کیا اسے نشر کرنا واقعی ضروری ہے؟ کیا اس سے اصلاح ہوگی یا فساد؟ کیا کسی مومن کی دل آزاری ہوسکتی ہے؟ کیا مذہبی یا فرقہ وارانہ دشمنی بڑھ سکتی ہے؟ اور کیا اس کے نتائج کسی دوسرے مومن کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں؟
یہ سوالات ہمیں آزادیِ اظہار سے ذمہ داریِ اظہار کی طرف لے جاتے ہیں۔
قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک نہایت واضح اور حکیمانہ اصول بیان فرمایا: "وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ" (سورۂ انعام، آیت 108)"اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے."
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے بھی ایسا طرزِ عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے جو جوابی توہین، فساد اور دشمنی کا سبب بن جائے۔
قرآن باطل کو حق تسلیم کرنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ باطل کی مخالفت بھی حکمت اور اخلاق کے ساتھ کی جائے۔
اپنے مقدسات سے محبت کے لئے دوسروں کے مقدسات کو کھلم کھلا برا کہنا ضروری نہیں؛ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت بیان کرنے کے لئے کسی دوسرے مذہب یا مکتب کی تحقیر ضروری نہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی توہین کی مذمت کرنا اور اسی توہین کو دوبارہ نشر کرنا ایک چیز نہیں۔
اگر کوئی شخص کسی مذہب یا مقدس شخصیت کی توہین کرتا ہے تو اس کی مذمت اپنی جگہ درست اور ضروری ہوسکتی ہے، لیکن اس مذمت کے نام پر اسی توہین آمیز ویڈیو، تصویر یا عبارت کو بڑے پیمانے پر دوبارہ نشر کرنا ہمیشہ دانشمندانہ نہیں۔
بسا اوقات ہم جس چیز کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، اپنی پوسٹ کے ذریعہ اسی کی تشہیر کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔
لہٰذا جہاں کسی واقعہ کی اطلاع دینا یا اس پر ردعمل دینا ضروری ہو، وہاں بہتر ہے کہ توہین آمیز مواد کو غیر ضروری طور پر دوبارہ نشر کرنے کے بجائے اصولی، باوقار اور حکیمانہ انداز میں اس کی مذمت کی جائے۔
یہاں صرف نیت نہیں بلکہ نتیجے کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ نیت اچھی ہو، لیکن طریقۂ کار مزید اشتعال، نفرت یا فساد کا باعث بن جائے تو مؤمن کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔
اسی طرح یہ پہلو خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ مثلا ہندوستان میں بہت سے شیعہ مومنین کو اپنے مذہبی شعائر، مجالس، عزاداری اور عقائد کے اظہار کے لئے نسبتاً بہتر مواقع حاصل ہیں۔ ہم بہت سے مقامات پر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری، مجالس اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ لیکن دنیا کے ہر خطے میں ہمارے مومن بھائیوں کے حالات یکساں نہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور بعض دیگر ممالک میں رہنے والے شیعہ مومنین بعض اوقات اقلیتی حیثیت، مذہبی حساسیت، سماجی دباؤ یا دیگر دشوار حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ بلکہ وہاں کام کرنے والے ہمارے ہندوستانی مومنین بھی ان دشوار حالات کا سامنا کرتے ہیں۔
اس لئے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بات ہمارے لئے یہاں محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہے، ضروری نہیں کہ دوسرے ملک میں رہنے والے ہمارے مومن بھائی کے لئے بھی اس کے نتائج اتنے ہی معمولی ہوں۔
ہم ہندوستان میں بیٹھ کر کسی موضوع پر جذباتی انداز میں کوئی ایسی بات لکھ یا نشر کرسکتے ہیں جس کا براہِ راست نقصان ہمیں محسوس نہ ہو، لیکن ممکن ہے اس کے اثرات کسی دوسرے ملک میں رہنے والے ہمارے شیعہ بھائی تک پہنچیں۔
وہاں کسی مومن سے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے، کسی مذہبی سرگرمی کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں یا کسی خاندان کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اسی لئے اپنی آزادی کے ساتھ دوسرے مومنین کی مصلحت کو پیشِ نظر رکھنا بھی اخوتِ ایمانی کا تقاضا ہے۔
لہٰذا ہر مؤمن کو اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا میری آزادیِ اظہار کسی دوسرے مومن کے لئے مصیبت یا آزمائش کا سبب تو نہیں بن رہی؟
صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ مجھے یہ بات کہنے کی آزادی حاصل ہے۔ بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر میں یہ بات نشر کروں گا تو اس کے ممکنہ نتائج کس کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں؟
ممکن ہے ہماری ایک پوسٹ ہمیں چند لمحوں کی جذباتی تسکین دے، لیکن اسی پوسٹ کے نتائج کسی ایسے مومن کو برداشت کرنے پڑیں جو پہلے ہی حساس یا مشکل حالات میں زندگی گزار رہا ہو۔
اس لئے ہماری آزادی کسی دوسرے مومن کی آزمائش نہ بنے۔ ہماری پوسٹ کسی مومن کی مشکل نہ بنے۔ ہمارا جذباتی اظہار کسی عزادار کی پریشانی کا سبب نہ بنے۔ یہی اخوتِ ایمانی، ایثار اور دینی بصیرت ہے۔
ہم شیعۂ علی علیہ السلام ہیں۔ ہمیں اپنے عقیدے سے محبت ہے، اپنے مقدسات سے محبت ہے، امام حسین علیہ السلام سے محبت ہے اور عزاداری ہمارے دینی و ایمانی احساس کا اہم حصہ ہے۔
لیکن محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام صرف جذبات کا نام نہیں؛ اس کے ساتھ بصیرت، حکمت، صبر، اخلاق اور مصلحت شناسی بھی ضروری ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں حق سے محبت کے ساتھ حق کو حکمت کے ساتھ بیان کرنا بھی سکھاتی ہیں۔
ہر اختلاف کو جنگ بنانا دانشمندی نہیں۔ ہر اشتعال کا جواب اشتعال سے دینا شجاعت نہیں۔ ہر خبر کو پھیلانا خدمت نہیں۔ اور ہر خاموشی بزدلی نہیں۔
بعض اوقات خاموشی مومن کی حفاظت ہوتی ہے، اور بعض اوقات ایک بات نہ کہنا ہی بڑی حکمت ہوتی ہے۔
آج ہمارا موبائل بھی ہمارے اخلاق اور تقویٰ کا امتحان ہے۔ ہماری پوسٹ ہماری سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہمارا تبصرہ ہمارے اخلاق کو ظاہر کرتا ہے۔ اور ہمارا شیئر ہماری ذمہ داری کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس لئے کسی چیز کو نشر کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر میری یہ پوسٹ کسی مومن کو اذیت پہنچائے، کسی دوسرے ملک میں رہنے والے میرے شیعہ بھائی کے لئے مشکل پیدا کرے تو کیا میں اسے پھر بھی شیئر کروں گا؟
اگر جواب میں ذرا بھی تردد ہو تو رک جانا بہتر ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت ہمیں صرف اپنے جذبات کے اظہار کا حق نہیں دیتی، بلکہ ہمیں دوسروں کے لئے رحمت، حکمت اور خیر کا ذریعہ بننے کی ذمہ داری بھی دیتی ہے۔
ہمیں ایسا پیغام پھیلانا چاہیے جو دلوں کو جوڑے، دل نہ توڑے؛ علم دے، اشتعال نہ دے؛ حق واضح کرے، فساد نہ پھیلائے؛ اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، مگر دوسرے مومن کو خطرے میں نہ ڈالے۔
آخرکار مؤمن کی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ اس نے کتنی باتیں نشر کیں، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس نے کتنی ایسی باتیں نشر کرنے سے اپنے آپ کو روکا جن کے نتائج نقصان دہ ہوسکتے تھے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان "إیّاکَ وَالإذاعَةَ" آج ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر بات نشر نہ کرو، ہر خبر آگے نہ بڑھاؤ، ہر اشتعال کا جواب نہ دو، ہر توہین کو دوبارہ عام نہ کرو اور ہر جذباتی بات لکھنے سے پہلے اپنے ان مومن بھائیوں کو ضرور یاد کرو جو دنیا کے دوسرے خطوں میں شاید تم سے کہیں زیادہ حساس اور دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ہمیں عقیدہ بھی چاہیے اور حکمت بھی؛ جذبہ بھی چاہیے اور بصیرت بھی؛ حق گوئی بھی چاہیے اور مصلحت بھی۔ کیونکہ حقیقی محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام یہ ہے کہ ہماری زبان، ہمارا قلم اور ہماری انگلیاں کسی مومن کے لئے اذیت اور مشکل کا سبب نہ بنیں، بلکہ جہاں ممکن ہو، اس کے لئے امن، عزت اور آسانی کا ذریعہ بنیں۔
ہمیں اپنے اظہار کی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ ہم جو کچھ لکھتے اور نشر کرتے ہیں، اس کے اثرات صرف ہم تک محدود نہیں رہتے۔ کبھی ہماری ایک پوسٹ کسی دوسرے مومن کی آزمائش بن سکتی ہے، اور کبھی ہماری ایک محتاط خاموشی کسی مومن کی حفاظت کا سبب بن سکتی ہے۔
یہی "إیّاکَ وَالإذاعَةَ" کا عصرِ حاضر میں ایک اہم عملی پیغام ہے کہ ہر بات کہنا ضروری نہیں، ہر بات پھیلانا مناسب نہیں، اور ہر درست بات بھی ہر وقت، ہر جگہ اور ہر انداز میں بیان کرنا حکمت نہیں۔
اسی طرح یہ نکتہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ہماری کوئی پوسٹ، لائک، کمنٹ یا شیئر مومنین کے درمیان اختلاف و انتشار کا سبب نہ بنے، موجود اختلافات کو ہوا نہ دے، کسی مومن کی توہین نہ ہو اور نہ ہی ہمارا کوئی اقدام مذہب و ملت کی حرمت و وقار کو مجروح کرنے کا باعث بنے۔ اظہارِ رائے کے ساتھ حکمت، احتیاط اور ذمہ داری بھی لازم ہے۔









آپ کا تبصرہ