حوزہ نیوز ایجنسی: 23 ربیع الاول 201 ہجری وہ تاریخ ہے جب کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا قم مقدسہ میں وارد ہوئیں۔ روایات کے مطابق آپؑ مدینہ منورہ سے اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی جانب روانہ ہوئیں۔ سفر کے دوران ساوہ میں آپ کے قافلہ پر دشمنوں نے حملہ کیا، آپ کے بھائی بھتیجے سمیت سبھی شہید ہو گئے، اس صدمہ سے بلکہ بعض روایات کے مطابق زہر کے سبب آپ بیمار ہوئیں اور پھر قم تشریف لائیں، جہاں حضرت موسیٰ بن خزرج اشعری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے آپؑ کی میزبانی کی۔ آپؑ نے قم میں 17 روز قیام فرمایا اور اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قم آمد قم کی روحانی تاریخ کا ایک عظیم سنگِ میل ہے، لیکن قم کی علمی مرکزیت آپؑ کی آمد سے پہلے قائم ہوچکی تھی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے صحابی اور شاگرد جناب عیسی بن عبداللہ اشعری قمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے علماء اور محدثین اس شہر میں موجود تھے، زمانۂ ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہی میں قم حدیث، روایت، فقہ اور دینی معارف کے اہم مراکز میں شمار ہونے لگا تھا۔ اہل قم کے متعدد محدثین اور فقہاء ائمہ معصومین علیہم السلام سے علمی رابطے میں تھے، روایات حاصل کرتے اور انہیں آگے منتقل کرتے تھے۔ اسی لئے ابتدائی شیعی علمی تاریخ میں قم ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
اس علمی روایت کے درخشاں ناموں میں زکریا بن آدم قمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے جلیل القدر اصحاب، فقیہ اور راوی تھے اور امام علی رضا علیہ السلام سے ان کا خصوصی علمی تعلق تھا۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ قم اس دور میں محض اہل بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والا شہر نہیں تھا بلکہ فقہ، حدیث اور دینی معرفت کی فعال علمی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔
جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اکیلے نہیں تھے۔ قم میں آلِ اشعری اور دیگر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے متعدد محدثین، فقہاء اور راویوں نے علومِ اہل بیت علیہم السلام کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ قم کے علمی روابط کوفہ، مدینہ اور دیگر علمی مراکز تک پھیلے ہوئے تھے۔ روایات و معارف قم پہنچتے اور یہاں سے مختلف علاقوں تک منتقل ہوتے۔ اس علمی آمد و رفت نے قم کو رفتہ رفتہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی حدیثی و فقہی روایت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کردیا۔
یہی تاریخی پس منظر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے قم میں ورود کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ آپؑ ایسی سرزمین پر تشریف لائیں جہاں اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور علوم کی چراغ پہلے ہی روشن تھے، اور آپؑ کی مقدس نسبت نے اس چراغوں کو آفتاب بنا دیا۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم نے بعد کی صدیوں میں قم کی روحانی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ یوں قم میں ایک منفرد امتزاج پیدا ہوا: حرم نے دلوں کو ولایت سے جوڑا اور حوزہ نے ذہنوں کو علم و معرفت سے روشن کیا۔
مگر علمی مراکز کی تاریخ ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ سیاسی حالات، معاشرتی تبدیلیاں، حکمرانوں کی پالیسیاں اور علمی مراکز کی نقل و حرکت قم کی علمی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتی رہی۔ بعض ادوار میں علمی سرگرمیوں میں کمی آئی، لیکن قم کی علمی روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ محدثین، فقہاء اور علمی خاندانوں کی میراث مختلف صورتوں میں زندہ رہی۔
پھر جدید دور میں قم کی علمی تاریخ نے ایک فیصلہ کن موڑ لیا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری یزدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قم آمد اور حوزۂ علمیہ کی تجدید نے اس قدیم علمی سرزمین کو ایک نئے عہد میں منظم اور مضبوط علمی مرکز بنا دیا۔ انکی قم آمد کے بعد روز فتح خیبر 24 رجب المرجب 1340 ہجری (24 مارچ 1922) کو حوزۂ علمیہ قم کی تنظیم و استحکام کا نیا دور شروع ہوا۔ ان کے بعد آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے دور میں حوزۂ قم نے مزید وسعت اور استحکام حاصل کیا، جبکہ امام خمینی قدس سرہ، آیت اللہ گلپایگانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ مرعشی نجفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور دیگر بزرگ علماء نے اس علمی روایت کو آگے بڑھایا۔
یوں قم کی تاریخ میں ایک قابلِ توجہ علمی تسلسل سامنے آتا ہے: زمانۂ ائمہ معصومین علیہم السلام کے محدثین و فقہاء، زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے جلیل القدر اصحاب، صدیوں کے نشیب و فراز، پھر آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تجدید اور اس کے بعد بزرگ فقہاء و علماء کی مسلسل علمی کاوشیں۔
یہی تسلسل قم کو محض ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے ایک زندہ اور مؤثر علمی مرکز کی حیثیت عطا کرتا ہے۔
لیکن قم کی داستان نجف اشرف کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
نجف اشرف مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی فقہی و اجتہادی تاریخ کا ایک عظیم ستون ہے۔ 448 ہجری میں شیخ الطائفہ حضرت محمد بن حسن طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بغداد سے نجف منتقل ہوئے اور اپنی علمی سرگرمیوں کے ذریعہ نجف کو ایک بڑے علمی مرکز کے طور پر مستحکم کیا۔ ان کے بعد صدیوں تک علماء و فقہاء نے اس علمی روایت کو آگے بڑھایا۔ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، شیخ انصاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آخوند خراسانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ خوئی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور بے شمار دیگر علماء نے فقہ، اصول، حدیث اور اسلامی علوم کی خدمت کی۔
رواں سال 1448 ہجری میں شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے قائم کردہ حوزہ علمیہ نجف اشرف کو ایک ہزار سال مکمل ہو گئے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک طویل علمی تسلسل کی یاد دہانی ہے، جس نے سیاسی و سماجی نشیب و فراز کے باوجود اجتہاد اور تحقیق کی شمع کو روشن رکھا۔ آج مرجع اعلی دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کی زعامت و قیادت میں تعلیمی سفر بلکہ علمی قیادت و مرجعیت کا سفر جاری ہے۔
قم اور نجف دو علمی مراکز ہیں، مگر مقصد ایک ہے: علومِ اہل بیت علیہم السلام کی حفاظت، اجتہاد کی بقا اور امت کی فکری و اخلاقی رہنمائی۔ دونوں کو مقابلے کے بجائے تکمیل اور تعاون کی نظر سے دیکھنا چاہیے؛ ایک کی قوت دوسرے کی قوت ہے۔
تاریخ کے ایک مرحلے پر نجف کو شدید سیاسی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدام ملعون کے دور میں نجف کے حوزۂ علمیہ کو گرفتاریوں، جلاوطنیوں، نگرانی اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کے علمی ماحول کو شدید نقصان پہنچا اور بہت سے علماء و طلبہ عراق سے باہر جانے پر مجبور ہوئے۔ قم سمیت دیگر علمی مراکز نے ان ہجرت کرنے والے علماء و طلبہ کو علمی ماحول فراہم کیا۔ اس صورتِ حال نے قم کی عالمی علمی مرکزیت کو مزید وسعت دی، لیکن قم کی عالمی علمی حیثیت کو صرف نجف کی مشکلات کا نتیجہ قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں؛ اس کی جڑیں زمانۂ ائمہ معصومین علیہم السلام کی علمی روایت تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ تاریخ ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے: علم کسی ایک حکومت، کسی ایک دور اور کسی ایک شہر کا محتاج نہیں ہوتا۔ حالات بدلتے ہیں، علمی مراکز متاثر ہوتے ہیں، علماء ہجرت کرتے ہیں، لیکن اگر علمی روایت زندہ ہو تو علم کا چراغ دوبارہ روشن ہوسکتا ہے۔
آج عالمِ تشیع ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں چیلنج صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور ابلاغی بھی ہیں۔ الحاد، تشکیک، فکری انتشار، تہذیبی مرعوبیت، فرقہ وارانہ تعصبات، جھوٹی معلومات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلنے والا پروپیگنڈا نئی نسل کے سامنے نئے سوالات کھڑے کررہا ہے۔
ایسے وقت میں صرف ماضی کی عظمت بیان کرنا کافی نہیں۔ ہمیں ماضی کی علمی میراث کو مستقبل کی زبان میں منتقل کرنا ہوگا۔
آج ایسے عالم کی ضرورت ہے جو قرآن و حدیث، فقہ و اصول اور اسلامی علوم میں گہری بصیرت رکھنے کے ساتھ جدید فلسفے، سائنس، معیشت، سیاست، سماج، میڈیا اور ٹیکنالوجی کے بنیادی سوالات کو بھی سمجھتا ہو۔ ایسا محقق جو روایت کا محافظ بھی ہو اور تحقیق کا علمبردار بھی؛ ایسا خطیب جو جذبات کو بصیرت میں تبدیل کرے؛ اور ایسا استاد جو نوجوانوں کے سوالات سے گھبرانے کے بجائے دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ ان کا جواب دے۔
یہی حقیقی علمی مزاحمت ہے۔ مزاحمت صرف میدانِ جنگ کا نام نہیں۔ جہالت کے مقابل علم مزاحمت ہے، جھوٹ کے مقابل سچ مزاحمت ہے، ظلم کے مقابل عدل مزاحمت ہے، نفرت کے مقابل اخلاق مزاحمت ہے اور فکری غلامی کے مقابل آزادانہ تحقیق بھی مزاحمت ہے۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی نسبت سے قم ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ولایت صرف محبت کا عنوان نہیں بلکہ معرفت، وفاداری اور ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ حضرت امام رضا علیہ السلام سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بارے میں "عارفاً بحقها" کے الفاظ منقول ہیں، یعنی ان کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت۔
یہی "معرفت" آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی تشیع چاہیے جو محبتِ اہل بیت علیہم السلام کو علم میں تبدیل کرے، علم کو اخلاق میں، اخلاق کو خدمت میں، اور خدمت کو عدل و انسانیت کی عملی جدوجہد میں تبدیل کرے۔
آج مشرقِ وسطیٰ جنگ و کشیدگی سے گزر رہا ہے، انسانی المیہ عالمی ضمیر کے لئے ایک بڑا سوال ہے، ایران شدید دباؤ اور تنازعات کا سامنا کررہا ہے، اور دنیا ایک وسیع فکری و ابلاغی کشمکش میں مبتلا ہے۔ ایسے حالات میں عالمِ تشیع کی ذمہ داری محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ بصیرت، اتحاد، حکمت، اخلاق اور حق پسندی ہے۔
23 ربیع الاول صرف ایک تاریخی واقعہ کی یاد نہیں؛ یہ علم، ولایت اور ذمہ داری کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مقدس سرزمینیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں؛ انہیں محدثین کی روایت، فقہاء کا اجتہاد، علماء کی محنت، اہلِ معرفت کی بصیرت اور نسلوں کی قربانی تشکیل دیتی ہے۔
قم کا حرم محبت و ولایت کی علامت ہے، قم کا حوزہ علم و معرفت کا مرکز؛ نجف کی روایت اجتہاد، تحقیق اور علمی استقامت کی علامت ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس عظیم میراث کو عصرِ حاضر کی زبان، نئی نسل کے سوالات اور انسانیت کے مسائل سے جوڑیں۔
آج ہمیں صرف اپنے بزرگ علماء کے صرف نام نہیں لینے ہیں؛ ہمیں ان کے علمی اخلاص، فکری بصیرت، اخلاقی جرأت اور خدمتِ دین کے جذبہ کو نئی نسل میں منتقل کرنا ہے۔
ہمیں ایسے مراکز درکار ہیں جو سوال سے نہ گھبرائیں، تحقیق سے نہ رکیں اور نوجوانوں کو فکری خلا کے حوالے نہ کریں۔ ہمیں ایسے علماء درکار ہیں جو منبر سے صرف جذبات نہ جگائیں بلکہ ضمیر بیدار کریں؛ صرف اختلاف نہ بتائیں بلکہ دلیل دیں؛ صرف ماضی نہ سنائیں بلکہ مستقبل کا راستہ دکھائیں۔
ہمیں ایسی تشیع درکار ہے جو مصیبت میں صبر، اختلاف میں اخلاق، طاقت کے سامنے حق، مظلوم کے لئے آواز، علم کے میدان میں تحقیق اور معاشرے میں خدمت کی علامت بنے۔
یہی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی نسبت کا حقیقی پیغام ہے، یہی قم و نجف کی علمی میراث کا تقاضا ہے، اور یہی آج عالمِ تشیع کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
قم کا چراغ زمانۂ ائمہ معصومین علیہم السلام سے روشن ہے، نجف کی شمع صدیوں سے فروزاں ہے؛ اب وقت ہے کہ ان دونوں کی روشنی کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی بنایا جائے۔
23 ربیع الاول ہمیں صرف ماضی پر فخر کرنے کے لئے نہیں آتا؛ یہ ہمیں عہد دلاتا ہے کہ علم کو زندہ رکھیں گے، معرفت کو عام کریں گے، حق کو دلیل کے ساتھ بیان کریں گے، نئی نسل کے سوالات کا سامنا کریں گے، اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی علمی و اخلاقی میراث کو آنے والی نسلوں تک پوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچائیں گے۔
تاریخ نے ہمیں چراغ دیے ہیں؛ اب چراغ جلائے رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
تحریر و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی









آپ کا تبصرہ