جمعرات 3 ستمبر 2026 - 17:11
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قم آمد؛ معارف اہل بیت (ع) کے فروغ کا نقطۂ آغاز ہے

حوزہ / آیت اللہ سید محمد سعیدی نے اس مقدس شہر میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی آمد (۲۳ربیع الاول ۲۰۱ھ) کی تاریخی اور تمدنی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے بابرکت وجود کی بدولت قم علم و معارف اہل بیت علیہم السلام کی نشر و اشاعت کا مرکز بنا اور اس تمدنی تحریک کے اثرات اس شہر سے دنیا کے مختلف خطوں تک پھیل گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطہر حضرت معصومہ (س) کے متولی آیت اللہ سید محمد سعیدی نے حرم مطہر کے شبستان امام خمینی (رہ) میں منعقدہ خادمان حرم مطہر کی خطبہ خوانی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی کے شہداء اور حالیہ واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا: وہ شہداء جنہوں نے برسوں انقلاب اسلامی کی راہ میں خدمت کی اور اس کی اقدار کی پاسداری کی، امت اسلامی کے درمیان ان کا مقام ہمیشہ باقی رہے گا اور ان کی یاد آنے والی نسلوں کو ذمہ داری اور خدمت کا راستہ یاد دلاتی رہے گی۔

انہوں نے آیت کریمہ «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَیْکُمْ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شہر قم آمد ایک تاریخی اور تمدنی واقعہ ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے تسلسل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے مزید کہا: اس مناسبت کو ایک الٰہی نعمت کے طور پر پہچانا جانا چاہیے اور اس کے آثار کی حفاظت اور پاسداری بھی ایک ذمہ داری ہے کیونکہ الٰہی شخصیات کی موجودگی اور دینی و علمی مراکز کا قیام دین اور توحیدی معارف کے فروغ کے لیے الٰہی وعدے کی تکمیل کے راستے کا حصہ ہے۔

حرم مطہر حضرت معصومہ (س) کے متولی نے کہا: قم کی علمی تحریک کی تشکیل کی جڑیں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے وجود سے ہیں۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی ولادت سے کئی سال قبل بھی قم میں ان کی آمد کی خبر دی گئی تھی اور ان کی موجودگی کی برکت سے یہ شہر علم و فضیلت کے اہم ترین مراکز میں تبدیل ہوگیا۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں قم کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: روایات میں قم کو ایسے شہر کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جہاں سے اہل بیت علیہم السلام کے علم و معارف دنیا کے مختلف خطوں تک پھیلیں گے اور حوزہ علمیہ قم بھی اسی تاریخی اور معنوی ظرفیت کے تسلسل میں وجود میں آیا اور ترقی کرتا رہا ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قم سے اٹھنے والی ایک شخصیت کے بارے میں روایت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس روایت میں ایک ایسی شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گی اور اس کے گرد ایک مضبوط اور ثابت قدم گروہ تشکیل پائے گا؛ ایسا گروہ جو دشمنوں کی سختیوں اور دباؤ کے مقابلے میں اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha