بدھ 26 اگست 2026 - 15:59
خدا، رسول اور امام کی معرفت دینداری کے بنیادی اصول ہیں: حجۃالاسلام حسین مومنی

حوزہ/ حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کے خطیب حجت‌الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے کہا ہے کہ خدا، رسول اور امام کی معرفت دینداری، بندگی اور انسانی کمال کی جانب سفر کے تین بنیادی اصول ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کے خطیب حجت‌الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے کہا ہے کہ خدا، رسول اور امام کی معرفت دینداری، بندگی اور انسانی کمال کی جانب سفر کے تین بنیادی اصول ہیں۔

انہوں نے ہفتہ وحدت کی دوسری شب اور میلاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و امام جعفر صادق علیہ السلام کی مناسبت سے حرم مطہر میں منعقدہ جشن سے خطاب کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اخلاقی خصوصیات اور سیرت پر روشنی ڈالی۔

حجت‌الاسلام والمسلمین مومنی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے لے کر حیات مبارک کے آخری لمحے تک آپ کی ذات خیر و برکت کا سرچشمہ رہی اور آپ کی رحمت آج بھی امت مسلمہ کے لیے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کی رغبت کی وجوہات میں آپ کی شرافت، سچائی، امانت داری اور حسن اخلاق کو اہم قرار دیا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی بھر سختیوں اور مخالفین کی اذیتوں کا سامنا کیا، لیکن کبھی رحمت اور بزرگواری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ مخالفین کی ہدایت اور بخشش کی کوشش کرتے رہے۔

انہوں نے صلوات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ روایات میں صلوات کی بہت تاکید ہوئی ہے اور استغفار کے ساتھ یہ ذکر دل کی پاکیزگی، روحانی آلودگیوں سے دوری اور خدا سے تعلق مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حجت‌الاسلام والمسلمین مومنی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینی معاشرے کی بنیاد رکھی، جبکہ ائمہ اطہار علیہم‌السلام نے صبر، جدوجہد اور علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے اسلام کے حقیقی راستے کو محفوظ رکھا۔ امام سجاد علیہ‌السلام نے صبر و مجاہدت کے ذریعے راستہ ہموار کیا، امام باقر علیہ‌السلام نے معارف اسلامی کو وسعت دی اور امام صادق علیہ‌السلام نے اس علمی و ثقافتی تحریک کو مزید مستحکم کیا۔

انہوں نے کہا کہ خدا، رسول اور امام کی معرفت انسان کو بندگی، کمال اور اللہ کی جانب سفر تک پہنچاتی ہے اور نیک انجام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ حقیقی معرفت کے ساتھ دینی تعلیمات پر عمل بھی ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha