منگل 15 ستمبر 2026 - 18:06
شیعہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار، اپنی دینی شناخت اور حریت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حوزہ/ جلالپور امبیڈکر نگر کے علمائے کرام کے ایک وفد نے نمائندۂ ولی فقیہ حجۃالاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی سے ایرانی کلچر ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر حجۃالاسلام ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے دینی شناخت، تشیع، حریت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر انسان کی کوئی نہ کوئی شناخت ہوتی ہے۔ کوئی شخص اپنے قبیلے کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے، کوئی خاندان کی وجہ سے معروف ہوتا ہے، کوئی اپنے ملک کی نسبت سے شناخت رکھتا ہے اور کوئی اپنی ملت و قوم کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ بعض شناختیں انسان کو پیدائش کے ساتھ ہی مل جاتی ہیں، جبکہ بعض شناختیں انسان کے کردار، عمل اور جدوجہد کے نتیجے میں وقت کے ساتھ نمایاں ہوتی ہیں۔ اس طرح شناخت انسان کی شخصیت، فکر، تہذیب اور وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ ہم امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پیروکار اور شیعہ ہیں، اور یہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ہم ایسی عظیم المرتبت شخصیت کے پیروکار ہیں جنہوں نے عدل، شجاعت، علم، تقویٰ اور انسانیت کے اعلیٰ اصول دنیا کے سامنے پیش کیے۔

شیعہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار، اپنی دینی شناخت اور حریت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حجۃ الاسلام و المسلمین حکیم الٰہی نے مزید کہا کہ ہمارے پاس حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جیسا مثالی کردار موجود ہے، جن کی سیرت پاکیزگی، عفت، عبادت، صبر، استقامت اور حق پرستی کا روشن نمونہ ہے۔ ہمارے پاس سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی عظیم ہستی ہے، جنہوں نے کربلا کے میدان میں حق و باطل کے درمیان ایسا تاریخی امتیاز قائم کیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ایسی عظیم ہستیوں سے وابستہ ہونا ہمارے لیے محض ایک مذہبی نسبت نہیں بلکہ ایک عظیم فکری، اخلاقی اور تہذیبی سرمایہ ہے۔

شیعہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار، اپنی دینی شناخت اور حریت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے کہا کہ جب ہماری شناخت اتنی عظیم اور قابلِ فخر ہے تو ہمیں اس کی حفاظت کیوں نہیں کرنی چاہیے؟ ہمیں اپنی دینی شناخت کو سمجھنا بھی چاہیے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل بھی کرنا چاہیے۔ شناخت صرف نام یا نسبت کا عنوان نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے عقائد، افکار، کردار، تہذیب اور عملی زندگی سے اس کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین حکیم الٰہی نے علماء کرام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو اس کی حقیقی شناخت سے روشناس کرایا جائے۔ اگر انسان اپنی تاریخ، اپنے اسلاف، اپنے عقائد اور اپنی تہذیبی جڑوں سے بے خبر ہوجائے تو وہ دوسروں کی تہذیب اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اصل شناخت سے دور ہوسکتا ہے۔ اس لیے علماء، دانشوروں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ نسلِ نو میں دینی شعور، فکری بصیرت اور اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کا احساس پیدا کریں۔

شیعہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار، اپنی دینی شناخت اور حریت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے حریت اور خودداری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزاد انسان وہ ہے جو اپنی شناخت، اپنے عقیدے اور اپنی اقدار پر اعتماد رکھتا ہو۔ دوسروں کی ترقی اور کامیابی سے فائدہ اٹھانا اچھی بات ہے، لیکن ترقی کے نام پر اپنی شناخت، تہذیب اور اصولوں سے دستبردار ہوجانا دانش مندی نہیں۔ قومیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ ترقی کے ساتھ اپنی تہذیبی اور فکری بنیادوں کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بعض لوگ ایسی شناخت کو بھی اپنی اصل شناخت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے حقیقتاً ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ کوئی افریقی ہونے کے باوجود خود کو امریکی کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور کوئی ہندوستانی ہوتے ہوئے برطانوی شناخت اختیار کرنے کو باعثِ اعزاز سمجھتا ہے، صرف اس لیے کہ ان ممالک کو ترقی یافتہ اور طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف ہمیں اپنی حقیقی شناخت پر اعتماد اور فخر ہونا چاہیے، کیونکہ عظمت دوسروں کی شناخت اختیار کرنے میں نہیں بلکہ اپنی اصل شناخت کو عزت و وقار کے ساتھ زندہ رکھنے میں ہے۔

انہوں نے علماء کرام سے کہا کہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی رہنمائی میں علماء کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ عوام، بالخصوص نوجوان نسل کے درمیان دینی شعور بیدار کریں، انہیں اپنی تاریخ اور ثقافت سے جوڑیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ اپنی شناخت پر فخر کرنا تنگ نظری نہیں بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں سے وفاداری ہے۔

ملاقات کے اختتام پر علمائے کرام کے وفد نے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کی گفتگو اور مفید نصیحتوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر دینی و معاشرتی امور سمیت مختلف اہم موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور ملاقات خوش گوار و مفید ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

شیعہ شناخت ہمارے لیے باعثِ افتخار، اپنی دینی شناخت اور حریت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

ملاقات میں مولانا ڈاکٹر رئیس حیدر واعظ، مدیر مدرسہ حوزہ علمیہ امام الصادق جلالپور، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا کرار حسین ترابی، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد جاوید نجمی، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا حیدر مہدی کریمی، مولانا ڈاکٹر محمد رضا، مولانا فرمان حیدر، مولانا سید احتشام حیدر، مولانا شاہد رضا اور مولانا مشیر عباس مصطفوی بھی موجود تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha