حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی نے روس میں ایرانی سفیر "کاظم جلالی" سے گفتگو کے دوران دشمنوں کی مسلسل سازشوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمن کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی آئندہ ختم ہوگی، لہٰذا امت مسلمہ کو ہمیشہ بیدار، باخبر اور متحد رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا: قرآن کریم نے مومنین کو دشمن کی سازشوں سے غافل نہ رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی شناخت، ایمان اور دینی اقدار کی حفاظت کرنا چاہتی ہے تو اسے ہر وقت دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے سابق سوویت رہنما میخائل گورباچوف کے نام تاریخی خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ خط صرف ایک سیاسی پیغام نہیں تھا بلکہ ایران کے فکری، علمی اور تمدنی تعامل کا ایک جامع نمونہ تھا۔ جس میں مادیت کے بجائے معنویت، عقلانیت اور الٰہی تعلیمات کی طرف دعوت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا: امام خمینی (رہ) نے اس خط کے ذریعہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام انسانیت کے تمام فکری اور روحانی مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور اسلامی تہذیب عالمی سطح پر تعمیری مکالمے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: آج بھی اسلامی معاشروں کو اسی حکمت، بصیرت اور فکری استدلال کے ساتھ دنیا سے رابطہ قائم کرنا چاہیے اور اپنی تہذیبی و دینی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: دشمن مختلف ذرائع سے اسلامی معاشروں کی فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے علماء، دانشوروں اور نوجوانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علم، بصیرت اور قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ان سازشوں کا مقابلہ کریں۔









آپ کا تبصرہ