حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مجمع عالی حکمت اسلامی آیت اللہ فیاضی نے آیت اللہ جوادی آملی کے گھر حاضر ہو کر ان سے ملاقات اور گفتگو کی۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اس ملاقات میں اس ادارہ کی انجام دی گئی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے دینی معارف کی خدمت کی توفیق کو الہی برکت اور انقلاب اسلامی کی نعمت قرار دیا اور دنیا کی موجودہ صورتحال میں حوزات علمیہ اور مجمع عالی حکمت کے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا: آج کی دنیا ایک بڑے شہر کی مانند ہے اور حوزات علمیہ کو پہلے سے زیادہ اپنے علمی فرائض ادا کرنے چاہئیں۔ جس طرح فقہ میں مرحوم آیت اللہ بروجردی کے ابتکار اور طریقہ کار سے دوسرے مذاہب کی آراء اور نقطہ ہائے نظر پر توجہ دی گئی اور اسی چیز نے فقہ کو فروغ دیا، اسی طرح عقلی اور فلسفی علوم میں بھی مختلف مکاتب فکر اور نقطہ ہائے نظر کا علمی جائزہ اور تنقید کی جانی چاہیے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے یونیورسٹیوں میں مغربی فلسفہ کے مباحث کی وسیع موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یونیورسٹیوں میں فلسفہ کی تعلیم کا ایک اہم حصہ ہیگل اور کانٹ جیسے مفکرین کی آراء پر مشتمل ہے اور اسلامی فلسفہ یونیورسٹیوں میں زیادہ رائج نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حوزات علمیہ کو چاہیے کہ وہ اسلامی فلسفہ کی بنیادوں کو برقرار رکھتے اور مضبوط کرتے ہوئے اس علمی ورثے کو یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں مؤثر طریقے سے پیش کرنے کے لیے زمین ہموار کریں اور نئی نسل کی فکری ضروریات کا جواب دیں۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے معاد کے مسئلے پر انسان کے اہم ترین فکری اور اعتقادی مسائل میں سے ایک کے طور پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: مغربی فلسفہ کا معاد اور موت کے بعد کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن میں جو "یوم" اور "یومئذ" کے الفاظ آئے ہیں، وہ اکثر معاد کے بارے میں ہیں۔ مغربی فلسفہ اس بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتا کہ انسان مرنے کے بعد سڑ جاتا ہے یا اس کی روح نکل جاتی ہے جبکہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی کا موضوع بہت اہم ہے اور جب تک یہ معاشرے کا مسئلہ نہ بن جائے، فلسفہ اپنے اصلی فریضے تک نہیں پہنچ سکے گا۔









آپ کا تبصرہ