حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد مقدس جمکران میں آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کی امامت میں رہبرِ شہید اور ان کے اہل خانہ کی نمازِ جنازہ محض ایک مذہبی رسم نہیں تھی بلکہ توحید، بندگی اور انسانِ کامل کے مقام کی عملی تفسیر بھی تھی۔ اسی موضوع پر حضرت معصومہؑ یونیورسٹی کے رکنِ ہیئت علمی حجۃ الاسلام حمید رضا سروریان نے نماز، شہادت اور حقیقی بندگی کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ نماز درحقیقت انسانِ کامل میں صفاتِ الٰہی کے ظہور کا نام ہے۔ اس حقیقت کا کامل ترین نمونہ ائمۂ معصومینؑ ہیں اور ان کے بعد وہ شخصیات جو ان کے راستے پر چلتے ہوئے مقامِ قربِ الٰہی حاصل کرتی ہیں۔
ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفت "احدیت" اس کی یگانگی اور بے مثالی کی علامت ہے۔ اسی طرح جب انسان خالص بندگی اختیار کرتا ہے تو اس کی پوری زندگی توحید کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ آیت اللہ جوادی آملی نے رہبرِ شہید کی شخصیت میں اسی موحدانہ زندگی کی جھلک دیکھی، جہاں عبادت، اخلاص، مجاہدت اور شہادت ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر بن جاتے ہیں۔
حجۃ الاسلام سروریان نے کہا کہ حقیقی بندگی تقسیم نہیں ہوتی بلکہ انسان کے تمام اعمال اور کردار میں یکساں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔ مجاہدت، ایثار، شہادت اور خدا پرستی اسی ایک حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔
انہوں نے آیت اللہ جوادی آملی کے استعمال کردہ عنوان "حیِّ متألّہ" کو نہایت عمیق اور منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کی وہ تعریف ہے جو مادی نظریات سے بالکل مختلف ہے۔ قدیم فلسفے میں انسان کو "حیوانِ ناطق" کہا جاتا تھا، لیکن اسلامی حکمت کی نظر میں حقیقی انسان وہ ہے جو صرف خدا کا بندہ ہو اور اپنی تمام شناخت بندگیِ الٰہی میں تلاش کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی حقیقت کی تعلیم ہمیں نماز میں بھی ملتی ہے، جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں پہلے "عبدہ" اور پھر "رسولہ" کی گواہی دی جاتی ہے۔ اسی طرح حضرت علیؑ اور حضرت عیسیٰؑ نے بھی اپنی پہلی شناخت بندگیِ خدا کو قرار دیا۔
انہوں نے آخر میں قرآن کریم کی آیت "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد بندگیِ خدا ہے، اور موحد انسان کی تمام اخلاقی و روحانی صفات اسی حقیقت سے جنم لیتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ