حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں واقع مسجد اعظم میں ہفتہ وار درس اخلاقی کے دوران آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے نہج البلاغہ کی حکمت 191 کی تشریح کرتے ہوئے دنیا کی حقیقت، انسانی جسم کی کیفیت اور موت سے اس کے تعلق پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کے مطابق انسان دنیا میں ہمیشہ آفات، مصائب اور بتدریج فرسودگی کے خطرے میں ہے۔ ہر گزرتا دن انسان کی عمر میں سے کچھ کمی کرتا ہے اور اسے موت کے ایک قدم قریب لے آتا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ انسان کا جسم ہر روز کمزور ہوتا ہے۔ ظاہری ترقی یا کامیابی کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتا دن عمر کم کرتا ہے اور جسم فرسودگی کے قریب پہنچتا ہے۔ بیماریاں، حادثات اور قدرتی طور پر کمزوری مسلسل جسم کو نشانہ بناتی ہے۔
انہوں نے روح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو چیز فنا اور زوال کا شکار ہے وہ انسان کا جسم یے نہ کہ اس کی روح۔ روح ایک مجرد اور ملکوتی وجود ہے جو علم، تفکر، عبادت اور معرفت کے ذریعے نہ صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہ رجب کے روحانی ایام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان بغیر کسی مادی قیمت کے اس ماہ میں بڑی روحانی دولت حاصل کر سکتا ہے کیونکہ روح کی ترقی مادی وقت اور عمر پر منحصر نہیں۔
آخر میں انہوں نے حکومت الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ نظام امامت و امت کا بنیادی کام جہالت کی جڑیں اکھاڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں ہونے والے بہت سے مظالم اور بے قانونیاں جہالت کی علامت ہیں اور ان سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن، عترت اور ولایت الٰہی کی طرف واپسی ہے۔









آپ کا تبصرہ