یادداشت: علی جعفر
حوزہ نیوز ایجنسی| ان کی شہادت نے بہت سوں کو زندگی دی؛ اختلافی نظریات کو جوڑ دیا، شہید کی شہادت زندگی بن گئی۔
یہ سارے مناظر آپ سوشل میڈیا پے ملاحظہ کررہے ہوں گے۔
ان کی زندگی کے ہر پہلو بہت اہم اور غور طلب ہے ۔چاہیے وہ سیاسی پہلو ہو ،علمی پہلو ہو ،اخلاقی پہلو ہو یا مزاحمتی پہلو ،تمام کے تمام قابل عمل اور قابل غورو فکر ہیں ۔
میں آج شہید رہبر کی زندگی کا صرف ایک پہلو آپ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔
شہید رہبر کی ابتدائی ایام سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ پچپن سے ہی بہادر ،شجاع اور بابصیرت شخصیت تھے۔
اس حوالے سے خود رہبر معظم نے اپنی یاداشت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ زیادہ تر مزاحمتی شخصیات کا شوق سے مطالعہ کرتے ،اور ان کے زندگی سے استفادہ کرتے ،ان میں سے ایک جن مزاحمتی شخصیات کا آپ نے مطالعہ کیا اور قریب سے ان کی زندگی کو دیکھا ،وہ شہید نواب صفوی کی شخصیت تھی ۔نواب صفوی خود ایک مزاحمتی شخصیت تھی ،جنہوں نے انقلاب سے پہلے شاہ کے مظالم کے خلاف قیام کیا ،اور درجہ شہادت حاصل کیں ۔
دوسری شخصیت جن سے آپ متاثر تھے ،وہ امام خمینی رح کی شخصیت تھی ،امام خمینی رح نے انقلاب کی آبیاری کی ،اس کے لئے مختلف شاگردوں کی پرورش کیں ،ان شاگردوں میں سے ایک شہید رہبر کی ذات تھی ،جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس راہ میں وقف میں گزرے ۔شہید رہبر امام خمینی رح کے قریب ترین اور بااعتماد لوگوں میں سے ایک تھا ۔جن پر امام اعتماد کرتے ،اور مختلف ذمہ داریاں دیتے تھے ۔شہید رہبر کی آدھی سے زیادہ زندگی امام خمینی رح کے زیر سایہ گزری ،انقلاب سے پہلے امام کے خطوط اور پیغامات کو مختلف شخصیات تک آپ پہنچایا کرتا تھا ۔
دوسری اہم بات جس سے آپ کی زندگی میں مزاحمتی پہلو کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے وہ مختلف تحریکوں اور تنظمیوں کی تشکیل ہیں ۔
یہی متحرک اور مزاحمتی شخصیت تھی جس کی وجہ سے آپ کو کئی دفعہ قید مشقت برداشت کرنے پڑے۔
انقلاب کے بعد کا اگر ہم آپ کی زندگی کا مطالعہ کرے تو یہ بات ہمیں سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی ،خصوصا پینتالیس روزہ ایران امریکہ جنگ،غزہ اسرائیل جنگ ،یمن ،عراق اور اسرائیل جنگ میں آپ شخصیت کا یہ پہلو ہمارے سامنے واضح ہوتے ہیں ۔
اگر آج ایران پورے عالم کفر اور علم منافقت سے مد مقابل ہے تو وہ آپ کی محنت ،بصیرت اور مزاحمت کی وجہ سے ہے ۔
شہید رہبر کی زندگی کا ہر پہلو قابل تحقیق اور قابل عمل ہیں ،خصوصا جدید ثقافتی وفکری جنگوں کےلئے مزاحمتی پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہیں ۔
اگر آج مسلمان دنیا میں کمزور ہیں تو اس کی اصل وجہ دشمن کے مقابل میں مزاحمت اور مقاومت نہ کرنے کی وجہ سے ہیں ۔
اگر آج مسلمان ایران کی طرف مزاحمت کرتے ،تو پوری دنیا میں مسلمانوں کی حکومت ہوتی ۔لیکن افسوس مسلمانوں نے رہبر شہید کی زندگی سے یہ سبق نہیں سیکھا ،نہ اس پر عمل پیرا ہوئے، یہی وجہ ہے کہ آج سعودی عرب ،افغانستان، پاکستان، مصر، اردن، شام، ترکی، عرب امارات، قطر وغیرہ امریکہ کے غلامی کرنے میں مجبور نظر آتے ہیں۔
تمام دنیا کے مسلمانوں کو شہید رہبر رح کے زندگی کے اس خاص پہلو پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہیں ۔
اگر ایسا نہ ہوا تو پھر آنے والے نسلیں بھی غلامی کی زنجیر میں جھگڑے رہیں گی۔









آپ کا تبصرہ