ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 21:30
قیامِ توابین؛ کربلا کے بعد ضمیر کی بیداری اور انتقامِ خونِ حسینؑ کی پہلی مسلح صدا

حوزه/دشتِ نینوا میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام، اپنے وفادار اصحاب و انصار سمیت شہید کئے جاچکے تھے۔ خیمے جلائے جاچکے تھے، اہلِ حرم کو اسیر بنا لیا گیا تھا اور یزیدی اقتدار یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کرکے حسینیت کی آواز کو بھی خاموش کردیا ہے۔ مگر تاریخ نے بہت جلد ثابت کردیا کہ امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا جاسکتا ہے، حسینیت کو نہیں؛ امام حسین علیہ السلام کے جسمِ اطہر کو خاک میں دفن کیا جاسکتا ہے، مگر ان کے پیغام کو نہیں۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزه نیوز ایجنسی!

کربلا ختم ہوچکی تھی، مگر کربلا کا سوال ابھی باقی تھا۔

دشتِ نینوا میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام، اپنے وفادار اصحاب و انصار سمیت شہید کئے جاچکے تھے۔ خیمے جلائے جاچکے تھے، اہلِ حرم کو اسیر بنا لیا گیا تھا اور یزیدی اقتدار یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کرکے حسینیت کی آواز کو بھی خاموش کردیا ہے۔

مگر تاریخ نے بہت جلد ثابت کردیا کہ امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا جاسکتا ہے، حسینیت کو نہیں؛ امام حسین علیہ السلام کے جسمِ اطہر کو خاک میں دفن کیا جاسکتا ہے، مگر ان کے پیغام کو نہیں۔

کربلا کے میدان میں تلواریں خاموش ہوئیں تو کوفہ و شام کے درباروں میں خطابت نے قیام کیا۔ امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام نے اسیری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ انہوں نے دربارِ ظلم میں کھڑے ہوکر کربلا کو زندہ رکھا اور دنیا کو بتادیا کہ شہادت کے بعد بھی حق کا سفر جاری رہتا ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بے مثال خطابت اور امام زین العابدین علیہ السلام کی بصیرت افروز گفتگو نے یزیدی اقتدار کے اس دعوے کو خاک میں ملا دیا کہ کربلا میں حق کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ جنہیں قیدی سمجھا گیا تھا، وہی ظلم کے خلاف سب سے بلند آواز بن گئے؛ اور جنہیں فاتح سمجھا جارہا تھا، وہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے نظر آنے لگے۔

بالآخر اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ اموی حکومت کے رویے میں تبدیلی آئی اور انہیں مدینہ روانہ کیا گیا۔ شام میں اہلِ بیت علیہم السلام کی عزاداری نے گویا یہ اعلان کردیا کہ مقتل میں امام حسین علیہ السلام کا خون بہا ضرور ہے، مگر شکست امام حسین علیہ السلام کی نہیں بلکہ یزیدی فکر و اقتدار کی ہوئی ہے۔

کوفہ؛ جہاں خطوط بھی تھے اور خاموشی بھی

کربلا سے پہلے کوفہ نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھے تھے، محبت کے دعوے کئے تھے اور نصرت کے وعدے کئے تھے۔ لیکن جب ابن زیاد نے خوف، دھمکی اور سیاسی جبر کا ماحول پیدا کیا تو بہت سے لوگ پیچھے ہٹ گئے۔

کچھ لوگ ابن زیاد کے لشکر میں شامل ہوگئے، کچھ نے خاموشی اختیار کرلی اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں قید کردیا گیا تاکہ وہ کربلا تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور جناب مختار ثقفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی ان افراد میں شامل تھے جو واقعۂ کربلا کے وقت قید میں تھے۔

لیکن کربلا گزرنے کے بعد ان کے سامنے ایک ایسا سوال کھڑا ہوگیا جس سے فرار ممکن نہ تھا: کیا امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے محرومی کے بعد صرف افسوس کافی ہے؟

یہ سوال صرف جناب سلیمان بن صرد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نہیں تھا؛ یہ کوفہ کے اس اجتماعی ضمیر کا سوال تھا جو کربلا کے بعد اپنے آپ کو مجرم سمجھ رہا تھا۔

توبہ کا دروازہ

جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگوں کو جمع کیا۔ انہوں نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے خطا ہوئی کہ ہم نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا، لیکن ابھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔

یہ الفاظ صرف ایک تقریر نہیں تھے؛ یہ ایک تحریک کی بنیاد تھے۔ لوگ جمع ہوئے، اپنی سابقہ کوتاہی پر نادم ہوئے اور قاتلانِ حسینؑ سے انتقام کے لئے بیعت کی۔ اسی لئے انہیں توابین کہا گیا۔

یہ نام اپنے اندر پوری تحریک کی روح سموئے ہوئے تھا کہ ہم خطاکار تھے؛ ہمیں اپنی خطا کا کفارہ ادا کرنا ہے۔

61 ہجری سے 64 ہجری تک توابین نے خاموشی کے ساتھ تیاری کی۔ بظاہر وقت گزر رہا تھا، مگر حقیقت میں کربلا کے بعد ایک نئی مزاحمتی فکر تشکیل پارہی تھی۔

کربلا کی طرف واپسی

ربیع الاول 65 ہجری میں جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت میں توابین کا لشکر کوفہ سے روانہ ہوا۔

لیکن ان کا پہلا رخ دشمن کے لشکر کی طرف نہیں، بلکہ کربلا کی طرف تھا۔ وہ کربلا پہنچے۔ وہاں شہدائے کربلا کی قبروں کے سامنے کھڑے ہوئے۔

جن لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی زندگی میں ان کی نصرت نہ کی تھی، وہ اب ان کی قبر کے سامنے اپنی بے بسی اور کوتاہی کا اعتراف کررہے تھے۔ آنکھوں میں آنسو تھے، دلوں میں حسرت تھی اور زبانوں پر توبہ۔ کربلا میں اس دن صرف چند افراد نہیں رو رہے تھے؛ کوفہ کا وہ ضمیر رو رہا تھا جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کھڑا نہ ہوسکا تھا۔ ان کا گریہ محض غم کا اظہار نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو بدلنے کا عہد بھی تھا۔

کربلا سے وہ شام کی جانب روانہ ہوئے، جہاں ان کا مقصد قاتلانِ حسینؑ سے مقابلہ کرنا تھا۔

عین الوردہ؛ جہاں توبہ نے خون کا لباس پہنا

یکم ربیع الثانی 65 ہجری کو عین الوردہ کے مقام پر توابین اور اموی لشکر کے درمیان جنگ ہوئی۔

جنگ سے قبل جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منقول آدابِ جنگ کے مطابق اپنے جانشین مقرر کئے۔
(الکامل فی التاریخ، ج 4، ص 180-181)

جنگ شروع ہوئی۔ تلواریں چلیں۔ صفیں ٹکرائیں۔ توابین کے جانباز ایک کے بعد دوسرے میدان میں اترتے اور شہید ہوتے گئے۔ ان کے قائدین یکے بعد دیگرے شہید ہوتے گئے، مگر کربلا کا غم ان کے قدم نہیں روک رہا تھا۔

آخرکار جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی شہید ہوگئے۔ رفاعہ بن شداد نے باقی ماندہ افراد کو جنگ سے روک دیا اور وہ کوفہ واپس لوٹ آئے۔
(تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، ج 1، ص 48)

عین الوردہ نے توابین سے ان کے بہت سے جانباز چھین لئے، لیکن ان کے خون نے تاریخ میں ایک نیا باب ضرور رقم کردیا۔

کیا توابین ناکام ہوگئے؟

اگر کامیابی کا معیار صرف میدانِ جنگ ہو تو توابین کامیاب نہیں ہوئے۔

لیکن اگر تاریخ کو صرف تلوار کے ترازو سے نہ تولا جائے تو منظر مختلف نظر آتا ہے۔

توابین نے ایک ایسی روایت کو جنم دیا جس میں کربلا محض ایک غم ناک واقعہ نہیں رہی بلکہ ظلم کے خلاف عملی جدوجہد کا سرچشمہ بن گئی۔

یہ تحریک بارش کے پہلے قطرے کی مانند تھی۔ پہلا قطرہ شاید زمین کو سیراب نہ کرسکے، لیکن وہ آنے والی بارش کی خبر ضرور دیتا ہے۔

توابین کی شکست کے بعد کربلا کا انتقام ختم نہیں ہوا؛ بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔

مختار؛ ایک نئے مرحلے کی ابتدا

قیامِ توابین کے دوران جناب مختار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ قید میں تھے۔ جب انہیں جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اور توابین کی شکست کی خبر ملی تو انہوں نے باقی ماندہ افراد سے تعزیت کی اور انہیں اپنے آئندہ قیام میں شرکت کی دعوت دی۔
(تاریخ طبری، ج 5، ص 606)

یوں توابین کا خون ایک دوسری تحریک کے لئے زمین ہموار کرگیا۔

توابین نے جس سوال کو میدان میں اٹھایا تھا، قیامِ مختار نے اسی سوال کو ایک نئے سیاسی و عسکری مرحلے میں آگے بڑھایا۔

کربلا کے بعد انتقام کی پہلی مسلح صدا اگر توابین تھے تو اس صدا کی اگلی گونج قیامِ مختار میں سنائی دی۔

شکست کے اسباب

تاریخی واقعات کے مطالعہ سے قیامِ توابین کی ناکامی کے کئی اسباب سامنے آتے ہیں:

1۔ جناب مختار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا عدمِ تعاون: جناب مختار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جناب سلیمان بن صرد خزاعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بعض سیاسی و عسکری نظریات سے متفق نہیں تھے اور قیادت کے حوالے سے بھی ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا، اس لئے وہ قیامِ توابین کا حصہ نہیں بنے۔

2۔ شہادت کو مقصدِ قیام کا مرکزی حصہ بنانا: توابین کے ایک بڑے حصے کے لئے اپنی سابقہ کوتاہی کا کفارہ ادا کرنا اور شہادت حاصل کرنا بنیادی جذبہ تھا۔ اس کے نتیجے میں وسیع سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی محدود رہی۔

3۔ عسکری قوت میں واضح تفاوت: توابین کی تعداد اور وسائل اموی لشکر کے مقابلے میں کم تھے، جس نے جنگ کے نتیجے پر گہرا اثر ڈالا۔

4۔ پیچیدہ سیاسی حالات: اس زمانے میں مختلف سیاسی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ سرگرم تھیں۔ آلِ زبیر اور دیگر سیاسی عوامل نے بھی توابین کی تحریک کے لئے حالات کو مزید پیچیدہ کردیا۔

البتہ توابین کی سب سے بڑی میراث ان کی عسکری فتح نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری تھا۔
انہوں نے آنے والی نسلوں کو یہ بتایا کہ کربلا صرف آنسو بہانے کا نام نہیں؛ کربلا اپنے ضمیر کو زندہ رکھنے کا نام بھی ہے۔
انہوں نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا، توبہ کی اور پھر اپنے اعتراف کو عمل میں بدلنے کی کوشش کی۔
یہی وجہ ہے کہ توابین تاریخ میں صرف ایک شکست خوردہ لشکر کے طور پر نہیں بلکہ کربلا کے بعد بیدار ہونے والے ضمیر کی پہلی مسلح آواز کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

کربلا 10 محرم 61 ہجری کو ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کی عبادت میں زندہ رہی۔ وہ حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کی خطابت میں زندہ رہی۔ وہ اہلِ حرم کے آنسوؤں میں زندہ رہی۔ وہ مدینہ کی عزاداری میں زندہ رہی۔ اور پھر وہ کوفہ کے ان دلوں میں زندہ ہوئی جنہوں نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔

توابین اسی زندہ کربلا کا پہلا مسلح اظہار تھے۔

انہوں نے میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل نہ کی، مگر انہوں نے اس فکر کو شکست نہیں ہونے دی جو کربلا کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا امام حسین علیہ السلام کے پیغام کے خلاف ہے۔

اسی لئے توابین کا سفر کربلا سے عین الوردہ تک محض ایک لشکر کا سفر نہیں تھا؛ یہ ندامت سے عزم، خاموشی سے مزاحمت اور شکست سے آنے والی تحریکوں تک پہنچنے والا ایک تاریخی سفر تھا۔ ان کا خون زمین پر گرا، مگر اس نے تاریخ کے ضمیر کو جگایا۔ اور تاریخ کا یہ سبق آج بھی باقی ہے:

کربلا کے بعد سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو کس نے قتل کیا؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد ہم نے حق کے ساتھ کیا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha