اتوار 2 اگست 2026 - 13:50
سرزمین کربلا پر فوجی حملہ دراصل سرزمین کعبہ پر حملہ ہے: مجمع علماء و واعظین پوروانچل

حوزہ/مولانا ابنِ حسن املوی نے کہا کہ سعودیہ و امریکہ کی جانب سے کربلائے معلیٰ عراق پر جارحانہ حملے انتہائی اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ بھی ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کیونکہ کربلائے معلیٰ کی عظمت و فضیلت اور حرمت حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے کسی قیمت کم نہیں، بلکہ زیادہ ہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا ابنِ حسن املوی نے کہا کہ سعودیہ و امریکہ کی جانب سے کربلائے معلیٰ عراق پر جارحانہ حملے انتہائی اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ بھی ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کیونکہ کربلائے معلیٰ کی عظمت و فضیلت اور حرمت حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے کسی قیمت کم نہیں، بلکہ زیادہ ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکتبِ تشیع کے نزدیک روایات کے مطابق زمین کربلا زمین کعبہ سے بھی پہلے مقدس قرار دی گئی ۔سید الشہداء حضرت اما م حسین علیہ السلام کی شہادت کی وجہ سے اس مٹّی کو عظیم روحانی عظمت ملی۔ شیعہ فقہ اور روایات میں کربلا کی مٹی (تربت) اور اس کی زیارت کو انتہائی فضیلت والا مانا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عظیم شیعہ عالم جناب ابن قولویہ کی کتاب کامل الزیارات کے حاشیہ میں روایت نقل ہوئی ہے کہ خداوند عالم نے پہلے زمین کعبہ کو خلق کیا اس کے بعد دیگر زمینوں کو زمین کعبہ سے پھیلایا ،دوسری زمینوں کو خلق کیا جن میں سے ایک زمین کربلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمین کی تشکیل کے بعد خانہ کعبہ کو اس خدائی فضل پر فخر ہوا کہ وہ تخلیق میں زمین کا پہلا نقطہ ہے اور زمین کی پہلی تخلیق اسی سے ہوئی ہے، یہی وہ موقع تھا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زمین کعبہ کو صدا آئی کہ خاموش ہو جاؤ اگر میں نے سرزمین کربلا کو خلق نہ کیا ہوتا تو تمھیں بھی خلق نہ کرتا‘‘۔اس سے واضح ہوا کہ اگر سرزمین کربلا نہ ہوتی تو سرزمین کعبہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔اس طرح سر زمین کربلا سرزمین کعبہ سے افضل و بہتر ہے۔

مجمع علماء و واعظین پوروانچل کے رکن نے کہا کہ افسوس ایسی مقدس اور محترم سرزمین پر سعودیہ اور امریکہ نے مل کر کربلا،بغداد،بصر ہ سمیت عراق کے سات مقامات پر جارحانہ حملے کرکے نہ صر ف زمین کربلا کے تقدس کو پامال کیا بلکہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی مذہبی اجتماع اربعین حسینی پیدل مارچ کے موقع پر مشی کے عین ایام میں زائرین امام حسین علیہ السلام پر بھی حملے کرکے نہ صرف اہل بیت اطہار سے اپنی دیرینہ عداوت کا ثبوت دیا، بلکہ انسانیت کو شرمسار کردیا۔

مولانا ابنِ حسن املوی نے کہا کہ قابل غور ہے کہ سعودیوں کے نزدیک تو خانہ کعبہ اور گنبد خضراء کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے وہ تو انکو صنم اکبر سے تعبیر کرتے ہیں ایسے میں اگر حرمین شریفین پر سنگبارانی کرنے والے اور اور واقعہ حرّہ کے بانی یزید ابن معاویہ کی طرح آج کے یزیدی نسل کے شامی حاکم بھی حج و عمرہ کے موقع پر مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں بھی معاذاللہ ثم معاذاللہ فوجی حملے کریں تو عالم اسلا م کا رد عمل کتنا اور کیسا سخت ہوگا ؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجمع علماء وواعظین پوروانچل کی جانب سے عراق میں بالخصوص کربلائے معلی اور زائرین کربلا پر سعودیہ و امریکہ کے مشترکہ فوجی حملوں کی پرزور اور سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور ادارۂ اقوام متحدہ کے ذمہ داران سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ ان اشتعال انگیز حملوں کے تعلق سے سعودیہ و امریکہ سے سخت باز پرس کی جائے، کیونکہ یہ حملے کسی ایک ملک یا کسی ایک قوم پر نہیں ہوئے ہیں، بلکہ جان بوجھ کر اربعین حسینی نجف تا کربلا مشی کے موقع پر انجام دیئے گئے ہیں جن میں دنیا کے مختلف ممالک اور مختلف اقوام کے لوگ ان دنوں اربعین مشی میں شرکت کے لئے کربلا عراق میں آئے ہیں جن کی تعداد تین سے چار کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha