ہفتہ 1 اگست 2026 - 14:58
اربعین کا سب سے بڑا درس استقامت اور ثابت قدمی ہے، آیت اللہ سعیدی

حوزہ/ قم المقدسہ کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ اربعین حسینی امتِ مسلمہ کے لیے استقامت، صبر اور ثابت قدمی کا عظیم درس ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے یہ واضح کیا کہ حقیقی کامیابی ظاہری غلبے میں نہیں بلکہ الٰہی اہداف کی تکمیل اور باطل نظام کو کمزور کرنے میں ہے، یہی پیغام آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ اربعین حسینی امتِ مسلمہ کے لیے استقامت، صبر اور ثابت قدمی کا عظیم درس ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے یہ واضح کیا کہ حقیقی کامیابی ظاہری غلبے میں نہیں بلکہ الٰہی اہداف کی تکمیل اور باطل نظام کو کمزور کرنے میں ہے، یہی پیغام آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ اربعین کی روح تقویٰ، خدا کی راہ میں قیام، دشمن کے سامنے تسلیم نہ ہونا اور منافقین پر اعتماد نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ اگر انسان صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑے تو بالآخر کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ انہوں نے امام حسینؑ کے فرمان "صَبراً بَنِی الْکِرَام" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی تاب آوری کربلا کے پیغام کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم و صفر کے ایام میں مسلسل عزاداری اور اربعین کے موقع پر لاکھوں زائرین کی پیدل شرکت اس استقامت اور دینی وابستگی کا عملی مظہر ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے قومی میڈیا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات اور حالیہ جنگی بحرانوں کے دوران میڈیا نے عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچایا اور اپنے محاذ سے پیچھے نہیں ہٹا۔

انہوں نے لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی جانب سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ بیعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ انقلاب نے لبنان کے مجاہدین کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ظلم و جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

امام جمعہ قم نے امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں حشد الشعبی کے مراکز پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی نے داعش کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کیا اور خطے کو دہشت گردی سے نجات دلانے میں اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عوامی قوت کی بھرپور حفاظت کرے اور بیرونی جارحیت کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

انہوں نے آیت اللہ شیخ فضل اللہ نوری کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلامی شریعت کی بالادستی کے لیے آخری سانس تک جدوجہد کی اور اپنی جان قربان کر دی۔

آیت اللہ سعیدی نے بے حیائی اور بے حجابی کو مغربی ثقافتی یلغار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام، بالخصوص مسلمان خواتین، اپنی دینی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ثابت قدم رہی ہیں اور آئندہ بھی اسلامی حجاب و عفت کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

خطبۂ اول میں انہوں نے سورۂ فتح کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے مطابق کامیابی کا معیار صرف فوری فوجی فتح نہیں بلکہ حق کی بقا، امن کے قیام، درست حکمتِ عملی اور الٰہی منصوبے کی تکمیل بھی حقیقی کامیابی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ بظاہر دشوار فیصلے بھی مستقبل میں اسلام کی عظیم فتوحات کا سبب بن سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha