حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ قرآن کریم اور سیرتِ نبویؐ میں صبر، استقامت اور مزاحمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب نے ہر طرح کی سختیوں کے باوجود حق کا راستہ نہیں چھوڑا، اسی استقامت نے اسلام کو زندہ رکھا اور آج بھی کامیابی کا راز یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے بھی گزشتہ چالیس دنوں کے سخت حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، میدان نہیں چھوڑا اور اپنے شہداء سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ ان کے بقول شہید رہبر انقلاب کی تشییع اور تعزیتی تقریبات میں ایران اور عراق میں کروڑوں افراد کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ عوام اپنے انقلابی نظریات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ تمام مراجع کرام نے مختلف انداز میں شہید رہبر انقلاب کو خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ عوام کی بھرپور شرکت نے قومی اتحاد اور انقلاب سے وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ انتقام کا مطالبہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ قرآنی اصول ہے، کیونکہ اگر ظالموں کا راستہ نہ روکا جائے تو وہ اپنے جرائم دہراتے رہیں گے۔
خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے غزہ میں جاری نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران چوتھی بار ایران پر حملہ کیا، اس لیے ایسے حالات میں ہتھیار ڈالنے کے بجائے باوقار دفاع ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے اربعین حسینیؑ کے موقع پر عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عزاداری سیدالشہداءؑ انسان کو خدا سے قریب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے رہبر انقلاب کے حالیہ پیغامات کو موجودہ حالات کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد اور ولایت فقیہ کے محور پر یکجہتی ہی ایران کی عزت، استقلال اور دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے میدان میں کامیابی آخرکار ثابت قدم قوم ہی کا مقدر بنتی ہے۔









آپ کا تبصرہ