حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، واقعۂ عاشوراء حضرت اباعبداللہ امام حسینؑ اور آپؑ کے وفادار ساتھیوں کی شہادت پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اسی لمحے سے نہضتِ حسینی کا ایک نیا باب اہلِ بیتؑ کی باخبر، باہمت اور شجاع خواتین کے کردار کے ساتھ شروع ہوا۔
اسی مقصد کے تحت "مکتبِ زینبی" کے سلسلۂ گفتگو میں ہم حجت الاسلام امیر حسن مظفریزاد، ماہر اور محققِ تاریخِ اسلام، سے گفتگو کے ذریعے اہلِ بیتؑ کی خواتین کے اس عظیم کردار کے مختلف اور زیرِ بحث نہ آنے والے پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جنہوں نے نہضتِ عاشوراء کو زندہ اور مؤثر رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ذیل میں اس تاریخی و تجزیاتی گفتگو کی مکمل تفصیل ملاحظہ فرمائیں!
واقعۂ کربلا میں مؤثر کردار ادا کرنے والی خواتین میں ایک ایسی شخصیت، جس پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے، ماریہ بنت سعد العبدیہ ہیں، جو بصرہ کی رہنے والی تھیں۔ وہ اس خطے کی نہایت مخلص، باایمان اور بہادر خاتون تھیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ تاریخی روایات کے مطابق اس زمانے میں شہرِ بصرہ اہلِ بیتؑ کے دشمنوں کے زیرِ تسلط تھا اور وہاں عثمانی فکر و جماعت کا غلبہ تھا۔
عثمانی اس گروہ کو کہا جاتا تھا جو حضرت عثمان کو ایک مظلوم مقتول خلیفہ سمجھتا تھا اور امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کو ان کے قتل کا اصل ذمہ دار قرار دیتا تھا۔
حالانکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ امیرالمؤمنینؑ نے حضرت عثمان کے قتل کو روکنے کے لیے بھرپور کوشش کی، یہاں تک کہ آپؑ کے حکم سے ان تک پانی بھی پہنچایا گیا؛ لیکن معاویہ کے پروپیگنڈے نے حقیقت کو مسخ کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ حضرت علیؑ حضرت عثمان کے قتل میں ملوث تھے۔ اسی منظم تشہیر کے نتیجے میں معاشرے میں امیرالمؤمنینؑ کے خلاف نفرت اور دشمنی کو فروغ دیا گیا اور لوگوں کی ذہن سازی اسی رخ پر کی گئی۔
اسی وجہ سے بصرہ میں شیعہ شدید دباؤ کا شکار تھے اور تعداد میں بھی اقلیت میں شمار ہوتے تھے۔ تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر میں شیعوں کے اجتماعات ماریہ بنت سعد العبدیہ کے گھر منعقد ہوتے تھے، جو اس عظیم خاتون کی بے مثال شجاعت، استقامت اور پختہ ایمان کی روشن دلیل ہے۔
ان کا گھر سیاسی و دینی گفتگو، احادیثِ اہلِ بیتؑ کی روایت اور شیعوں کے باہمی رابطے کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔
تاریخی مآخذ، جن میں کتاب "اعلام" اور ابومخنف کی روایات بھی شامل ہیں، کے مطابق جب حضرت اباعبداللہ امام حسینؑ کا مکتوب آپؑ کے غلام سلیمان کے ذریعے بصرہ کے معززین تک پہنچا، تو وہ سب اسی عظیم خاتون کے گھر میں جمع ہوئے۔
روایات میں آتا ہے کہ یزید بن نبیط کے دس بیٹے تھے، لیکن ان میں سے صرف دو فرزند، عبداللہ اور عبیداللہ، اپنے والد کے ہمراہ سرزمینِ نینوا کی جانب روانہ ہوئے۔
یہ دونوں خوش نصیب حضرت سید الشہداء امام حسینؑ کے قافلے میں شامل ہوئے اور امامؑ نے ان کا پرتپاک خیر مقدم فرمایا۔ آخرکار انہیں میدانِ کربلا میں امام حسینؑ کی رکاب میں شہادت کی عظیم سعادت نصیب ہوئی۔
اس بہادر اور باایمان خاتون کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں قبیلۂ عبدالقیس اور عامر کے متعدد افراد، نیز سیف بن مالک جیسے باوفا اشخاص بھی امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔
اس عظیم خاتون کی زندگی ایثار و قربانی کی درخشاں مثال ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کے شوہر اور بیٹے دونوں جنگِ جمل میں شہید ہوئے تھے، اس اعتبار سے وہ ایک شہید کی زوجہ اور شہید کی والدہ بھی تھیں۔
شیخ عبداللہ مامقانی نے اپنی مایۂ ناز کتاب «تنقیح المقال» میں نقل کیا ہے کہ ماریہ بنت سعد عبدیہ اپنی تمام دولت اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی ترویج و اشاعت پر خرچ کرتی تھیں۔ وہ شیعہ محدثات میں شمار ہوتی ہیں اور ان سے متعدد احادیث بھی روایت کی گئی ہیں۔









آپ کا تبصرہ