تحریر: عقیلہ زہراء موسوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اے چاندِ کربلا! تُو نے تو دیکھے ہوں گے
اترے تھے اس زمیں پر عرشِ بریں کے تارے
10 محرم الحرام 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں جوانوں، بوڑھوں اور شیرخوار بچوں نے راہِ حق میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔ اس معرکۂ حق میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بھی ایسا بے مثال کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اگرچہ عام طور پر عورت کو صنفِ نازک سمجھا جاتا ہے، لیکن حضرت زینبؑ نے ثابت کر دیا کہ ایمان، صبر اور شجاعت کے میدان میں ایک باایمان خاتون پوری امت کی رہنمائی کر سکتی ہے۔
تاریخِ کربلا میں حضرت زینبؑ کا نام ہمیشہ عزت و عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اگر آج واقعۂ کربلا کا پیغام پوری دنیا تک پہنچا ہے تو یہ حضرت زینبؑ کی استقامت، بصیرت اور حفاظتِ پیغام کا نتیجہ ہے۔ اگر حضرت زینبؑ نہ ہوتیں تو شاید واقعۂ کربلا ایک جنگ کی صورت میں تاریخ کے صفحات تک محدود رہ جاتا۔ آپؑ نے امام حسین علیہ السلام کے مشن کو مکمل کیا اور عاشورا کے پیغام کو رہتی دنیا تک محفوظ کر دیا۔
خیموں کی نگرانی
امام زین العابدین علیہ السلام کے علاوہ تمام مرد شہید ہو چکے تھے۔ اس موقع پر خیموں میں موجود خواتین اور بچوں کی ذمہ داری حضرت زینبؑ کے کندھوں پر تھی۔ جب دشمن نے خیموں کو آگ لگا دی تو آپؑ نے امامِ وقت، حضرت امام سجاد علیہ السلام، سے اجازت لی اور نہایت شجاعت کے ساتھ خواتین اور بچوں کو جلتے ہوئے خیموں سے باہر نکالا۔
شہادت پر صبر
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:"إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ""بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
حضرت زینبؑ نے صرف اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام ہی کی شہادت کا غم نہیں اٹھایا، بلکہ اپنے دو بیٹوں، حضرت عباس علمدار علیہ السلام، بنی ہاشم کے نوجوانوں اور امامؑ کے وفادار اصحاب کی شہادت بھی دیکھی۔ ان تمام مصائب کے باوجود آپؑ نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کبھی شکوہ و شکایت نہیں کی۔
سالارِ قافلۂ اسیران
عصرِ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ قافلۂ اسیران کی سالار بن گئیں۔ اسیری کے کٹھن سفر میں آپؑ نے خواتین، بچوں اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی بھرپور حفاظت اور دلجوئی کی اور ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدم رہیں۔
خطباتِ حضرت زینبؑ
جب قافلۂ اسیران کوفہ پہنچا تو حضرت زینبؑ نے اہلِ کوفہ کے سامنے ایسا بلیغ اور مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو یوں محسوس ہوا جیسے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی زبان بول رہی ہو۔
بعد ازاں ابنِ زیاد کے دربار میں جب شہداء کی شان میں گستاخی کی گئی تو حضرت زینبؑ نے نہایت جرأت کے ساتھ فرمایا:
"ما رأيتُ إلا جميلاً"
"میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔"
یعنی یہ وہ مقدس ہستیاں تھیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے شہادت کا بلند مقام مقدر فرمایا تھا۔
اس کے بعد جب اسیرانِ اہلِ بیتؑ کو دربارِ یزید میں پیش کیا گیا اور یزید نے تکبر کے ساتھ شہداء کے سرِ اقدس کی بے حرمتی کی، تو حضرت زینبؑ نے نہایت شجاعت کے ساتھ اس کے ظلم کو للکارا اور فرمایا: "کیا یہ انصاف ہے کہ تیری عورتیں پردے میں رہیں اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں اور اہلِ بیتؑ بے پردہ شہر بہ شہر پھرائے جائیں؟"
آپؑ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنی چالیں چل سکتا ہے چل لے، مگر خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو ہرگز مٹا نہیں سکے گا۔
جب شام سے واپسی کا وقت آیا تو حضرت زینبؑ نے یزید سے مطالبہ کیا کہ اہلِ بیتؑ کو تین دن عزاداری کے لیے ایک جگہ فراہم کی جائے۔ اس مدت میں آپؑ نے مجالسِ عزا برپا کیں، واقعۂ کربلا لوگوں کے سامنے بیان کیا اور اہلِ شام پر حقیقت واضح کر دی کہ اہلِ بیتؑ باغی نہیں بلکہ حق و صداقت کے علمبردار ہیں۔ اسی بصیرت افروز کردار کے ذریعے حضرت زینبؑ نے شام میں بھی حق کی فتح رقم کی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے مختلف مقامات، خصوصاً دربارِ یزید میں اسلامی ممالک کے نمائندوں کے سامنے اپنے خطبات کے ذریعے واقعۂ عاشورا کے حقیقی اہداف کو واضح کیا، بنی امیہ کے ظلم کو بے نقاب کیا اور حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا۔ یقیناً یہ جرأت، شجاعت، استقامت اور بصیرت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عظیم بیٹی ہی کا امتیاز تھی۔









آپ کا تبصرہ