جمعرات 23 جولائی 2026 - 11:32
زمانۂ حاضر میں حق و باطل کی پہچان؛ بصیرت، استقامت اور امامِ زمانہؑ کے حقیقی منتظر کی ذمہ داری

حوزہ/انسانی تاریخ کا ہر باب ایک حقیقت کو دہراتا ہے کہ اس دنیا میں دو محاذ ہمیشہ آمنے سامنے رہے ہیں؛ ایک محاذِ حق اور دوسرا محاذِ باطل۔ حضرت آدم سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (ص) تک، ہر نبی نے انسان کو توحید، عدل اور حق کی دعوت دی، جبکہ باطل نے کبھی طاقت، کبھی دولت، کبھی فریب اور کبھی پروپیگنڈے کے ذریعے اس نور کو بجھانے کی کوشش کی؛ لیکن خدا نے ہمیشہ اپنے وعدے کو سچا ثابت کیا کہ حق باقی رہنے والا اور باطل مٹنے والا ہے۔

تحریر: اریبہ فاطمہ کاظمی

حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تاریخ کا ہر باب ایک حقیقت کو دہراتا ہے کہ اس دنیا میں دو محاذ ہمیشہ آمنے سامنے رہے ہیں؛ ایک محاذِ حق اور دوسرا محاذِ باطل۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک، ہر نبی نے انسان کو توحید، عدل اور حق کی دعوت دی، جبکہ باطل نے کبھی طاقت، کبھی دولت، کبھی فریب اور کبھی پروپیگنڈے کے ذریعے اس نور کو بجھانے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے وعدے کو سچا ثابت کیا کہ حق باقی رہنے والا ہے اور باطل مٹنے والا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا. کہہ دیجیے: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔ (سورۂ اسراء: 81)

یہ آیت صرف ایک تاریخی اعلان نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک ابدی پیغام ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور نظر آئے، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے، جبکہ حق اپنی الٰہی بنیاد کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر حق اتنا واضح ہے تو پھر اکثر لوگ باطل کے فریب میں کیوں آ جاتے ہیں؟

اس کا جواب ہمیں قرآن اور تاریخ دونوں دیتے ہیں۔ باطل ہمیشہ اپنے حقیقی چہرے کے ساتھ سامنے نہیں آتا، بلکہ وہ حق کا لباس پہن کر، خوشنما نعروں، جھوٹے وعدوں اور فکری پروپیگنڈے کے ذریعے انسان کو گمراہ کرتا ہے۔

اسی لیے قرآن کریم نے اہلِ ایمان کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ. حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔ں(سورۂ بقرہ: 42)

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صرف عبادت کافی نہیں، بلکہ بصیرت کو بھی ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ عبادت انسان کو خدا سے جوڑتی ہے، جبکہ بصیرت اسے فتنوں میں صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ اگر عبادت کے ساتھ بصیرت نہ ہو تو انسان بظاہر دین دار ہونے کے باوجود حق و باطل میں فرق کرنے سے محروم رہ سکتا ہے۔

واقعۂ کربلا اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے۔ یزید کے لشکر میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو نماز پڑھتے تھے، قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور خود کو مسلمان کہتے تھے، مگر جب حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن گھڑی آئی تو وہ دنیا، خوف اور اقتدار کے فریب میں آ گئے۔ اس کے برعکس امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب نے تعداد، طاقت اور ظاہری وسائل کو نہیں دیکھا، بلکہ صرف رضائے الٰہی اور حق کو معیار بنایا۔

اسی حقیقت کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ایک مختصر مگر جامع جملے میں بیان فرمایا: اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ. حق کو پہچانو، اہلِ حق خود بخود پہچان میں آ جائیں گے۔

یہ فرمان آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اطلاعات کی کثرت ہے، مگر حقیقت تک رسائی آسان نہیں۔ سوشل میڈیا، عالمی ذرائع ابلاغ، سیاسی مفادات اور فکری یلغار نے حق و باطل کی سرحدوں کو دھندلا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے حالات میں ہر مؤمن پر لازم ہے کہ وہ قرآن، سنتِ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو اپنا معیار بنائے، تاکہ وہ کسی بھی فتنے میں گمراہ نہ ہو۔

یہی بصیرت وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح معاشرہ تعمیر ہوتا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو زمانۂ غیبت میں امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حقیقی منتظرین کی صف میں شامل کرتا ہے۔

عصرِ حاضر میں بصیرت کی ضرورت اور رہبرِ شہید کا کردار

اگر تاریخ کا ہر دور اپنے فتنوں کے ساتھ آیا ہے تو عصرِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ فکری گمراہی ہے۔ آج دشمن صرف سرحدوں پر حملہ نہیں کرتا بلکہ انسان کے عقیدے، شناخت، ثقافت، فکر اور ایمان کو نشانہ بناتا ہے۔ باطل نے اپنے ہتھیار بدل لیے ہیں؛ کبھی میڈیا کے ذریعے، کبھی تعلیمی نظام کے ذریعے، کبھی ثقافتی یلغار کے ذریعے اور کبھی جھوٹے نعروں کے ذریعے وہ حق کو مشتبہ اور باطل کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں امت کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں حق کی پہچان کرائیں اور لوگوں کو فتنوں سے آگاہ کریں۔

شیعہ مکتبِ فکر میں زمانۂ غیبت کے دوران دینی قیادت کی ذمہ داری فقہائے جامع الشرائط پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کام صرف احکامِ شرعی بیان کرنا نہیں بلکہ امت کی دینی، فکری اور سماجی رہنمائی بھی ہے۔ اسی تناظر میں رہبرِ معظم شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کی شخصیت عصرِ حاضر میں نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان اپنی بصیرت، عزتِ نفس، وحدت، خود اعتمادی اور ظلم کے خلاف استقامت کو کبھی نہ چھوڑیں۔

رہبرِ معظم کی گفتگو کا ایک اہم محور "جہادِ تبیین" ہے۔ ان کے نزدیک اگر دشمن جھوٹ، پروپیگنڈے اور فکری یلغار کے ذریعے حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کرے تو اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ حقیقت کو واضح کریں۔ یہ صرف علماء کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جس تک حق پہنچ چکا ہے۔

یہ فکر دراصل قرآن کی اسی تعلیم کی عملی تفسیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ. اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔(سورۂ نحل: 125)

رہبرِ معظم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ دشمن سے مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، بلکہ ایمان، علم، بصیرت اور اخلاقی استقامت سے بھی کیا جاتا ہے۔ اسی لیے وہ نوجوانوں کو بار بار مطالعہ، تحقیق، خودسازی اور اسلامی تشخص کی حفاظت کی تلقین کرتے ہیں۔

اگر ہم ان اصولوں کو اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت میں تلاش کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہی راستہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا تھا۔ آپؑ نے حکومت کو مقصد نہیں بلکہ حق اور عدل کے قیام کا ذریعہ سمجھا۔ جب لوگوں نے بیعت سے منہ موڑا، تب بھی آپؑ نے حق کو نہیں چھوڑا، اور جب حکومت ملی تو بھی عدل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

آپؑ کا یہ فرمان آج بھی ہر مؤمن کے لیے مشعلِ راہ ہے: لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ. راہِ ہدایت میں چلنے والوں کی کمی کی وجہ سے کبھی گھبراؤ نہیں۔

اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یہ اعلان کیا کہ حق کی حفاظت کے لیے تعداد، طاقت اور دنیاوی مفاد معیار نہیں ہوتے، بلکہ معیار صرف رضائے الٰہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپؑ نے فرمایا: إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا... إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي.

یہ اعلان صرف سن 61 ہجری کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر اس دور کے لیے ہے جہاں ظلم، تحریف اور فتنہ موجود ہو۔

اسی حسینی فکر کی جھلک آج بھی اس وقت نظر آتی ہے جب مسلمان ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں، امت کی وحدت کی دعوت دیتے ہیں اور حق کو مصلحت پر قربان نہیں کرتے۔ رہبرِ معظم کی فکر کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنے فیصلوں کا معیار قرآن، اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور بصیرت کو بنائیں، نہ کہ دشمن کے پروپیگنڈے یا وقتی مفادات کو۔

یہی بصیرت انسان کو زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے، یہی حق کی پہچان عطا کرتی ہے، اور یہی اسے امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نصرت کے لیے تیار کرتی ہے۔

امامِ زمانہؑ اور حق کی نصرت کی ذمہ داری

حق و باطل کی پہچان کا سفر صرف موجودہ حالات کو سمجھنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا آخری مقصد انسان کو اس عظیم الٰہی حکومت کے لیے تیار کرنا ہے جس کا وعدہ خداوندِ متعال نے حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ذریعے فرمایا ہے۔ وہی امامِ عصرؑ ہیں جن کے ظہور کے ذریعے دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

لیکن حقیقی انتظار کا مفہوم صرف زبان سے "عجل اللہ تعالیٰ فرجہ" کہنا نہیں، بلکہ اپنے آپ کو اس عظیم مقصد کے لیے تیار کرنا ہے۔ جو شخص امامِ زمانہؑ کا منتظر ہے، اسے اپنی زندگی میں وہ صفات پیدا کرنی ہوں گی جو امامؑ کے ساتھیوں کی پہچان ہیں؛ یعنی ایمان، تقویٰ، بصیرت، علم، اخلاق، حق کی حمایت اور باطل سے بیزاری۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ، وَلْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَمَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ. جو شخص یہ چاہتا ہے کہ قائمؑ کے اصحاب میں شامل ہو، اسے چاہیے کہ انتظار کرے اور تقویٰ و بہترین اخلاق کے ساتھ عمل کرے۔

یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ انتظار ایک فعال ذمہ داری ہے۔ منتظر وہ نہیں جو صرف حالات کے بدلنے کا انتظار کرے، بلکہ وہ ہے جو خود کو حق کے لشکر میں شامل ہونے کے قابل بنائے۔

زمانۂ غیبت میں مؤمن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو پہچانے، حق کے ساتھ کھڑا ہو، اپنے معاشرے میں خیر کو فروغ دے اور باطل کے فریب سے محفوظ رہے۔ ایک عالم جب دین کی صحیح تعلیم دیتا ہے، ایک ماں جب اپنی اولاد کو قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت پر تربیت کرتی ہے، ایک نوجوان جب گناہوں اور فکری گمراہیوں سے بچتے ہوئے دین پر ثابت قدم رہتا ہے، تو یہ سب امامِ زمانہؑ کی نصرت کی تیاری کے مراحل ہیں۔

آج کے دور میں جہاں حق اور باطل کی پہچان مشکل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں بصیرت سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر فکر، ہر خبر اور ہر دعوے کو قرآن، سنتِ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہلِ بیت علیہم السلام کے معیار پر پرکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان فتنوں کے اندھیروں میں بھی ہدایت کی روشنی حاصل کر سکتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

'فَإِنَّ غَايَةَ الْبَصَرِ أَنْ يَبْلُغَ الْعِلْمَ. آنکھ کی آخری منزل یہ ہے کہ وہ حقیقت کے علم تک پہنچے۔

لہٰذا بصیرت صرف دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ حقیقت کو پہچاننے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا قیام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ ہر زمانے میں حسینی فکر زندہ رہتی ہے اور ہر دور میں انسان کو یہ انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ ہوگا یا باطل کی خاموش تائید کرے گا۔

آج اگر ہم واقعی امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظر ہیں تو ہمیں اپنے اندر حسینی غیرت، علوی بصیرت اور زینبی استقامت پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم صرف ظہور کے خواہش مند نہیں بلکہ اس الٰہی انقلاب کے لیے خود کو تیار کرنے والے ہیں۔

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ:

حق کی پہچان بصیرت سے ہوتی ہے، حق پر استقامت ایمان کی علامت ہے اور امامِ زمانہؑ کی حقیقی نصرت اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے نفس، اپنے فکر اور اپنے عمل کو حق کے راستے پر قائم کر لے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو حق کو پہچاننے والے، حق پر ثابت قدم رہنے والے اور حضرت ولیِ عصر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حقیقی منتظرین میں شمار ہوں۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha