جمعرات 23 جولائی 2026 - 22:56
تلاشِ خورشید

حوزہ/ایک مدت گزر گئی تھی اور میں اندھیروں سے بھری رات میں روشنی کی طلبگار تھی۔ ہر طرف گھٹن اور تاریکی تھی، گویا ان آنکھوں نے کبھی نور کے جلوے کو دیکھا ہی نہ ہو۔ عجیب عالم تھا؛ گھڑی کی سوئیاں وقت کے درخت پر کلہاڑی بن کر ضربیں لگا رہی تھیں اور میں آنکھوں کی نعمت رکھنے کے باوجود اپنے مطلوب کو دیکھنے سے قاصر تھی۔

تحریر: پاکیزہ سید نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| ایک مدت گزر گئی تھی اور میں اندھیروں سے بھری رات میں روشنی کی طلبگار تھی۔ ہر طرف گھٹن اور تاریکی تھی، گویا ان آنکھوں نے کبھی نور کے جلوے کو دیکھا ہی نہ ہو۔ عجیب عالم تھا؛ گھڑی کی سوئیاں وقت کے درخت پر کلہاڑی بن کر ضربیں لگا رہی تھیں اور میں آنکھوں کی نعمت رکھنے کے باوجود اپنے مطلوب کو دیکھنے سے قاصر تھی۔

۲ جنوری ۲۰۲۰ء کو ان آنکھوں نے ٹی وی پر ایک ایسا منظر دیکھا جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا؛

ہاں! وہ روشنی تھی، وہی روشنی۔ میری آنکھوں نے اس روشنی کو محسوس کیا۔ اس نور نے میرے اندر بہت سے سوالوں کو جنم دیا۔ آخر یہ کس نور کی روشنی تھی ؟ یہ تو ایک عام انسان تھا مجھ جیسا۔

جو نہ پیامبر تھا اور نہ امام، لیکن ایسی شخصیت کا حامل تھا کہ خدا اس کا خریدار بن چکا تھا۔ بے شک، خدا اس سے محبت کرتا تھا۔ یہ روشنی شہید قاسم سلیمانی کے وجود سے ہر طرف پھیل رہی تھی۔

روشنی تو مل گئی تھی میرے راستہ کا اندھیرا کچھ حد تک کم ہو چکا تھا، مگر اردگرد کے لوگوں کی طرف سے پیدا کیے جانے والے شبہات اور غفلت کے پردوں نے اس روشنی کو پھر مجھ سے چھین لیا تھا۔

وہ سب ایسی روشنیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے، دین کا دشمن سمجھتے تھے۔

میری آنکھیں اور میرا ضمیر کچھ مدت سونے کے بعد پھر بینائی کی تلاش میں نکل پڑے تھے، کیونکہ مجھے تلاش تھی اس انسان کی جو عام شخص ہو ، لیکن کمالات کی منزلیں طے کرکے پورے عالم کو منور کر چکا ہو۔ میں اسکو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتی تھی

میں چاہتی تھی کہ میرے انتظار سے بھرا یہ اندھیرا اختتام کو پہنچے، لیکن میرے اردگرد تیروں کے ایسے حملے تھے جو اس شمع کی روشنی پر پانی کی طرح برستے جاتے ۔ اور دوبارہ اندھیرے کو میرا مقدر بنا دیتے۔

دنیا کی رنگینیوں کے باوجود آخر ہر طرف اندھیرا کیوں تھا؟ کیا یہ صرف میرے لیے تھا یا سب کے لیے؟

پروردگار نے ہمیں انبیاء اور ائمہؑ جیسی عظیم نعمتیں عطا کی تھیں، مگر نفس بہانہ بناتا تھا کہ "معصومین کہاں اور ہم کہاں؟"

اس میں سچائی تو تھی، لیکن میں چاہتی تھی کہ اس نفس کو ایسی شخصیت دکھاؤں جو ہم سب کی طرح ایک عام انسان ہو، مگر مقامِ عالیہ تک پہنچ چکی ہو؛ ایسی شخصیت جو میرے سامنے، اسی دور میں، روشنیوں کا مرکز ہو؛ ایسی روشنی جو کبھی بجھ نہ سکے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ.

وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے، خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناگوار گزرے۔

میرا تعلق اس جگہ سے تھا جہاں اکثر لوگ جلتے چراغوں کو بجھا ہوا کہنے کے عادی تھے، جہاں اندھیروں میں رہنے کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔

لیکن کوئی تھا جو میرے وجود میں روشنی کا خواہاں تھا؛ جسے دیکھ کر امید ہوتی تھی کہ ہاں، میں بھی اس روشنی کو پا لوں گی۔

میں دیکھ رہی تھی کہ دنیا اور میرے نفس نے مجھے کس قدر ذلیل کر دیا ہے، گویا اندھیروں کے دلدل میں دھکیل دیا ہو۔

میں اس روشنی کو پہچاننا چاہتی تھی، مگر بہکانے کے لیے شیطان نے اپنی کمر کس لی تھی۔

ایک مدت کے بعد نوجوانی میں مجھے شہر سے باہر جا کر ان اندھیروں سے نکلنے کی اجازت ملی۔

وہ اجازت ایک شمع کی مانند تھی، جو جلا کر میرے ہاتھ میں تھما دی گئی تھی۔

اب میں دیکھ پا رہی تھی۔

ہاں! واقعی بہت کچھ دیکھ رہی تھی۔

لیکن شاید وہ شخصیت، جو عام انسان ہونے کے باوجود پروردگار کی صفات کا مظہر تھی اور جس کا وجود روشنیوں کا منبع تھا، ابھی بہت دور تھی۔

وہ جس نے اللہ کے عشق میں اپنے وجود کو جلا کر جہان کو روشن کیا تھا، جس کے وجود کی روشنی ظالموں کو اندھا کر دیتی تھی۔

۸ اپریل ۲۰۲۵ء کو میں اس سرزمین پر پہنچی جس کی برکتیں اور فضیلتیں اپنی مثال آپ تھیں۔

جانیں فدا ہوں ہماری انبیائے الٰہی، ائمۂ معصومینؑ اور بالخصوص حضرت معصومہؑ پر۔ ان کی مدد نے میری توفیقات میں اضافہ کیا۔میں مسلسل زندہ مثال کی تلاش میں تھی۔

یہ تلاش اس امید پر تھی کہ شاید یہ سویا ہوا ضمیر بھی اس شخصیت کو دیکھ کر جاگ اٹھے، شاید وہ شبہات جو پیدائش سے اس روشنی کو اندھیرا ثابت کرنے کے لیے میرے ہمسفر رہے تھے، ختم ہو جائیں۔

حوزۂ علمیہ میں معمول کے مطابق راہ چلتے ہوئے میں نے ایک استاد کو سلام کیا۔ جواب میں صرف سلام کا جواب نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی چابی میرے ہاتھ میں تھما دی گئی تھی جس سے میرے بہت سے شبہات کے تالے کھلنے والے تھے۔

استاد نے پوچھا:

"کیا آپ نے کبھی ان کو دیکھا ہے؟"

میں نے حیرت سے جواب دیا:

"میں... اور ان کو؟

نہیں، کبھی نہیں۔"

میرا نام فہرست میں شامل ہو گیا۔

اس سفر میں سب کی منزل ایران کا دارلحکومت تہران تھا۔ میں آخری فرد تھی جو اس سفر میں دوسروں کے ہمراہ تھی۔

یہ بہترین موقع تھا کہ جان سکوں آیا وہ باتیں، جو میں بچپن سے اپنے علاقے کے لوگوں سے سنتی آئی تھی، سچ تھیں یا حقیقت مزید مزید حقیقت سے آراستہ ہونے کا موقع مل رہا تھا۔۔ ؟

بالآخر ۴ جون ۲۰۲۵ء کو میں نے اس روشنی کو پا لیا، جس کی میں برسوں سے منتظر تھی، میری زندگی کا اندھیرا مجھے خدا حافظ کہہ رہا تھا۔ میں خوش تھی کہ قدرت نے مجھے روشنیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا ہے۔ آخر وہ ہستی جس کے ذریعے میں اپنے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتی تھی میری آنکھوں کے سامنے تھی۔

ہاں! یہ وہی روشنی تھی، وہی ستارہ۔

اس کا چہرہ میرے اندھیرے آسمان پر خدا کی بندگی کی وجہ سے ستارے کی مانند چمک رہا تھا۔

میرے گالوں پر پشیمانی، خوشی اور امید کے آنسو ایک ساتھ بہہ رہے تھے۔

ان آنکھوں نے اپنے مقصد، سید علی حسینی خامنہ ای کو پا لیا تھا؛ گویا ظالم اور مظلوم کو پہچاننے والی شمع مل گئی تھی۔

پشیمانی تھی کہ آخر کیوں میں نے لوگوں کی باتوں پر توجہ دی۔

خوشی تھی کہ میں نے اپنا سایہ بان پا لیا تھا۔

امید تھی کہ اب کبھی اندھیروں میں نہیں جاؤں گی۔

وہ ستارہ مجھ سے کبھی دور نہیں جائے گا۔

لیکن ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کو میری امیدوں پر کسی نے پانی پھیر دیا۔

وہ دن میرے لیے قیامت کا دن تھا۔ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنا ہاتھ میرے سر سے اٹھا لیں۔

سب کچھ ختم ہو گیا تھا، گویا میں اندھی ہو گئی تھی۔

میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا تھا؛ جیسے کسی اندھے سے اس کی چھڑی چھین لی گئی ہو اور وہ اپنا راستہ کھو بیٹھا ہو۔

وہ جس کی زندگی حسینی تھی، جس کا کردار حسینی تھا، جس کی فکر حسینی تھی اور جس نے وقت کے یزید کو ذلیل کر دیا تھا۔

ہر طرف سے صدائیں اٹھ رہی تھیں کہ امت مسلمہ کے آسمان پر اس چمکتے ستارے کا نور ماند پڑ چکا ہے۔

کیا ایسا ممکن تھا؟

دنیا کشمکش میں تھی۔

کیا دوبارہ اس آسمان پر کوئی ستارہ چمکے گا؟

۷ جولائی ۲۰۲۶ کو وہ لوگ بھی، جو اس وجود کی روشنی کے منکر تھے، دنیا کے کونے کونے سے اس کا آخری دیدار کرنے کیلیے اس کی جانب رواں دواں تھے۔

وہ بھی میری طرح دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک غیر معصوم انسان نے کیسے اپنے وجود کو اس قدر منور کر لیا۔

یہ ستارہ ایک ایسی غیور قوم کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھا جو غیرت مند اور ایمان کی طاقت سے لبریز تھی۔ جو دین کیلیے ہر طرح کی قربانی دینے کیلیے تیار تھی۔ لیکن اب اس قوم کے لوگ انتقام کی آگ میں جل رہے تھے، کیونکہ اس قوم کو یتیم کر دیا گیا تھا۔

اب دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی تھی؛ ظالم اور ظالم کے مخالف۔

سورۂ انفال کی وہ آیت میرے ذہن میں آئی کہ اللہ پاکوں کو ناپاکوں سے جدا کر دے گا تاکہ ناپاک ایک دوسرے پر ڈھیر ہو جائیں اور جہنم میں داخل کیے جائیں۔

بے شک، پاک اور ناپاک ایک دوسرے سے جدا ہو چکے تھے۔

سب کچھ واضح تھا۔

لیکن اب ستارہ غروب ہونے کو تھا۔

ہاں، وہ مشہد کی سرزمین میں شمس الشموس کے قدموں میں غروب ہو گیا، لیکن اس کی روشنی ماند نہ پڑی؛ وہ آج بھی چمک رہی ہے۔

اس نے مجھے بیدار کر دیا تھا، مجھے میرے مقصد تک پہنچا دیا تھا، مجھے حق اور سچ میں فرق کرنا سکھا دیا تھا۔ اسکی زندگی سید الشھدا امام حسین علیہ السلام کے اس جملہ کی تفسیر تھی کہ جب انھوں نے یزید سے بیعت نے کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

مثلی لا یبایع مثلک

مجھ جیسا تم جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ شھید کی زندگی نے ہمیں ہمارے وقت کے یزید کی شناخت کرا دی تھیاور یہ بیداری صرف مجھ تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے آخری دیدار کی خواہش میں ہر طرف سے آنے والے لوگ بھی اس بیداری سے سرفراز ہو چکے تھے۔ اس ستارے کی چمک اب پہلے سے بہت زیادہ تھی۔

سید علی خامنہ ای کی شہادت کا نور ان کی زندگی کے نور سے کئی گنا بڑھ کر تھا۔

بے شک، پروردگار ایسے لوگوں کی اولادوں میں برکت عطا کرتا ہے۔

صالح بعد از صالح

اب میں پھر سے دیکھ سکتی ہوں، سب کچھ دیکھ سکتی ہوں، اس روشنی کو بھی جس کی میں طلبگار تھی، کیونکہ ولایتِ فقیہ کے آسمان پر سید مجتبیٰ جیسا ستارہ چمک رہا ہے۔

یہ تمام ستارے ہمیں عشقِ خدا کا راستہ دکھاتے ہیں۔

بہت سے ستارے غروب ہوئے ہیں؛ قاسم سلیمانی، حسن نصراللہ، ابراہیم رئیسی، یہاں تک کہ میری منزل و مقصود، رہبر معظم سید علی خامنہ ای بھی۔

تو کیا اندھیرا چھا گیا؟

نہیں!

اندھیرا کبھی نہیں چھائے گا۔

ستاروں کا غروب ہونا، مہدیِ موعودؑ جیسے خورشید کے طلوع ہونے کا اعلان ہے۔

انتظار کیجیے… حقیقی منتظر بن کر۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha