پیر 20 جولائی 2026 - 00:14
بدگمانی، دلوں کو ویران کرنے والی خاموش بیماری

حوزہ/بدگمانی وہ کیفیت ہے، جس میں انسان بغیر کسی دلیل کے دوسروں کی نیت، کردار یا عمل کو منفی زاویے سے دیکھتا ہے اور اپنے گمان کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔

تحریر:سیدہ دعا زہراء

حوزہ نیوز ایجنسی|

بدگمانی کے نقصانات اور علاج

بدگمانی کی اصطلاحی تعریف:

بدگمانی وہ کیفیت ہے، جس میں انسان بغیر کسی دلیل کے دوسروں کی نیت، کردار یا عمل کو منفی زاویے سے دیکھتا ہے اور اپنے گمان کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔

بدگمانی کے نقصانات:

بدگمانی محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک ایسا باطنی مرض ہے جو انسان کے دل، عقل، کردار اور معاشرے کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔

یہ وہ خاموش زہر ہے جو محبت کے چشموں ملکو خشک، اعتماد کے رشتے کو منہدم اور اخوت کے احساس کو ویران کر دیتی ہے۔

بدگمانی وہ زہر ہے جو زبان سے پہلے دل میں اترتا ہے۔ یہ وہ خاموش آگ ہے جو محبت کے سرسبز باغ کو راکھ میں بدل دیتی ہے اور حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔

بدگمانی جب کسی کے وہم میں آتی ہے تو حقیقت کو نہیں دیکھتی بلکہ اپنے وہم کو حقیقت کا لباس پہنا دیتی ہے یہ انسان کو دلیل اور غور و فکر سے دور کر دیتی ہے یہ وہ دروازہ ہے جس سے شیطان انسان کے دل میں داخل ہوتا ہے بدگمانی کے بعد پھر غیبت، تہمت، نفرت، رنجش اور اختلاف پیدا ہوتا ہے یوں ایک لمحے کا بے بنیاد گمان برسوں کی محبت اور اعتماد کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا زہر ہے جو پہلے دل کو آلودہ کرتا ہے، پھر رشتوں کو توڑتا ہے اور آخرکار گھروں اور معاشرے کے امن کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

بدگمانی صرف ایک گناہ نہیں، بلکہ کئی گناہوں کی جڑ ہے کتنے ہی رشتے صرف اس بدگمانی سے بکھر جاتے ہیں بدگمان شخص ہمیشہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے اور خود ہی مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے اور اپنا ذہنی سکون تباہ کر دیتا ہے۔ یہ وہ اندھیرا ہے جس میں انسان دوسروں کے کردار سے پہلے اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔

اس خاموش بیماری کا علاج:

بدگمانی کا علاج کرنے کے لیے انسان کو پہلے اپنے دل اور روح کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اسلام ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ اپنے مومن بھائی کے لیے ہمیشہ حسن ظن رکھیں جب تک اس کے خلاف کوئی واضح دلیل نہ ہو بدگمانی نہ کریں تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔

اور اپنے نفس سے پوچھیں کہ میرے پاس اس بدگمانی پر کوئی ٹھوس دلیل اور کوئی ثبوت ہے اور مومن تو وہ ہوتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اپنے مومن بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرتا ہے۔ تو جب اپنے لیے ہم بدگمانی کو ناپسند کرتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی اسے نا پسند کرنا چاہیے۔

خداوند منان سے ہمیشہ شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنا چاہیے۔

خداوند کریم اپنی کتاب الفرقان میں سورۂ حجرات کی آیت نمبر ۱۲ میں ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ. "اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔"

تفسیر نمونہ جلد ۱۲ میں اس آیت کی تفسیر میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اپنے بھائی کے اعمال کو جہاں تک ہو سکے بہترین صورت پر محمول کر اور اگر تیرے مسلمان بھائی سے کبھی کوئی سخت بات صادر ہو گئی ہو تو اس کے لیے ہرگز بدگمانی نہ کر جب تک تو اس کے لیے نیکی پر محمول کی کوئی گنجائش رکھتا ہے اگر کبھی کسی کے بارے میں بدگمانی ہو تو اس کے ساتھ بیٹھ کر پیار و محبت سے بات کر کے اس بدگمانی کو دور کریں لیکن ہم سب سے پہلے بات کرنے کا دروازہ ہی بند کر دیتے ہیں لیکن اب اس دروازہ کو خود کے لیے کبھی بند نہ کیجئے گا۔

یہاں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ برا اور اچھا گمان عام طور پر اختیاری نہیں ہوتا یعنی وہ ایک سلسلہِ مقدمات کے زیرِ اثر جو انسان کے اختیار سے خارج ہے ذہن میں منعکس ہوتا ہے اور اس بنا پر اس سے کس طرح روکا جا سکتا ہے یہاں پر دو اہم نقطوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱.جب بھی کسی مسلمان کے بارے میں تمہارے ذہن میں کوئی برا گمان پیدا ہو تو اس کے لیے عمل میں معمولی سے معمولی اعتنا بھی نہ کرو اپنے طرز رفتار میں تبدیلی نہ کرو اور نہ ہی اپنے سلوک و رفتار کو بدلو۔

پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے‌: تین چیزیں ایسی ہیں جن کا وجود مومن میں پسندیدہ نہیں ہے جبکہ اس کے لیے ان سے فرار کی راہ ہے ان میں سے ایک سوء ظن ہے جس سے راہ فرار یہ ہے کہ اس کو عمل میں نہ لایا جائےـ

۲.مختلف مسائل میں غور و فکر کرنے سے بہت سے برے گمان کو اپنے سے دور کیا جا سکتا ہے اور برے گمان پر غلبہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور بدگمانی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو انسان کے اختیار سے خارج ہو ـ

امام علی علیہ السلام سے بھی ایک شخص نے آکر سوال کیا۔ یا امیر المومنین (ع) مجھے اگر مومن بھائی کے لیے کوئی بدگمانی ہو تو میں کیا کروں تو امام عالی مقام علیہ السلام نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کم سے کم 70 اچھے گمان کرو۔

تو اس شخص نے کہا کہ مولا اگر 70 اچھے گمان کرنے کے باوجود بھی وہیں ایک بدگمانی دماغ سے نہ جائے تو کیا کروں تو مولائے کائنات (ع) نے فرمایا : کہ قصور اس شخص کا نہیں بلکہ تمہارا ہے جو اس کے 70 اچھائیوں کو تو نہیں دیکھ رہا بلکہ اس کی ایک برائی کو دیکھ رہا ہے۔

بدگمانی سے خود کو بھی اور دوسروں کو بھی بچائے۔

بدگمانی اسلام کی نظر میں ایک خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کے ایمان، اخلاق اور معاشرتی زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے اور ہماری روحانیت کو بھی پروان چڑھنے سے روکتی ہے خداوند عالم سے دعاگو ہیں کہ ہمیں اس بری بیماری سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں کو تقوی ذکر الٰہی اور اخلاص سے منور فرمائیے تاکہ بدگمانی کی تاریکیاں ہمارے دلوں سے ختم ہو جائے آمین۔

  • معرفتِ امام کیوں ضروری ہے؟

    معرفتِ امام کیوں ضروری ہے؟

    حوزہ/ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ معرفت سے کیا مراد ہے اور اس کے لغوی معنی کیا ہیں۔ اس کے بعد یہ بات واضح ہوگی کہ احادیث میں معرفت کو اتنی اہمیت کیوں…

  • فقہ جعفریہ میں فقہ الاعلام (میڈیا کی فقہ): ایک تحقیقی جائزہ

    فقہ جعفریہ میں فقہ الاعلام (میڈیا کی فقہ): ایک تحقیقی جائزہ

    حوزہ/عصرِ حاضر میں میڈیا نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ فقہ جعفریہ، بحیثیت ایک جامع دینی نظام، میڈیا سے متعلق اصولی اور عملی احکام فراہم کرنے…

  • رہبرِ شہید کی زاہدانہ زندگی میں ان کی اہلیہ کا کردار

    رہبرِ شہید کی زاہدانہ زندگی میں ان کی اہلیہ کا کردار

    حوزہ/کائنات میں جب بھی کوئی مرد کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور فتوحات کے ایوانوں تک پہنچا نظر آتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے اس مقام…

  • ہمارا راستہ، حسینیت

    ہمارا راستہ، حسینیت

    حوزہ/انسانی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں دفن نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور میں ایک نئے پیغام کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ کا نام انہی…

  • حبِّ دنیا

    حبِّ دنیا

    حوزہ/حبِّ دنیا ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اپنے پروردگار سے دور کر دیتی ہے۔ جب انسان دنیا کی چمک دمک، مال و دولت اور عارضی خواہشات میں اس…

  • حضرت فاطمہ زہراء (س) کی سیرت؛ اسوۂ کاملہ

    حضرت فاطمہ زہراء (س) کی سیرت؛ اسوۂ کاملہ

    حوزہ/ اسوہ سے مراد ایسی شخصیت ہے جو انسان کے لیے عملی نمونہ اور آئیڈیل ہو، جس کی زندگی ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کرے اور جس کی پیروی انسان کو کامیابی،…

  • امام زمانہ کے انتظار سے ظہور تک کا سفر!

    امام زمانہ کے انتظار سے ظہور تک کا سفر!

    حوزہ/لغوی اعتبار سے انتظار کسی محبوب کے آنے کی امید کو کہتے ہیں مگر مکتبِ اہلِ بیتؑ میں انتظار کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ یہ امید کے ساتھ ذمہ داری، محبت…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha