تحریر: علیزہ شاہ، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اسوہ سے مراد
اسوہ سے مراد ایسی شخصیت ہے جو انسان کے لیے عملی نمونہ اور آئیڈیل ہو، جس کی زندگی ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کرے اور جس کی پیروی انسان کو کامیابی، سعادت اور کمال تک پہنچائے۔ حقیقی اسوہ وہ ہوتا ہے جس کی سیرت کو زندگی کے ہر شعبے میں اختیار کیا جا سکے۔
آج کے دور میں اسوہ کی ضرورت
جس امت کے پاس حقیقی اسوہ نہ ہو، وہ ہدایت، بصیرت اور صحیح سمت سے محروم ہو کر گمراہی اور ناکامی کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہے۔ آج کا انسان نفسیاتی، فکری اور روحانی تنہائی کا شکار ہے، اس لیے اسے ایسی کامل شخصیت کی ضرورت ہے جو اس کی زندگی کو صحیح سمت عطا کرے۔ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی سیرت آج کی ہر عورت بلکہ ہر انسان کے لیے بہترین نمونۂ عمل اور مشعلِ راہ ہے۔
ہیرو اور اسوہ میں فرق
ہیرو محض ایک پسندیدہ شخصیت ہو سکتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے، مگر اس کی عملی پیروی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اسوہ وہ شخصیت ہے جو قابلِ تقلید ہو اور جس کی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا جا سکے۔
انسان اپنی زندگی میں صرف اسی شخصیت کو رہنما بناتا ہے جس پر اسے مکمل اعتماد ہو، جس کے کردار میں پاکیزگی، فضیلت، تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق موجود ہوں۔ اگرچہ ہماری زندگی خطاؤں سے آلودہ ہے، لیکن ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اپنی زندگی کو پاک ہستیوں کی سیرت سے مزین کریں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) بطور اسوۂ کاملہ
حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) انسانیت کے لیے اسوۂ کاملہ ہیں۔ کامل وہ ہستی ہوتی ہے جس میں انسانی فضائل اپنی بلند ترین منزل پر ہوں اور جس کی شخصیت کا کوئی پہلو ناقص یا ادھورا نہ ہو۔
حضرت زہرا (س) فراست، بصیرت، تقویٰ، عبادت، ایثار، عفت، شجاعت اور دفاعِ حق کا ایسا جامع نمونہ ہیں جو رہتی دنیا تک مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے کامل معیار اور عملی نمونہ ہے۔
رہبرِ معظم کی نگاہ میں اسوۂ زہراء (س)
رہبرِ شہید سید علی الحسینی خامنہ ای امت کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) سے حقیقی محبت صرف مدح، مرثیہ اور اشک بہانے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے۔
جب تک حضرت زہرا (س) کو ہدایت کے عملی نمونے کے طور پر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جگہ نہیں دی جائے گی، اس وقت تک حقِ زہرا (س) ادا نہیں ہو سکتا۔ یہ اسوہ کسی ثقافت یا معاشرے کی پیداوار نہیں بلکہ خداوندِ متعال کی عطا کردہ آسمانی ہدایت ہے، لہٰذا اس کی پیروی درحقیقت اطاعتِ الٰہی ہے۔
حضرت زہرا (س) کی عظمت؛ نسب سے بڑھ کر کردار
حضرت فاطمہ زہرا (س) صرف رسولِ اکرم (ص) کی بیٹی ہونے کی وجہ سے عظیم نہیں ہیں، بلکہ آپ کے ذاتی کمالات، تقویٰ، عبادت، ارادہ، صبر، ایثار اور جہاد نے آپ کو اس بلند مقام تک پہنچایا۔
اگرچہ آپ کی تین عظیم نسبتیں ہیں؛ رسول اللہ (ص) کی دختر، امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کی زوجہ، اور حسنین کریمین (ع) کی مادر، لیکن یہ نسبتیں آپ کے ذاتی کمالات کا نتیجہ ہیں، ان کا سبب نہیں۔
اسی حقیقت کی طرف بعض روایات اشارہ کرتی ہیں کہ اگر رسول اللہ (ص) نہ ہوتے تو عالمِ خلقت وجود میں نہ آتا، اور اگر حضرت فاطمہ زہرا (س) نہ ہوتیں تو رسول اللہ (ص) کی تخلیق بھی نہ ہوتی۔ ان روایات کا مقصد آپ کی بے مثال روحانی عظمت اور مقام کو بیان کرنا ہے۔
نورِ چشمِ رسول خدا (ص)
حضرت فاطمہ زہرا (س) صرف رسول اللہ (ص) کی صاحبزادی نہیں بلکہ آپ کی "قرۃ العین" اور نورِ چشم ہیں۔ رسول اکرم (ص) تمام اولین و آخرین کے امام اور رہبر ہیں، اور ایسی عظیم ہستی کی آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت فاطمہ زہرا (س) ہیں۔ یہ تعبیر آپ کے مقام و منزلت کی عظمت کو نمایاں کرتی ہے۔
عبادت میں کمال
رہبرِ معظم فرماتے ہیں کہ حضرت زہرا (س) عبادتِ الٰہی میں اس قدر محو ہو جاتی تھیں کہ ملائکہ آپ پر درود بھیجتے تھے۔ آپ کی عبادت صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ بندگی، معرفت اور اخلاص کی اعلیٰ ترین تصویر تھی۔
خاتونِ "ھل أتیٰ"
حضرت فاطمہ زہرا (س) اس شخصیت کی شریکِ حیات ہیں جس کے حق میں سورۂ دہر (ہل أتیٰ) نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اہلِ بیتؑ کے ایثار، اخلاص اور رضائے الٰہی کے لیے اپنی ضروریات کو دوسروں پر مقدم کرنے کا ذکر ہے۔
حضرت زہرا (س) کی زندگی ایثار، وفاداری اور رضائے الٰہی کا عملی نمونہ تھی۔ رہبرِ معظم کے مطابق آپ نے مختصر عمر میں وہ روحانی کمالات حاصل کیے جو بعض لوگ صدیوں کی عبادت کے بعد بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
گھریلو زندگی اور سماجی ذمہ داری
حضرت فاطمہ زہرا (س) رسول اللہ (ص) کی تربیت یافتہ تھیں۔ آپ نے گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی خدمات کے درمیان بہترین توازن قائم کیا۔
آپ اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں اور زبان پر قرآنِ کریم کی تلاوت جاری رہتی تھی۔ خواتین اپنے دینی اور معاشرتی مسائل لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ نہایت حکمت، بصیرت اور شفقت کے ساتھ ان کی رہنمائی فرماتیں۔ اس طرح آپ نے ثابت کیا کہ ایک مثالی خاتون گھر اور معاشرے، دونوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
سیاسی بصیرت اور دفاعِ حق
حضرت فاطمہ زہرا (س) نے حضرت علی (ع) کا ساتھ صرف ازدواجی تعلق کی بنیاد پر نہیں دیا، بلکہ اس لیے کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ امام اور حق کے علمبردار تھے۔
آپ نے ہر موقع پر ولایت و امامت کا دفاع کیا اور اپنے تاریخی خطبات، خصوصاً خطبۂ فدکیہ کے ذریعے امت کو حق و باطل کی پہچان کرائی۔ آپ کی سیاسی بصیرت اور جرأت آج بھی حق کے متلاشیوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اختتامیہ
رہبرِ معظم فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) انسانیت کی وہ بلند چوٹی ہیں جس کی طرف دیکھ کر انسان کمال کی منازل طے کر سکتا ہے۔
دعا ہے کہ خداوندِ متعال ہمیں حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے مقام و معرفت کو سمجھنے، ان کی سیرت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے اور انہیں حقیقی معنوں میں اپنا اسوۂ کاملہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ