تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
انسان کی زندگی آزمائشوں، مشکلات، نعمتوں اور ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو زندگی میں کسی نہ کسی امتحان سے نہ گزرتا ہو۔ انہی امتحانات میں انسان کے ایمان، کردار اور خدا پر توکل کا معیار ظاہر ہوتا ہے اور وہ صفت جو انسان کو ہر حال میں ثابت قدم رکھتی ہے، صبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے صبر کو ایمان کی بنیادی علامت قرار دیتے ہوئے متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کی مدح کی ہے۔ اہل بیتؑ کی تعلیمات بھی یہی بتاتی ہیں کہ صبر کمزوری یا خاموشی کا نام نہیں بلکہ حق پر استقامت، نفس پر قابو، اطاعتِ الٰہی میں ثابت قدمی اور مصائب میں رضائے الٰہی کو مقدم رکھنے کا نام ہے۔
حضرت ایوبؑ کی زندگی مصیبت میں صبر کی بہترین مثال ہے، جبکہ امام زین العابدینؑ نے واقعۂ کربلا کے بعد صبر کو عملی جہاد اور پیغام رسانی میں تبدیل کر دیا۔ اس مضمون میں قرآن، احادیث اور شیعہ تفاسیر کی روشنی میں صبر کے مفہوم اور اس کی عملی مثالوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
صبر کے لغوی و اصطلاحی معنی
عربی زبان میں صبر کا مادہ (ص ب ر) ہے، جس کے معنی ہیں: روکنا، ثابت قدم رہنا، نفس کو قابو میں رکھنا اور مشکلات کے مقابلے میں استقامت اختیار کرنا۔
علامہ راغب اصفہانی المفردات فی غریب القرآن میں لکھتے ہیں کہ صبر سے مراد انسان کا اپنے نفس کو عقل اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق روک کر رکھنا ہے۔
علامہ طباطبائیؒ تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ صبر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا، گناہوں سے اجتناب کرنا اور مشکلات میں ایمان کو متزلزل نہ ہونے دینا بھی صبر ہے۔
شیخ کلینیؒ نے اصولِ کافی میں امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل کی ہے: «الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد.» "ایمان کے ساتھ صبر کی وہی نسبت ہے جو جسم کے ساتھ سر کی ہے۔"
جس طرح سر کے بغیر جسم باقی نہیں رہ سکتا، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان بھی کامل نہیں رہتا۔
حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: «الصبر مفتاح الفرج.» "صبر کشادگی اور نجات کی کنجی ہے۔"
یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ صبر ایک منفی کیفیت نہیں بلکہ انسان کی روحانی طاقت، فکری استقامت اور عملی بصیرت کا نام ہے۔
قرآنِ کریم میں صبر
قرآن مجید میں صبر کا ذکر ستر سے زائد مقامات پر آیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾(سورۂ بقرہ: 153)
ترجمہ:"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ کی معیت سے مراد خاص نصرت اور ہدایت ہے، جو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو مشکلات میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
اسی طرح ارشاد ہوتا ہے:﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾(سورۂ بقرہ: 155)
اس کے بعد قرآن صبر کرنے والوں کی صفات بیان کرتا ہے:﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾(سورۂ بقرہ: 156)
یہ آیت بتاتی ہے کہ مومن مصیبت کے وقت مایوس نہیں ہوتا بلکہ ہر حال میں اپنے آپ کو اللہ کی ملکیت سمجھتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾(سورۂ زمر: 10)
یعنی صبر کرنے والوں کا اجر اتنا عظیم ہے کہ اسے کسی پیمانے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
سورۂ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا﴾(آل عمران: 200)
مفسرین کے مطابق یہاں صبر صرف ذاتی مشکلات تک محدود نہیں بلکہ دین، معاشرے اور حق کی حفاظت میں اجتماعی استقامت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
انبیائے الٰہی اور صبر
قرآن کریم میں متعدد انبیاءؑ کو صبر و استقامت کا نمونہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
حضرت نوحؑ نے تقریباً نو سو پچاس سال تک مسلسل تبلیغ کی لیکن بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اس کے باوجود انہوں نے دعوتِ حق کو ترک نہیں کیا۔
حضرت ابراہیمؑ نے آگ میں ڈالے جانے، وطن چھوڑنے اور اپنے فرزند کی قربانی جیسے سخت امتحانات میں کامل اطاعت کا مظاہرہ کیا۔
حضرت یعقوبؑ نے حضرت یوسفؑ کی جدائی میں فرمایا:﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾(سورۂ یوسف: 18)
یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ صرف اللہ سے ہو، لوگوں سے نہیں۔
حضرت یوسفؑ نے کنویں، غلامی، قید اور اقتدار کے تمام مراحل میں تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
حضرت موسیٰؑ نے فرعون جیسے ظالم حکمران کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد اور مسلسل استقامت کا مظاہرہ کیا۔
حضرت ایوبؑ؛ صبر کی کامل تصویر
جب صبر کا ذکر ہوتا ہے تو حضرت ایوبؑ کی شخصیت سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مال، اولاد اور صحت جیسی بڑی نعمتوں سے آزمایا، لیکن انہوں نے زبان پر شکوہ نہ آنے دیا۔
قرآن فرماتا ہے:﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾(سورۂ ص: 44)
"ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ تھا اور ہمیشہ ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا۔"
تفسیر المیزان کے مطابق حضرت ایوبؑ کی عظمت صرف بیماری برداشت کرنے میں نہیں تھی بلکہ آزمائش کے باوجود اللہ سے حسنِ ظن قائم رکھنے میں تھی۔ انہوں نے دعا بھی شکایت کے انداز میں نہیں بلکہ بندگی کے انداز میں کی:
﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾(سورۂ انبیاء: 83)
یہی حقیقی صبر ہے کہ انسان تکلیف کو تسلیم کرے مگر اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔
حضرت ایوبؑ سے امام سجادؑ تک
اگر حضرت ایوبؑ نے ذاتی مصائب میں صبر کی مثال قائم کی تو امام زین العابدین حضرت علی بن الحسینؑ نے اجتماعی مصائب میں صبر کی نئی تاریخ رقم کی۔ کربلا میں اپنے والد امام حسینؑ، بھائیوں، چچاؤں، بھتیجوں اور اصحاب کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی، اسیری برداشت کی، کوفہ و شام کے بازاروں میں قید رہے، لیکن نہ دین کے اصولوں سے پیچھے ہٹے اور نہ ظلم کے سامنے سر جھکایا۔
امام سجادؑ کا صبر خاموشی نہیں تھا بلکہ بیداری، تبلیغ اور حق کی حفاظت کا ذریعہ تھا۔ کوفہ اور شام کے خطبات نے یزید کی حکومت کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا، جبکہ صحیفۂ سجادیہ نے دعا کے ذریعے امت کی فکری اور روحانی تربیت کی۔
امام سجادؑ کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت میں اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہی حقیقی صبر ہے۔ آپؑ نے اپنی پوری زندگی اس بات کا عملی نمونہ پیش کیا کہ صبر انسان کو شکست نہیں دیتا بلکہ اسے تاریخ کا رہبر بنا دیتا ہے۔
نتیجہ
قرآن کریم، انبیائے الٰہی اور اہل بیتؑ کی سیرت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صبر محض مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت پر استقامت، گناہوں سے اجتناب، مشکلات میں امید اور حق پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسیٰؑ اور خصوصاً حضرت ایوبؑ نے اپنے کردار سے صبر کی مختلف جہتوں کو نمایاں کیا، جبکہ امام سجادؑ نے کربلا کے بعد اپنے صبر، عبادت، دعا اور تبلیغ کے ذریعے اس قرآنی تعلیم کو عملی شکل عطا کی۔ آج بھی اگر مسلمان ان ہستیوں کے اسوۂ صبر کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنالیں تو مشکلات ان کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"









آپ کا تبصرہ