پیر 13 جولائی 2026 - 12:19
امام زمانہ کے انتظار سے ظہور تک کا سفر!

حوزہ/لغوی اعتبار سے انتظار کسی محبوب کے آنے کی امید کو کہتے ہیں مگر مکتبِ اہلِ بیتؑ میں انتظار کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ یہ امید کے ساتھ ذمہ داری، محبت کے ساتھ اطاعت اور دعا کے ساتھ عمل کا نام ہے۔

تحریر: نرگس غلام شبیر، جامعہ المصطفی کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ (سورۂ قصص، آیت: 5)

تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جب بھی ظلم و باطل نے انسانیت کو اپنی گرفت میں لیا، اللہ تعالیٰ نے انبیاءؑ اور اوصیائے الٰہی کے ذریعے ہدایت کا چراغ روشن کیا۔ اسی سلسلۂ ہدایت کی آخری کڑی حضرت امام مہدیؑ ہیں، جو اگرچہ پردۂ غیبت میں ہیں، لیکن ان کی ولایت اور ہدایت آج بھی اہلِ ایمان کے لیے امید، استقامت اور عدلِ الٰہی کی نوید ہے۔ اسی لیے انتظار محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکر اور باعمل طرزِ زندگی ہے۔

لغوی اعتبار سے انتظار کسی محبوب کے آنے کی امید کو کہتے ہیں مگر مکتبِ اہلِ بیتؑ میں انتظار کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ یہ امید کے ساتھ ذمہ داری، محبت کے ساتھ اطاعت اور دعا کے ساتھ عمل کا نام ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ، وَلْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَمَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ؛ یعنی جو شخص قائمؑ کے اصحاب میں شامل ہونا چاہتا ہے، وہ تقویٰ اور حسنِ اخلاق کے ساتھ انتظار کرے۔

رسولِ اکرم (ص) نے فرمایا: أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي انْتِظَارُ الْفَرَجِ۔

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی انتظار انسان کو خودسازی، عبادت، علم، بصیرت اور خدمتِ خلق کی طرف لے جاتا ہے۔ خصوصاً مدارس کے طلاب اس انتظار کا عملی نمونہ ہے، جو علمِ اہلِ بیتؑ کو معاشرے کی اصلاح اور دین کی خدمت کا ذریعہ بناتا ہے۔

امامِ زمانہؑ کا ظہور صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عدلِ الٰہی کے عالمی نظام کا آغاز ہے۔ اس عظیم انقلاب کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو غیبت کے دور میں اپنے ایمان، کردار، علم اور تقویٰ کو مضبوط بنا چکے ہوں۔ لہٰذا انتظار سے ظہور تک کا سفر دراصل خودسازی، کردار سازی اور رضائے الٰہی کے حصول کا سفر ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں امامِ عصرؑ کی معرفت، حقیقی انتظار اور ان کے ظہور کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ. آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha