تحریر: سیدہ زہراء موسوی، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ولایت فقیہ کا معنی و مفہوم:
ولایت فقیہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ولایت یعنی سرپرستی اور فقیہ یعنی ایسا عالم جو دین اور اسلامی قانون کے بارے میں گہرائی تک مکمل معلومات رکھتا ہو۔ ولایت فقیہ یعنی عصرِ غیبت میں حکومت ایک ایسے عالم دین کے ہاتھ میں ہو جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ قانون دان اور با صلاحیت بھی ہو۔
ولی فقیہ کی شرائط
1۔ فقہی بصیرت اور علمی قابلیت:
ولی فقیہ کو اسلامی قوانین میں مکمل مہارت ہونی چاہیے تاکہ وہ قرآن اور احادیث سے صحیح فیصلے نکال سکے۔
2۔ تقویٰ اور عدالت:
انہیں متقی اور عادل ہونا چاہیئے تاکہ لوگوں کے درمیان عدل وانصاف قائم کر سکے اور اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کرے۔
3۔ کفایت اور تدبر:
انتظامی امور چلانے کی سمجھ بوجھ، عقل اور سیاسی بصیرت ہونی چاہیے۔
4۔ حالات حاضرہ کی آگاہی:
زمانے کے موجودہ حالات، معاشرتی مشکلات اور عالمی سیاست کا علم ہونا چاہئیے تاکہ بر وقت صحیح فیصلے لے سکیں۔
ولایت فقیہ قرآن کی روشنی میں:
آیہ اوالامر میں خداوند تعالی فرماتا ہے:
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ۔
ترجمہ: خدا کی اطاعت کرو،پیامبر و صاحبان امر کی اطاعت کرو (سورہ نساء 59)
پھر سورہ سورہ نساء کی آیت 141 میں ارشاد ہوتا ہے: لَنْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا۔
ترجمہ: اور اللہ ہرگز کافروں کو ایمان والوں پر (غلبہ یا حجت کا) کوئی راستہ نہیں دے گا۔
یعنی ان آیات سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اگر مومنین الٰہی احکامات پر مکمل عمل کرینگے اور ثابت قدم رہیں گے تو کافر کبھی بھی مسلمانوں پر غلبہ حاصل نہیں کر پائیں گے اور آخرت میں وہ مؤمنین کے خلاف کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ (آلعمران 28)ترجمہ: مومنوں کو چاہیے کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا سرپرست اور دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔
جیسے کہ اس آیہ میں ارشاد ہوا ہے کہ مومنین کافروں کو نہ اپنا سرپرست بنائیں اور نہ ان سے دوستی رکھیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اللہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہیں:
أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَجو (سورہ یونس 35)ترجمہ: حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، یا وہ جو خود ہدایت نہیں پا سکتا جب تک اسے ہدایت نہ دی جائے؟ پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
اس آیہ میں خداوند ہم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ کیا وہ لوگ جو دوسروں کو ہدایت دے سکیں وہ پیروی کے حقدار ہیں یا وہ جو خود ہدایت پانے پر دوسروں کا محتاج ہے؟؟
تو یہاں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمیں صرف ان کی پیروی کرنی چاہیے جو خود ہدایت دینے کے لائق ہوں۔
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (سورہ مائدہ 44) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں۔
جیسے کہ اس آیہ شریفہ سے واضح ہوا کہ خدا نے ہر معاملے میں اپنے احکامات جاری کیے ہیں۔ اور ہمیں چاہیے کہ ان کے مطابق فیصلے کرین اور اگر ایسا نہیں کیا تو کافر ہو جائیں گے۔ البتہ یہاں مفسرین کے نزدیک جاننے کے باوجود اللہ کے حکم کا انکار کرنے سے کافر ہو جاتا ہے لیکن ہاں اللہ کے حکم کو حق مانتے ہوئے نفسانی خواہشات کی وجہ سے اگر عمل نہ کرے تو اس کا حکم الگ ہے۔
ولایت فقیہ احادیث کی روشنی میں:
مولائے متقیان فرماتے ہیں: العلماءُ حُكّامٌ على الناس (غررالحکم،ج1،ص20،ح559) علماء لوگوں پر حاکم (راہنما اور صاحبِ اختیارِ دینی) ہیں۔
امیر المومنین کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ علماء جو قرآن و حدیث کا گہرائی میں علم رکھتے ہیں اور قانون دان بھی ہیں ان کی طرف رجوع کرنی چاہیے تاکہ فیصلے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہو۔ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ علماء صرف دینی تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ ایک اعلیٰ سطحی حکمران بھی ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:الْمُلُوكُ حُكَّامٌ عَلَى النَّاسِ، وَالْعُلَمَاءُ حُكَّامٌ عَلَى الْمُلُوكِ.(: کنزا نوائد، ص 195)
بادشاہ لوگوں پر حکمران ہوتے ہیں، اور علماء بادشاہوں پر حکمران ہوتے ہیں۔
یعنی امام فرماتے ہیں کہ جیسے بادشاہ کا کام سیاسی اور انتظامی حوالے سے لوگوں پر حکومت کرتے ہیں اور علماء کا کام دین کی تعلیمات کے مطابق بادشاہوں کی حکمرانی کرنے کے ہے مثلاً انہیں حق و باطل کا بتانا، ظلم سے روکنا ،اور ان کے فیصلوں کو خدا کے حکم کے مطابق پرکھنا وغیرہ اس طرح علماء بادشاہوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔
امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں فرمایا: وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ، وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ.(حر عاملی،محمد بن الحسن،وسائل الشیعہ، ج 27، ص 140، موسسہ اہل بیت، قم، 1401419 ہجری)
اور جہاں تک نئے پیش آنے والے مسائل کا تعلق ہے، ان میں ہمارے احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں، اور میں اللہ کی حجت ہوں۔
امام فرماتے ہیں کہ میرے غیبت کے زمانے میں نئے پیش آنے والے مسائل کے لیے ایسے فقیہ کی پیروی کرو جو ہمارے احادیث کو گہرائی میں جاکر سمجھے اور صحیح راوی ہو۔ہمارے زمانے کے امام کے ایک قول سے ہی ولایت فقیہ یہاں ثابت ہوتی ہے۔
یہ روایت کتاب کمال الدین اور احتجاج طبرسی میں بھی آئی ہیں۔
ایگ جگہ رسول اللہ نے فرمایا: اللهم ارحم خلفائي یعنی میرے جانشینوں پر رحم فرما۔
صحابہؓ نے عرض کیا: يا رسول الله، ومن خلفاؤك؟ (یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون ہیں؟) آپ نے فرمایا: الذين يأتون من بعدي، يروون حديثي وسنتي ويعلمونها الناس. (عیون اخبار الرضا، ج2، باب 37، ح2۔ بحارالانوار، ج2، ص144)
وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے، میری حدیث اور سنت کو روایت کریں گے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔
اس حدیث سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف وہی لوگ پیامبر کے جانشین ہو سکتے ہے جوآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھائے یعنی حدیث اور سنت کی حفاظت اور تعلیم دینے والے۔
ولایت فقیہ علماء کی نظر میں:
1. امام خمینی کی نظر میں :
امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے دورہ غیبت میں ایک عادل اور قانون دان فقیہ کو حکومت کرنے کا حق ہے اور ولایت فقیہ کا مقصد معاشرے میں اسلامی نظام کی حفاظت، عدل و انصاف قائم کرنا اور لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے اور اگر رئیس حکومت عادل نہیں ہونگے تو وہ لوگوں کے حق میں کوتاہی کریں گے اور قانون کے معاملے میں بھی انصاف سے کام نہیں لیں گے اور پورے معاشرے کو اپنے خواہشات نفسانی کے مطابق چلائیں گے تو ریس حکومت کا عادل ہونا ضروری ہے جیسے خدا فرماتے ہیں: قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ. کہا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ (سورہ بقرہ، 124)۔
مفسرین یہاں "عھدی" کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عھد سے مراد اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص عھدہ ہیں مثلاً نبوت، امامت وغیرہ ۔۔۔۔تو اس آیہ شریفہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ کا جو خاص عھدہ ہیں وہ ظالموں تک نہیں پہنچتا۔
ولایت فقہی شھید آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں:
آپ کے نزدیک عصر غیبت میں ولایت فقیہ کی ذمہ داری قرآن وسنت کی روشنی میں ایک اسلامی معاشرے کی دینی اور سیاسی رہنمای کرنا،ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا اور اسلامی اقتدار کی حفاظت کرنا ہیں ۔
نتیجہ:
قرآن و احادیث کی روشنی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عصر غیبت میں ایسے فقیہ حکومت اسلامی کے حقدار ہوتے ہیں جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر قانون دان بھی ہوں۔ اور اس ولایت فقیہ کا ہدف اسلامی تعلیمات کی ترقی و حفاظت، معاشرے میں عدل و انصاف نیز لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہے۔ قران و حدیث کی رو سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ولی فقیہ معاشرے کے تمام افراد میں سب سے زیادہ بابصیرت اور دشمن شناس ہوتے ہیں۔ جو معاشرے کے فیصلوں کو صحیح اور خداوند عالم کے بتائی ہوئے تعلیمات کے مطابق سر انجام دیتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ