حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جعفرِ طیار سوسائٹی کراچی پاکستان میں جامعۃ المصطفیٰ کی طالبات کے زیرِ اہتمام رہبرِ شہید کی تدفین کے موقع پر ایک پُراثر اور روح پرور معنوی اجتماع منعقد کیا گیا۔ اس اجتماع کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جہاں جامعہ المصطفیٰ کی طالبہ، حافظہ دعا رضوی نے نہایت خوش الحانی کے ساتھ سورۂ قیامت کی تلاوت کی، جس نے محفل کو نورِ قرآن سے معطر کر دیا۔

اس موقع پر رہبرِ شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں حاضرین نے بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔

اس موقع پر، شعبۂ تعلیم کی مسؤل خانم کنیز فاطمہ نے رہبرِ عزیز کی نگاہ میں علم کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو بندگیِ خدا، بصیرت اور معاشرے کی اصلاح کی جانب رہنمائی کرے۔ اور اسی موقع پر جامعہ المصطفی العالمیہ نمائندگی پاکستان کا تعارف بھی کرایا۔

بعد ازاں فارغ التحصیل خواہران کی مسئول، خانم ندا زہراء رضوی نے قرآن کریم کی آیتِ من المؤمنین رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ کو اپنے خطاب کا عنوان بنایا اور شہیدِ رہبر کی شخصیت کو اسی قرآنی معیار کا عملی نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی شجاعت کو حضرت امام حسینؑ کی شجاعت کی ایک جھلک قرار دیتے ہوئے ان کی حیاتِ مبارکہ کے متعدد درس آموز پہلوؤں کو بیان کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عصرِ غیبتِ کبریٰ میں جن صفات کو آئمہ معصومینؑ نے رہبرِ امت کے لیے بیان فرمایا ہے، وہ تمام اوصاف شہیدِ رہبر کی شخصیت میں نمایاں تھے؛ خواہ وہ قرآنی بصیرت ہو، تاریخ شناسی، ادب سے گہری وابستگی، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی یا شہداء کی تکریم اور ان کے راستے کی حفاظت۔

خطاب کے اختتام پر حاضرین کی ذمہ داریوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا:
- رہبر کی فکر اور نظریے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جائے۔
- ان کے اصولِ حیات کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ ان کے اقوال اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا نچوڑ ہیں۔
آپ کے اصول و نظریات جسے ابلاغِ حقیقت، دفاع اسلام، ظلم ستیزی، عدالت محوری، حمایت مظلوم کو زندگی کا محور بنایا جائے اور آئندہ نسل تک پہنچایا جائے۔
- حقائق کو جرأت اور بصیرت کے ساتھ بیان کیا جائے۔
- اسلام کا ہر میدان میں دفاع کیا جائے۔
- عدل و انصاف کے قیام کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
- مظلوموں کی حمایت اور نصرت کو اپنا فریضہ سمجھا جائے-
- مشکلات اور آزمائشوں میں کبھی مایوسی اختیار نہ کی جائے۔
- استکبار اور ظلم کے مقابلے میں استقامت اور قیام کو اپنی شناخت بنایا جائے۔
یہ معنوی اجتماع درحقیقت صرف تعزیت یا خراجِ عقیدت کی محفل نہ تھا، بلکہ ایک تجدیدِ عہد تھا کہ رہبرِ شہید کی فکر، بصیرت اور جدوجہد کو اپنے کردار، علم اور عمل کے ذریعے زندہ رکھا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی حق، عدالت اور مقاومت کے اسی روشن راستے پر گامزن رہیں۔









آپ کا تبصرہ