یادداشت: رینا گیس
حوزہ نیوز ایجنسی|
﴿وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ﴾
"انہوں نے ابراہیمؑ کے خلاف سازش کا ارادہ کیا، مگر ہم نے انہی کو سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والا بنا دیا۔" (الأنبیاء: 70)
یہ آیت رہبرِ شہید کی حیاتِ مبارکہ اور ان کے فکری و انقلابی سفر کی ایک جامع قرآنی تعبیر محسوس ہوتی ہے۔ باطل قوتوں نے اپنی عسکری برتری، سیاسی دباؤ اور عالمی سازشوں کے ذریعے یہ گمان کیا کہ رہبرِ شہید کو راستے سے ہٹا کر حق و مقاومت کی آواز کو خاموش کر دیا جائے گا، مگر مشیتِ الٰہی نے ان کے تمام منصوبوں کو انہی کی ناکامی اور رسوائی کا سبب بنا دیا۔
دشمن یہ سمجھتا تھا کہ ایک شخصیت کو مٹا کر ایک فکر کا خاتمہ کر دے گا، لیکن رہبرِ شہید کی تشییع میں شریک لاکھوں انسانوں نے ثابت کر دیا کہ اللہ کے لیے اٹھنے والی آوازیں افراد کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ شہادت کے بعد مزید وسعت اور تاثیر اختیار کر لیتی ہیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت اور منطق کے درمیان ایک معکوس تعلق پایا جاتا ہے۔ جب باطل دلیل اور استدلال سے محروم ہو جاتا ہے تو جبر، دھونس اور طاقت کا سہارا لیتا ہے۔ آج کی عالمی طاقتیں اور ان کے قائدین بھی اسی روش کے مظہر ہیں۔ جب حق کے مقابلے میں ان کے پاس دلیل باقی نہیں رہتی تو وہ عسکری قوت اور دھمکیوں کو اپنا ہتھیار بنا لیتے ہیں، اور یہی طرزِ عمل درحقیقت ان کی فکری کمزوری کا اعتراف ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، اہلِ حق کا امتیاز یہ ہے کہ جوں جوں انہیں قوت حاصل ہوتی ہے، وہ اتنے ہی زیادہ متواضع، حکیم اور منطقی ہوتے جاتے ہیں۔ رہبرِ شہید کی پوری زندگی اسی قرآنی مزاج کی آئینہ دار تھی۔ ان کی طاقت تکبر یا دنیاوی سہاروں سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان، توکل اور تسلیم و رضا سے پھوٹتی تھی۔
رہبرِ شہید کی شخصیت میں حضرت ابراہیمؑ کی سیرت کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے غیر متزلزل یقین اور کامل استغنا کا مظاہرہ کیا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیلؑ نے عرض کیا:أَلَكَ حَاجَةٌ؟"کیا آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے؟"
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا:أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا
"تمہاری طرف سے مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔"
اور جب عرض کیا گیا کہ اپنے رب سے دعا کیجیے، تو آپؑ نے فرمایا:حَسْبِي مِنْ سُؤَالِي عِلْمُهُ بِحَالِي
"میرا حال جان لینا ہی میرے سوال سے زیادہ میرے لیے کافی ہے۔"
یہی روحِ توکل رہبرِ شہید کی پوری زندگی میں نمایاں رہی۔ انہوں نے کبھی کسی سپر پاور کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا، نہ اپنی بقا کے لیے طاقتوروں کے دروازے پر دستِ سوال دراز کیا۔ ان کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا، اور انہوں نے اپنی تمام مشکلات اسی کے سپرد کیں۔
آج رہبرِ شہید کی شہادت کے بعد عوام کی بے مثال حاضری اور عقیدت اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے جیتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے، اسے مٹانا کسی باطل قوت کے اختیار میں نہیں۔ باطل کی سازشیں وقتی طور پر نقصان کا گمان ضرور پیدا کرتی ہیں، مگر انجامِ کار وہی سازشیں حق کی بقا، استقامت اور دائمی فتح کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یہی قرآن کا وعدہ ہے اور یہی تاریخ کا فیصلہ۔









آپ کا تبصرہ