منگل 7 جولائی 2026 - 18:11
الوداع اے ہمارے شہید رہبر الوداع!

حوزہ/آج فضا سوگوار ہے۔ ہوائیں بھی مغموم اور اپنی رفتار بھول کر آہستہ آہستہ چل رہی ہیں، گویا وہ بھی اس عظیم جدائی پر نوحہ کناں ہوں۔ آسمان کی وسعت پر اداسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، اور زمین کے سینے پر خاموشی کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی ہے۔

یادداشت:غلام شبر جامعہ المصطفیٰ

حوزہ نیوز ایجنسی|

آج فضا سوگوار ہے۔ ہوائیں بھی مغموم اور اپنی رفتار بھول کر آہستہ آہستہ چل رہی ہیں، گویا وہ بھی اس عظیم جدائی پر نوحہ کناں ہوں۔ آسمان کی وسعت پر اداسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، اور زمین کے سینے پر خاموشی کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی ہے۔

وجود کا ایک ایک انگ غم کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ دل کی ہر دھڑکن ایک آہ بن چکی ہے، سانسیں سینۂ غم میں الجھی ہوئی محسوس ہورہی ہیں، اور آنکھیں اشکوں کی ایسی نذر ہو چکی ہیں کہ منظر دھندلا گئے ہیں۔ لب لرز رہے ہیں مگر زبان پر خاموشی کا ایسا قفل پڑا ہے کہ لفظ جنم لینے سے پہلے ہی سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے غم و اندوہ نے روح تک کو اپنی آغوش میں لے لیا ہو، اور وقت بھی اس لمحۂ فراق پر ٹھہر کر ماتم کر رہا ہو۔

کیا کہا جائے، جب ہر احساس خونِ دل میں ڈوبا ہو، ہر دعا آہ بن گئی ہو، اور ہر امید جدائی کی دہلیز پر سر جھکائے کھڑی ہو؟ ایسے میں دل کی گہرائیوں سے صرف ایک صدا ابھرتی ہے، ایک ایسی صدا جس میں بے بسی بھی ہے، محبت بھی، اور ہمیشہ کی جدائی کا کرب بھی...

الوداع ! اے عزیز ہستی، الوداع ! الوداع اے شہید رہبر الوداع ! کہ اب خاموشیاں ہی تیرا پتہ دیں گی، اور یادیں ہی تیرا نام لے کر ہمیں رلاتی رہیں گی۔

آج ہم ایک ایسے رہبر کو رخصت کر رہے ہیں جس نے صرف ایک قوم کی رہنمائی نہیں کی، بلکہ دلوں کو حوصلہ، ذہنوں کو شعور اور قدموں کو استقامت عطا کی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت ایک لمحے کے لیے ٹھہر گیا ہے اور ہر دل اپنے محسن کی جدائی پر خاموش نوحہ کناں ہے۔

آپ کی شفقت ایک باپ کی مانند تھی، آپ کی حکمت ایک روشن چراغ کی طرح ہماری راہوں کو منور کر رہی تھی، آپ کی نصیحتیں ہر کٹھن موڑ پر ہماری رہنمائی کرتی رہیں۔ آپ کے بصیرت افروز بیانات نے قوموں کو بیدار کیا، آپ کی دعائیں ہمارے لیے سرمایۂ حیات بنیں، آپ کی دوربین نگاہوں نے آنے والے خطرات کو بہت پہلے دیکھ لیا، اور آپ کی پیش بینیاں وقت کے ساتھ ایک ایک کر کے حقیقت کا روپ دھارتی گئیں۔ آپ نے ہمیں صرف حالات کا تجزیہ کرنا نہیں سکھایا بلکہ حالات کو بدلنے کا حوصلہ بھی عطا کیا۔ آپ کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ہمارے لیے امید، اعتماد اور یقین کا پیغام بن جاتا تھا۔

آپ نے ہمیں ہمیشہ یہ احساس دلایا کہ ’’ہم کر سکتے ہیں‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ ایمان اور پایندہ حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قوم اپنے رب پر توکل کرے، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھے اور مسلسل جدوجہد کرے تو کوئی منزل دور نہیں رہتی۔ آج ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے جو کہا، وقت نے اس کی تصدیق کی؛ آپ نے جن خطرات سے آگاہ کیا، وہ سامنے آئے؛ اور آپ نے جن کامیابیوں کا راستہ دکھایا، اللہ کے فضل و کرم سے قوم نے ان کی جھلک بھی دیکھی۔ علم ہو یا صنعت، دفاع ہو یا خود انحصاری، ثقافت ہو یا قومی وقار، ہر میدان میں آپ کی فکر نے ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کا راستہ دکھایا۔

آج جب آپ کا جنازہ ہمارے درمیان ہے تو دل بار بار یہی سوال کرتا ہے کہ اب وہ پدرانہ شفقت کہاں سے ملے گی؟ وہ حکیمانہ رہنمائی کس سے سننے کو ملے گی؟ وہ امید جگانے والی آواز، وہ ایمان تازہ کر دینے والے خطابات، وہ بصیرت افروز ارشادات اور دوراندیش فیصلے اب کس زبان سے سننے کو ملیں گے؟ دل بار بار اس جدائی پر اشک بار ہوتا ہے، مگر اسی لمحے یقین و ایمان یہ تسلی بھی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی امت کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ وہ جب ایک عظیم رہبر کو اپنے حضور بلا لیتا ہے تو اپنے فضل سے اس کا نعم البدل بھی عطا فرما دیتا ہے، تاکہ ہدایت، استقامت اور قیادت کا سفر رکے نہیں بلکہ اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔

اسی یقین کے ساتھ آج اگرچہ ہم آپ کو سپردِ خاک کے لیے الوداع کر رہے ہیں، لیکن مایوس نہیں ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں ایک نیا رہبر عطا فرمایا ہے۔ ہماری نگاہوں میں آپ کی محبت، عظمت اور مقام ہمیشہ قائم رہے گا اور ہمارے دل اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جس مشن، جس فکر، جس راہ اور جس پرچم کو آپ نے بلند کیا، اسی پر اپنے نئے رہبر کی قیادت میں ثابت قدم رہیں گے۔ یہی آپ کے ساتھ حقیقی وفاداری ہے، یہی آپ کے تعلیمات کا تقاضا ہے، اور یہی ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلۂ ہدایت و قیادت کو ظہور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک اپنی نصرت و تائید سے قائم و دائم رکھے۔

(آمین)

الوداع اے شہید رہبر الوداع!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha