تحریر: عروج فاطمہ جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| ایثار کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ ضرورت کے وقت انسان دوسرے کو اپنے نفس پر مقدم رکھے۔ اس عظیم صفت کا کامل ترین نمونہ، حضرت امام حسینؑ اور آپؑ کے باوفا اصحاب و انصار نے کربلا میں پیش کیا۔
امام حسینؑ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ضرورت کے وقت صرف دوست ہی نہیں بلکہ دشمن کو بھی اپنی ذات پر مقدم کرنا چاہیے۔ اس کی روشن مثال اس وقت سامنے آئی جب عراق کے راستے میں حر بن یزید ریاحی اپنے لشکر سمیت آپؑ کا راستہ روکنے آیا۔ شدید گرمی اور پیاس کے باوجود امام حسینؑ نے اپنے تمام پانی کے ذخیرے سے نہ صرف حر کے لشکر بلکہ ان کے گھوڑوں تک کو سیراب فرمایا اور اپنے مستقبل کی ضرورت کے لیے پانی محفوظ نہ رکھا۔
کربلا میں امام حسینؑ کے اصحاب و اہلبیت کے ہر فرد نے اپنی جان سے بڑھ کر امامؑ کی جان کی حفاظت کو اہم سمجھا۔ وہ اپنی ہستی کو امامؑ پر قربان کرنے کے لیے ہر لمحہ تیار تھے۔ حضرت سعید بن عبداللہ حنفی کا نماز کے وقت امامؑ کے سامنے سپر بن کر کھڑا ہونا اور تیروں کو اپنے سینے پر روک لینا ایثار کا فقید المثال نمونہ ہے۔
روزِ عاشور ہر مجاہد ایک دوسرے سے پہلے میدانِ قربانی میں جانے کی آرزو رکھتا تھا۔ اگرچہ سب جانتے تھے کہ بچنے والا کوئی نہیں، لیکن ہر ایک کی خواہش یہی تھی کہ جب تک وہ زندہ ہے، امام حسینؑ اور دوسرے ساتھیوں پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔
انہیں اپنی جان کی فکر نہ تھی، نہ اپنے گھر والوں کا غم تھا؛ اگر کوئی غم تھا تو صرف حسین علیہ السلام کا، اور اگر کوئی فکر تھی تو صرف امامؑ کی تنہائی کی۔ چنانچہ سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ، دونوں بھائی امامؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر رونے لگے۔ امامؑ نے فرمایا: "کیوں روتے ہو؟" انہوں نے عرض کیا: "مولا! ہم اپنے لیے نہیں روتے، ہمیں تو آپؑ کی بےکسی پر رونا آتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن نے آپؑ کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اب ہم آپؑ کی حفاظت کا حق ادا نہیں کر سکیں گے۔
اسی طرح حضرت بشیر بن عمرو حضرمی کو خبر ملی کہ ان کا بیٹا سرحدِ رے میں قید ہو گیا ہے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: "تم میری بیعت سے آزاد ہو، جاؤ اور اپنے بیٹے کی رہائی کی کوشش کرو۔" مگر اس وفادار صحابی نے عرض کیا: "اگر میں آپؑ کو چھوڑ کر چلا جاؤں تو مجھے درندے زندہ کھا جائیں، میں ہرگز آپؑ سے جدا نہیں ہو سکتا۔"
اسی طرح حضرت ابو الفضل العباسؑ اور ان کے بھائیوں کے لیے دو مرتبہ امان نامے آئے؛ ایک عبداللہ بن ابی محل کے ذریعے، جو حضرت اُمّ البنینؑ کے بھتیجے تھے، اور دوسرا شمر کے ذریعے۔ مگر انہوں نے دونوں امان نامے ٹھکرا دیئے۔ اپنے سامنے زندگی کا راستہ کھلا ہونے کے باوجود امام حسینؑ کا ساتھ نہ چھوڑنا ایثار کی بلند ترین مثال ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا ایثار یہ تھا کہ امام حسینؑ اور آپؑ کے ساتھیوں نے دینِ اسلام کی بقا، حق کے تحفظ اور انسانیت کو ظلم سے بچانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ دنیا کی کوئی نعمت، کوئی رشتہ اور کوئی خواہش انہیں راہِ خدا سے نہ ہٹا سکی۔
امام حسینؑ کی قربانی ایک منظم اور حکیمانہ قربانی تھی۔ اگر آپؑ ابتدا ہی میں شہادت قبول فرما لیتے تو کوئی یہ گمان کر سکتا تھا کہ آپؑ نے مصائب سے گھبرا کر جان دے دی، لیکن آپؑ نے مرحلہ وار اپنی ہر محبوب چیز راہِ خدا میں قربان کر کے ثابت کر دیا کہ آپؑ کا اقدام جذبۂ وقتی نہیں بلکہ بصیرت، فرض شناسی اور رضائے الٰہی پر مبنی تھا۔
روزِ عاشور سب سے پہلے آپؑ کے باوفا اصحاب نے اپنی جانیں قربان کیں۔ پھر اہلِ بیت کی باری آئی۔ حضرت علی اکبرؑ جیسے جوان فرزند، حضرت قاسمؑ اور حضرت عبداللہؑ جیسے بھتیجے، حضرت ابو الفضل العباسؑ جیسے وفادار بھائی، سب ایک ایک کر کے راہِ حق میں قربان ہوئے۔ آخر میں باغِ اُمید کی آخری کلی، حضرت علی اصغرؑ بھی اپنے والد کے ہاتھوں پر شہید ہوئے۔
جب دل کے تمام ٹکڑے قربان ہو گئے تو پھر امام حسینؑ نے اپنے جسم کا ایک حصہ بھی اللہ کی راہ میں نچھاور کر دیا۔ تیروں، تلواروں اور نیزوں کے بے شمار زخموں سے تنِ اقدس اس طرح چھلنی ہو گیا کہ جسم پر کوئی ایسی جگہ باقی نہ رہی جہاں زخم نہ ہو۔ اس طرح امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیت، اپنے اصحاب، اپنی اولاد، اپنے بھائیوں، اپنے جسم اور آخرکار اپنی جان تک کو اللہ کی رضا اور دینِ محمدیؐ کی بقا کے لیے قربان کر دیا۔ یہی ایثارِ حسینیؑ ہے، جو قیامت تک انسانیت کے لیے قربانی، وفاداری اور حق پر استقامت کا عظیم ترین درس رہے گا۔
آج اگرچہ میدانِ کربلا جیسی جنگ ہمارے سامنے نہیں، لیکن ایثارِ حسینیؑ کا درس آج بھی اتنا ہی زندہ اور ضروری ہے۔ آج ایثار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دے، اپنے والدین کی خدمت کرے، اپنے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے، ضرورت مندوں کی مالی مدد کرے، بیماروں کی عیادت کرے، مظلوم کا ساتھ دے اور حق و انصاف کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہے۔
اگر کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم اپنے آرام، وقت، مال اور خواہشات کو قربان کر کے اس کی مدد کریں۔ اگر دین، عزاداری، تبلیغِ اسلام یا خدمتِ خلق کے لیے ہمارے وقت، مال یا صلاحیت کی ضرورت ہو تو امام حسینؑ کے ماننے والے ہونے کے ناطے ہمیں خوشی سے پیش ہونا چاہیے۔
گھروں میں ایثار یہ ہے کہ ہم اپنی ضد، انا اور ذاتی مفاد کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی خوشی کو ترجیح دیں۔ معاشرے میں ایثار یہ ہے کہ ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، کسی پر ظلم نہ کریں، کسی کا حق نہ ماریں اور ہمیشہ سچائی اور انصاف کا ساتھ دیں۔
اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایثارِ حسینیؑ کو اپنا لیں تو ہمارے گھروں میں محبت، معاشرے میں امن اور امت میں اتحاد پیدا ہوگا۔ یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے کہ انسان ہر حال میں حق کا ساتھ دے، باطل کے سامنے نہ جھکے اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان، مال، وقت اور خواہشات تک اللہ اور اس کے دین کی خاطر قربان کرنے سے دریغ نہ کرے۔









آپ کا تبصرہ