تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسا منظر ابھرتا ہے جس میں ایک عظیم المرتبت خاتون، اپنے بھائی حسین بن علیؑ کی شہادت کے بعد، یزید کے دربار میں کھڑی ہو کر حق کی آواز بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ہم انہیں صبر کی علامت، شجاعت کا پیکر، اسیرانِ کربلا کی سرپرست اور پیامِ عاشورا کی امین کے طور پر جانتے ہیں۔
لیکن کیا حضرت زینبؑ کی پوری شخصیت صرف کربلا کے بعد کے خطبوں میں سمٹ جاتی ہے؟
یقیناً نہیں!
حضرت زینبؑ کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے: وہ صرف کربلا کی گواہ نہیں تھیں؛ وہ کربلا کے بعد باقی رہ جانے والے مکتب کی محافظ تھیں۔
کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے خون سے دین کے اصولوں کی حفاظت کی، لیکن اس خون کے بعد جو خاندان، بچے، بیمار امام، خواتین اور پیغام باقی رہ گیا، اسے تاریخ کے اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے ایک ایسی شخصیت درکار تھی جس میں علم بھی ہو، بصیرت بھی، عفت بھی، جرأت بھی، تدبیر بھی اور سب سے بڑھ کر امامت کی معرفت بھی۔
یہ کردار حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ادا کیا۔
۱۔ زینبؑ کو صرف "صابرہ" بنا دینا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہے
حضرت زینبؑ کے بارے میں ہماری گفتگو اکثر ایک جملے پر آ کر رک جاتی ہے:
"زینبؑ نے بہت صبر کیا۔"
یہ بات درست ہے، لیکن ناکافی ہے۔
صبر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان مصیبت برداشت کرے اور خاموش رہے۔
حضرت زینبؑ کا صبر فعال صبر تھا؛ ایسا صبر جو انسان کو ذمہ داری سے فرار نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے ذمہ داری اٹھانے کے قابل بناتا ہے۔
کربلا کے بعد ان کے سامنے صرف اپنا غم نہیں تھا۔ ان کے سامنے:
شہداء کے یتیم بچے تھے؛
خواتین کا خوف تھا؛
بیمار امام زین العابدینؑ کی حفاظت تھی؛
دشمن کی نگرانی تھی؛
کوفہ اور شام کی سیاسی فضا تھی؛
اور سب سے بڑھ کر یہ خطرہ تھا کہ کہیں حسینؑ کا پیغام قاتلوں کی طرف سے بیان نہ کیا جائے۔
لہٰذا زینبؑ کا صبر ایک تاریخی ذمہ داری بن گیا۔
وہ روئیں بھی، مگر صرف رونے والی نہ بنیں۔
وہ غم زدہ بھی ہوئیں، مگر غم نے ان کے شعور کو مفلوج نہیں کیا۔
وہ اسیر بھی ہوئیں، مگر ان کی فکر اسیر نہیں ہوئی۔
یہی حضرت زینبؑ کے صبر کی اصل عظمت ہے۔
۲۔ کربلا کے بعد سب سے بڑا معرکہ "بیانیے" کا تھا
کربلا میں تلواریں چل چکی تھیں۔
حسینؑ اور ان کے اصحاب شہید ہو چکے تھے۔
لیکن یزیدی حکومت کے سامنے ایک اور کام باقی تھا:
کربلا کی تعبیر اپنے حق میں کرنا۔
اگر قاتل ہی تاریخ لکھتا اور کوئی گواہ اس کے جھوٹ کو چیلنج نہ کرتا تو ممکن تھا کہ حسینؑ کو باغی اور یزید کو حکمرانِ وقت بنا کر پیش کیا جاتا۔
یہیں حضرت زینبؑ کا تاریخی کردار سامنے آتا ہے۔
انہوں نے کربلا کے واقعے کو محض ایک خاندانی سانحہ بننے نہیں دیا۔
انہوں نے اسے حق و باطل کا مسئلہ بنا دیا۔
کوفہ میں ان کا خطاب اسی حقیقت کی مثال ہے۔ راوی بشیر بن خزیم کے مطابق جب حضرت زینبؑ نے لوگوں کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ سانسیں رک گئیں اور آوازیں تھم گئیں؛ وہ کہتے ہیں کہ ان کا کلام امیرالمؤمنین علیؑ کے کلام کی مانند تھا۔
یہ منظر معمولی نہیں تھا۔
ایک قیدی عورت، دشمن کے زیرِ تسلط شہر میں، ہزاروں لوگوں کے درمیان کھڑی ہو کر فاتح حکومت کے خلاف اخلاقی فردِ جرم پیش کر رہی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت زینبؑ کو صرف "پیغام پہنچانے والی" کہنا ان کے کردار کو کم کر دیتا ہے۔
وہ پیغام کی محافظ اور اس کی تعبیر کی نگہبان بھی تھیں۔
۳۔ زینبؑ کی خطابت کے پیچھے صرف جرأت نہیں، علم تھا
خطابت صرف بلند آواز کا نام نہیں۔
انسان جذبات میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے، لیکن کسی بڑے تاریخی حادثے کی فکری تشریح کرنے کے لیے علم درکار ہوتا ہے۔
حضرت زینبؑ کے کوفہ کے خطبے میں قرآن کے اسلوب اور قرآنی مفاہیم کی گہری معرفت نظر آتی ہے۔ ان کے خطاب میں اہلِ کوفہ کے کردار کو قرآن کی ایک مثال کے ذریعے واضح کیا گیا، جس میں عہد توڑنے اور اپنی محنت کو خود برباد کرنے والی عورت کی مثال پیش کی گئی ہے۔
یہ صرف جذباتی تقریر نہیں۔
یہ قرآن کے ذریعے سیاسی اور اخلاقی شعور کی تعمیر ہے۔
حضرت زینبؑ نے لوگوں سے صرف یہ نہیں کہا کہ:
"تم نے حسینؑ کو کیوں قتل کیا؟"
بلکہ انہوں نے ان کے کردار کو ایک بڑے اخلاقی اصول کے سامنے کھڑا کر دیا:
وعدہ کیا تھا، پھر توڑا۔
دعوت دی تھی، پھر ساتھ چھوڑ دیا۔
حق کو پہچانا تھا، پھر باطل کا ساتھ دیا۔
یعنی زینبؑ نے کربلا کو ایک اخلاقی آئینہ بنا دیا۔
۴۔ "عالمہ غیر معلّمہ" — یہ لقب ہمیں کیا بتاتا ہے؟
شیعی روایتی ادب میں حضرت زینبؑ کے لیے عالمہ، عارفہ، محدثہ اور بالخصوص "عالمہ غیر معلّمہ" جیسے اوصاف نقل ہوئے ہیں۔
یہاں ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔
حضرت زینبؑ کی عظمت کو صرف اس لیے بیان کرنا کہ وہ علیؑ کی بیٹی، فاطمہؑ کی بیٹی اور حسینؑ کی بہن تھیں، کافی نہیں۔
ان کا نسب عظیم تھا، لیکن نسب نے ان کی علمی شخصیت کی جگہ نہیں لی۔
وہ خود علم کی حامل شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
ان کے بارے میں منقول علمی روایات، ان کی فصاحت، ان کے خطبات اور ان کے طرزِ استدلال ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اہلِ بیتؑ کے علمی ماحول میں پروان چڑھنے والی ایک صاحبِ معرفت خاتون تھیں۔
یہ پہلو آج کی شیعہ خواتین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کیونکہ حضرت زینبؑ کا پیغام یہ نہیں کہ عورت صرف مصیبت برداشت کرے۔
بلکہ یہ ہے کہ:
عورت علم حاصل کرے، معرفت پیدا کرے، حق کو پہچانے اور وقت آنے پر حق کی ترجمانی کر سکے۔
۵۔ زینبؑ کا ایک خاموش ترین کردار: امام کی حفاظت
کربلا کے بعد امام زین العابدینؑ بیمار تھے۔
یہ بیماری محض ایک طبی حالت نہیں تھی؛ اس کا تاریخی پس منظر بھی تھا۔
اگر امام سجادؑ شہید کر دیے جاتے تو سلسلۂ امامت حسینؑ کے بعد ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو جاتا۔
اسی لیے حضرت زینبؑ کی ذمہ داری صرف بچوں اور خواتین کی حفاظت تک محدود نہ تھی۔
وہ امامِ وقت کی حفاظت بھی کر رہی تھیں۔
کربلا کے بعد کے حالات میں حضرت زینبؑ نے کئی مواقع پر امام سجادؑ کے دفاع میں وہ کردار ادا کیا جس کے بغیر آگے کی تاریخ مختلف ہو سکتی تھی۔
یہاں زینبؑ کی شجاعت کا ایک نیا مفہوم سامنے آتا ہے:
شجاعت صرف تلوار اٹھانا نہیں؛ کبھی شجاعت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے سے زیادہ اہم شخصیت کی حفاظت کے لیے خود کو خطرے میں ڈال دے۔
حضرت زینبؑ نے یہی کیا۔
۶۔ زینبؑ: ایک منتشر قافلے کو "خاندان" سے "مکتب" میں تبدیل کرنے والی شخصیت
کربلا کے بعد اہلِ بیتؑ کا قافلہ بظاہر شکست خوردہ تھا۔
مرد شہید ہو چکے تھے۔
خیمے جل چکے تھے۔
بچے خوف زدہ تھے۔
خواتین سوگوار تھیں۔
امام بیمار تھے۔
لیکن دشمن کی نظر میں شاید سب سے بڑی غلط فہمی یہی تھی کہ:
اب یہ لوگ ختم ہو گئے ہیں۔
زینبؑ نے ثابت کیا کہ جسمانی شکست اور فکری شکست ایک چیز نہیں۔
کوفہ میں ان کی آواز نے لوگوں کو رلایا۔
شام میں ان کی گفتگو نے دربارِ یزید کے سامنے اس کے اقتدار کے اخلاقی چہرے کو بے نقاب کیا۔
شیعی ماخذ میں ان کے خطبات کو فصاحت، بلاغت، قوتِ بیان اور غیر معمولی استقامت کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت زینبؑ کی شخصیت ہمیں ایک بنیادی اصول سکھاتی ہے:
کسی تحریک کی بقا صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ اس کے لیے کون قربان ہوا؛ یہ بھی ضروری ہے کہ قربانی کے بعد کون اس کے مقصد کو زندہ رکھتا ہے۔
۷۔ زینبؑ نے "عورت ہونے" کو کمزوری نہیں بننے دیا
حضرت زینبؑ کے زمانے میں طاقت کا ظاہری معیار مردانہ عسکری قوت تھی۔
دشمن کے پاس لشکر تھا۔
حکومت تھی۔
تلوار تھی۔
قید خانہ تھا۔
اور زینبؑ کے پاس؟
ایک زبان تھی۔
ایک ایمان تھا۔
ایک بصیرت تھی۔
اور ایک ایسا حق تھا جسے وہ جانتی تھیں۔
لیکن تاریخ نے دکھایا کہ کبھی ایک باحق زبان پورے لشکر سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتی ہے۔
اسی لیے حضرت زینبؑ کی شخصیت کو صرف "مظلوم عورت" کے عنوان سے دیکھنا درست نہیں۔
وہ مظلوم ضرور تھیں، مگر بے اختیار نہیں تھیں۔
وہ قیدی تھیں، مگر فکری طور پر آزاد تھیں۔
وہ پردے میں تھیں، مگر ان کی آواز تاریخ کے پردے چیر گئی۔
وہ اپنے بھائی کی شہادت پر غم زدہ تھیں، مگر ان کا غم سیاسی شعور میں تبدیل ہو گیا۔
۸۔ زینبؑ کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ تھی کہ انہوں نے امام حسینؑ کو "واقعہ" نہیں بننے دیا
ہر شہادت کے ساتھ ایک خطرہ ہوتا ہے:
وقت گزرنے کے ساتھ لوگ شہید کو صرف ایک تاریخی شخصیت سمجھنے لگتے ہیں۔
لیکن حضرت زینبؑ نے حسینؑ کو ماضی کا واقعہ نہیں بننے دیا۔
انہوں نے حسینؑ کے خون کو سوال بنا دیا:
حق کے مقابلے میں ہمارا موقف کیا ہے؟
انہوں نے کربلا کو صرف آنسو نہیں بنایا؛ اسے شعور بنایا۔
انہوں نے شہادت کو صرف ماتم نہیں بنایا؛ اسے ذمہ داری بنایا۔
انہوں نے مصیبت کو صرف داستان نہیں بنایا؛ اسے پیغام بنایا۔
اور شاید یہی حضرت زینبؑ کی سب سے بڑی میراث ہے۔
۹۔ آج کی عورت کے لیے زینبؑ کا سب سے اہم سبق کیا ہے؟
آج جب حضرت زینبؑ کا ذکر ہوتا ہے تو ہم اکثر کہتے ہیں:
"صبر کرو، زینبؑ کی طرح۔"
لیکن شاید ہمیں اس جملے کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔
زینبؑ کی طرح علم حاصل کرو۔
زینبؑ کی طرح حق کو پہچانو۔
زینبؑ کی طرح اپنے وقت کی حقیقت سمجھو۔
زینبؑ کی طرح جذبات کو شعور کے تابع کرو۔
زینبؑ کی طرح حق کے لیے آواز اٹھاؤ۔
زینبؑ کی طرح مصیبت کے باوجود ذمہ داری سے فرار نہ ہو۔
کیونکہ اگر ہم زینبؑ سے صرف رونا سیکھیں گے تو ان کی شخصیت کا نصف بھی نہیں سمجھ پائیں گے۔
زینبؑ ہمیں رونا بھی سکھاتی ہیں اور بولنا بھی۔
عبادت بھی سکھاتی ہیں اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔
حیا بھی سکھاتی ہیں اور جرأت بھی۔
صبر بھی سکھاتی ہیں اور احتجاج بھی۔
اور سب سے بڑھ کر:
حق کو پہچان کر اس کے ساتھ کھڑے رہنا سکھاتی ہیں۔
اختتامیہ:
کربلا کے بعد اگر زینبؑ نہ ہوتیں؟
یہ سوال صرف تاریخی نہیں، فکری بھی ہے۔
اگر کربلا میں حسینؑ نے اپنے خون سے حق لکھا تھا تو زینبؑ نے اس حق کو زبان، شعور اور تاریخ دی۔
اگر حسینؑ نے یزیدی نظام کے سامنے جسم پیش کیا تو زینبؑ نے اسی نظام کے سامنے فکر پیش کی۔
اگر عاشورا نے سوال اٹھایا تو زینبؑ نے اس سوال کو لوگوں کے ضمیر تک پہنچایا۔
اسی لیے زینبؑ کو صرف "کربلا کی بہن" کہنا ان کی عظمت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وہ حسینؑ کی بہن تھیں، مگر صرف رشتے کی وجہ سے عظیم نہیں تھیں۔
وہ خود ایک علمی، روحانی، اخلاقی اور انقلابی شخصیت تھیں۔
کربلا میں حسینؑ نے فرمایا کہ باطل کے سامنے جھکنا ممکن نہیں۔
اور کربلا کے بعد زینبؑ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا:
"اگر حق کے محافظ جسمانی طور پر باقی نہ بھی رہیں، تب بھی حق کی آواز کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ کربلا ختم نہیں ہوئی۔
حسینؑ شہید ہوئے، مگر حسینؑ کا پیغام باقی رہا۔
اور اس پیغام کے باقی رہنے میں جس عظیم خاتون نے اپنا کردار ادا کیا، وہ تھیں:
زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا۔









آپ کا تبصرہ