تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
کبھی کبھی انسان کو تنہائی لوگوں کی غیر موجودگی سے نہیں، بلکہ ان کی موجودگی میں جذباتی طور پر اکیلا رہ جانے سے محسوس ہوتی ہے۔
آج کے دور میں تعلقات بنانا پہلے سے کہیں آسان ہے۔ چند پیغامات، چند ملاقاتیں اور مسلسل رابطہ کسی کو ہمارے بہت قریب لے آتا ہے۔ لوگ ہمیں اپنا کہتے ہیں، ہماری باتیں سنتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے لیے اہم ہیں۔ ایسے میں انسان آہستہ آہستہ اعتماد کرنا شروع کرتا ہے اور اپنی زندگی کے وہ پہلو بھی بیان کر دیتا ہے جو وہ ہر کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا۔
لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب خوشیوں کی گفتگو کے بجائے درد کی گفتگو شروع ہو۔
آپ کہتے ہیں:
"میں پریشان ہوں۔"
"مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔"
"مجھے کسی کی ضرورت ہے۔"
اور پھر کبھی سامنے والا خاموش ہونے لگتا ہے، کبھی فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں، اور کبھی وہ شخص جس نے آپ کو اپنا ہونے کا احساس دلایا تھا، آپ کی مشکلات سے خود کو الگ کر لیتا ہے۔
نفسیات کی نظر سے اس رویے کو ہمیشہ بےحسی نہیں کہا جا سکتا۔ بعض لوگ دوسروں کے شدید جذبات سے اس لیے دور ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود emotional discomfort برداشت نہیں کر پاتے۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ پریشان شخص کو کیا جواب دیں، کیسے سنیں یا اس کے جذبات کو کیسے سنبھالیں۔ چنانچہ وہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس شخص سے ہی فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں۔
کچھ لوگ emotional avoidance کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ قربت تو چاہتے ہیں، لیکن جب تعلق میں گہرے جذبات، ذمہ داری یا vulnerability سامنے آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:
کسی کا آپ کے درد سے دور ہونا ہمیشہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ بوجھ ہیں۔ کبھی یہ اس شخص کی اپنی جذباتی صلاحیت کی حد ہوتی ہے۔
مگر جس شخص نے اعتماد کیا ہو، اس کے لیے یہ فرق سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
وہ سوچنے لگتا ہے:
"کیا میں نے بہت زیادہ بتا دیا؟"
"کیا میرے مسائل لوگوں کو مجھ سے دور کر دیتے ہیں؟"
"کیا مجھے اپنی پریشانیاں اپنے اندر ہی رکھنی چاہییں؟"
یہاں سے self-doubt شروع ہو سکتا ہے۔
اگر کسی انسان کو بار بار یہ تجربہ ہو کہ اپنی کمزوری ظاہر کرنے کے بعد لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں تو وہ مستقبل میں اپنے جذبات چھپانے لگ سکتا ہے۔ وہ مدد مانگنے سے گریز کرتا ہے، ہر سوال کا جواب "میں ٹھیک ہوں" میں دینے لگتا ہے، اور آہستہ آہستہ emotional isolation پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ کیفیت خاص طور پر اس وقت زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے جب انسان نے سامنے والے کو صرف ایک دوست نہیں بلکہ محفوظ انسان سمجھا ہو۔
کیونکہ vulnerability دراصل اعتماد کی ایک شکل ہے۔
جب ہم کسی کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر کرتے ہیں تو ہم اسے اپنے وجود کا وہ حصہ دکھاتے ہیں جسے دنیا سے چھپاتے رہے ہیں۔ اگر وہاں سے ہمیں قبولیت کے بجائے rejection یا distance ملے تو ہمارا دماغ آئندہ تعلقات میں زیادہ محتاط ہو سکتا ہے۔
لیکن صحت مند نفسیاتی رویہ یہ نہیں کہ انسان دوبارہ کبھی کسی پر اعتماد ہی نہ کرے۔
بلکہ یہ ہے کہ وہ trust کو آہستہ آہستہ بنانا سیکھے۔
ہر قریب آنے والا شخص ہمارے گہرے رازوں کا اہل نہیں ہوتا۔ تعلق میں قربت بڑھنے کے ساتھ اعتماد بھی وقت کے ساتھ ثابت ہونا چاہیے۔
اسی طرح boundaries بھی ضروری ہیں۔ کسی سے محبت کرنا اور اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر وقت ہمارے جذبات کا بوجھ اٹھائے، دونوں ایک چیز نہیں۔ ہر انسان کی اپنی emotional capacity ہوتی ہے۔
حقیقی اور صحت مند تعلق وہ ہے جہاں دونوں افراد ایک دوسرے کے جذبات کو اہمیت دیں، مگر ایک دوسرے کی پوری ذہنی دنیا کے واحد ذمہ دار نہ بن جائیں۔
آج کے دور میں شاید ہمیں اسی توازن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو صرف یہ نہ کہیں:
"میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
بلکہ مشکل وقت میں واقعی کچھ دیر ساتھ بیٹھ بھی سکیں۔
جو ہمارے مسئلے کو فوراً حل کرنے کے بجائے پہلے اسے سن سکیں۔
جو ہماری vulnerability کو ہمارے خلاف استعمال نہ کریں۔
اور جو ہمیں یہ احساس نہ دیں کہ محبت حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہر وقت مضبوط، خوش اور بےفکر نظر آنا ضروری ہے۔
آخرکار، آپ کا درد آپ کی شخصیت کی خامی نہیں۔
آپ کا مدد مانگنا کمزوری نہیں۔
اور کسی کے آپ کی تکلیف سن کر دور ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ محبت یا اپنائیت کے قابل نہیں۔
کبھی کبھی اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے دل کا وہ حصہ ایسے شخص کے سامنے کھول دیا جو اسے سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
نفسیات ہمیں یہی سمجھاتی ہے کہ ہر تعلق میں قربت کے ساتھ emotional safety بھی ضروری ہے۔
اور شاید حقیقی اپنائیت کی سب سے خوبصورت علامت یہ ہے کہ آپ کسی کے سامنے یہ کہہ سکیں:
"میں آج ٹھیک نہیں ہوں۔"
اور جواب میں آپ کو یہ سننے کو ملے:
"تمہیں ابھی مضبوط بننے کی ضرورت نہیں، میں تمہیں سن رہا ہوں۔"
کیونکہ کبھی انسان کو اپنے مسئلے کا حل نہیں چاہیے ہوتا؛ اسے صرف یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ اس کا درد اسے لوگوں سے محروم نہیں کرے گا۔









آپ کا تبصرہ