جمعہ 14 اگست 2026 - 14:59
آزادی سے عصرِ ظہور تک!

حوزہ/ہم انقلاب کا لفظ سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں حکومتوں کی تبدیلی، نظاموں کی تبدیلی، سرحدوں کی تبدیلی اور قوموں کی آزادی آتی ہے۔ لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کی ابتدا ایک چھوٹی مگر بنیادی جگہ سے ہوتی ہے...

تحریر: ثمن رباب رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر کی حالت کو نہ بدلیں۔"

یہ آیت صرف تبدیلی کی ایک خبر نہیں دیتی، بلکہ انقلاب کا فلسفہ بیان کرتی ہے۔

ہم انقلاب کا لفظ سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں حکومتوں کی تبدیلی، نظاموں کی تبدیلی، سرحدوں کی تبدیلی اور قوموں کی آزادی آتی ہے۔ لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کی ابتدا ایک چھوٹی مگر بنیادی جگہ سے ہوتی ہے:

انسان کے اندر سے۔

قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب انسان بدلتے ہیں۔

معاشرے اس وقت بدلتے ہیں جب ان کے افراد کی سوچ بدلتی ہے۔

اور تاریخ اس وقت اپنا رخ تبدیل کرتی ہے جب کسی انسان کے اندر ایک ایسا یقین پیدا ہوتا ہے جو اسے اپنے زمانے کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔

اسی لیے اگر ہم تاریخِ انسانیت میں سب سے عظیم انقلاب کی تلاش کریں تو ہماری نگاہ ایک شخصیت پر ٹھہرتی ہے:

رسول گرامی محمد مصطفیٰ(ص)۔

حضرت محمد(ص) اور انسان کی تبدیلی

رسول اللہ (ص) ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے جب معاشرہ صرف سیاسی یا معاشی بحران کا شکار نہیں تھا؛ انسان اپنی اصل قدر و منزلت بھول چکا تھا۔

طاقت عزت تھی۔

قبیلہ شناخت تھا۔

مال معیار تھا۔

کمزور بے حیثیت تھا۔

غلام انسان ہونے کے باوجود انسان کی طرح نہیں دیکھا جاتا تھا۔

اور بیٹی کی پیدائش بعض لوگوں کے لیے باعثِ ندامت تھی۔

قرآن اس ذہنیت کو یوں بیان کرتا ہے:وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ

"اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا اور وہ غم سے گھٹنے لگتا۔"

پھر قرآن اس ظلم کی انتہا دکھاتا ہے:وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ۝ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ

"اور جب زندہ دفن کی جانے والی بچی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ کی وجہ سے قتل کیا گیا؟"

ایسے معاشرے میں رسول اللہ (ص) آئے۔

لیکن آپ (ص) نے صرف ایک قانون تبدیل نہیں کیا۔

آپ (ص) نے انسان کے بارے میں انسان کی سوچ بدل دی۔

جس بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا تھا، رسول اللہ (ص) نے اسے رحمت بنا کر دکھایا۔

جس غلام کو بے وقعت سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اسے انسانی کرامت عطا کی۔

جس کمزور کو طاقتور کے سامنے کوئی حیثیت حاصل نہ تھی، رسول اللہ (ص) نے اسے حق دیا۔

اور انسان کی عزت کا معیار بدل کر فرمایا:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ

"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"

یہ تھا رسول (ص) کا انقلاب۔

لیکن رسول (ص) نے یہ انقلاب کیسے برپا کیا؟

یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

رسول اللہ (ص) کے پاس مکہ میں حکومت نہیں تھی۔

لشکر نہیں تھا۔

دنیاوی طاقت نہیں تھی۔

آپ (ص) نے اپنی دعوت کا آغاز کسی تخت سے نہیں کیا۔

آپ (ص) نے انسان کے دل سے آغاز کیا۔

اور لوگوں نے آپ (ص) کی دعوت کو کیوں قبول کیا؟

کیونکہ آپ (ص) نے جو کہا، اسے سب سے پہلے اپنی ذات میں جیا۔

قرآن نے رسول اللہ (ص) کی شخصیت کے بارے میں فرمایا:وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

"اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔"

رسول اللہ (ص) نے لوگوں کو صداقت کی دعوت دی تو آپ خود صادق تھے۔

امانت کی دعوت دی تو خود امین تھے۔

رحمت کی دعوت دی تو خود رحمت بن کر آئے۔

عدل کی دعوت دی تو اپنے اور غیر کے لیے ایک ہی معیار رکھا۔

اسی لیے رسول اللہ (ص) کی دعوت صرف الفاظ نہیں تھی۔

آپ (ص) خود اپنی دعوت کی زندہ تفسیر تھے۔

مکتبِ رسول(ص) سے کردار سازی کی مکمل تصویر

اگر رسول اللہ (ص) نے ایک انسان کا نمونہ پیش کیا، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس نبوی نمونے کی تربیت یافتہ تصویر ہمیں کہاں نظر آتی ہے؟

کربلا ہمیں جواب دیتی ہے:

علی اکبرؑ میں۔

علی اکبرؑ؛ رسول اللہ (ص) کے مکتب کا جوان

ہم جوان ہیں۔

اور ہر نسل اپنے لیے ایک نمونہ تلاش کرتی ہے۔

کسی کے لیے کامیاب انسان وہ ہے جس کے پاس دولت ہو۔

کسی کے لیے وہ ہے جس کے پاس شہرت ہو۔

کسی کے لیے خوبصورتی کامیابی ہے۔

کسی کے لیے اختیار۔

لیکن ہم اگر اہل بیتؑ کے مکتب کے جوان ہیں تو ہمیں اپنی جوانی کا نمونہ کہاں تلاش کرنا چاہیے؟

حضرت علی اکبرؑ میں۔

کیونکہ علی اکبرؑ بھی ایک جوان تھے۔

ان کے پاس بھی زندگی تھی۔

ان کے سامنے بھی مستقبل تھا۔

ان کے لیے بھی دنیا کے دروازے کھلے تھے۔

لیکن ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کی جوانی رسول اللہ (ص) کی سیرت سے تشکیل پائی تھی۔

اسی لیے عاشورا کے دن امام حسینؑ نے جب اپنے فرزند کو میدان کی طرف جاتے دیکھا تو فرمایا:

اللّٰهُمَّ اشْهَدْ عَلَىٰ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَقَدْ بَرَزَ إِلَيْهِمْ غُلَامٌ أَشْبَهُ النَّاسِ خَلْقًا وَخُلُقًا وَمَنْطِقًا بِرَسُولِكَ مُحَمَّدٍ

"اے اللہ! ان لوگوں کے خلاف گواہ رہ، ان کے مقابل ایسا جوان جا رہا ہے جو خلقت، اخلاق اور گفتگو میں تیرے رسول محمد (ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔"

یہاں ذرا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

امام حسینؑ نے اپنے بیٹے کی صرف صورت نہیں دیکھی۔

آپؑ نے فرمایا:خَلقاً، خُلقاً، مَنطِقاً۔

اس کی صورت میں رسول (ص) کی مشابہت ہے۔

اس کے اخلاق میں رسول (ص) کی مشابہت ہے۔

اس کی گفتگو میں رسول (ص) کی مشابہت ہے۔

یعنی علی اکبرؑ کی عظمت صرف یہ نہیں تھی کہ وہ امام حسینؑ کے بیٹے تھے۔

ان کی عظمت یہ بھی تھی کہ وہ رسول اللہ (ص) کی سیرت کے آئینے میں تربیت پانے والے جوان تھے۔

اور یہی ہماری جوانی کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔

آج کے جوان کا نمونہ کون؟

ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں کہ کسی کامیاب شخص کو اپنا آئیڈیل بناؤ۔

لیکن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری نسل کے آئیڈیل کون ہیں؟

جن کے لاکھوں فالوورز ہیں؟

جن کی شہرت ہے؟

جن کے پاس دولت ہے؟

یا وہ جوان جسے امام حسینؑ نے رسول اللہ (ص) سے مشابہ قرار دیا؟

اگر علی اکبرؑ ہمارے لیے نمونہ ہیں تو پھر ہماری جوانی کا معیار بھی بدلنا ہوگا۔

ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا کہ ہم کتنے کامیاب ہیں۔

بلکہ یہ دیکھنا ہوگا:

ہم کتنے باکردار ہیں؟

ہم کتنے سچے ہیں؟

ہم کتنے ذمہ دار ہیں؟

ہم حق کو پہچاننے میں کتنے بصیر ہیں؟

ہم اپنے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ساتھ کیسے ہیں؟

اور جب حق اور مصلحت ہمارے سامنے آمنے سامنے ہوں تو ہم کس طرف کھڑے ہوتے ہیں؟

یہی علی اکبرؑ کی جوانی ہے۔

علی اکبرؑ کی پہلی عظیم صفت: رسول اللہ (ص) سے مشابہت

حضرت علی اکبرؑ کی ایک نمایاں صفت وہ مشابہت ہے جس کا ذکر خود امام حسینؑ نے فرمایا۔

لیکن ہمیں اس مشابہت کو صرف ظاہری صورت تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

اگر رسول اللہ (ص) کا اخلاق عظیم تھا تو علی اکبرؑ کے لیے بھی اخلاق اہم تھے۔

اگر رسول اللہ (ص) حق کے لیے کھڑے ہوئے تو علی اکبرؑ بھی حق کے لیے کھڑے ہوئے۔

اگر رسول اللہ (ص) نے انسانیت کو عزت دی تو علی اکبرؑ بھی اپنے کردار میں اسی مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔

دوسری صفت: بصیرت اور ولایت

حضرت علی اکبرؑ کی دوسری نمایاں خصوصیت بصیرت تھی۔

جب قصر بنی مقاتل کے مقام پر امام حسینؑ نے موت کی خبر کا ذکر کیا تو علی اکبرؑ نے پوچھا:

"کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟"

امام حسینؑ نے فرمایا:"کیوں نہیں، ہم حق پر ہیں۔"

تو علی اکبرؑ نے عرض کیا:فَإِنَّنَا إِذًا لَا نُبَالِي أَنْ نَمُوتَ مُحِقِّينَ"پھر ہمیں کوئی پروا نہیں کہ ہم حق پر ہوتے ہوئے موت سے ہمکنار ہو جائیں۔"

یہ ایک ایسے جوان کی آواز ہے جس نے زندگی کو مقصد کے ساتھ دیکھا تھا۔

اور آج ہمیں ایسے ہی جوانوں کی ضرورت ہے۔

ایسے جوان جو صرف جذبات سے فیصلے نہ کریں۔

بلکہ حق کو پہچانیں۔

پھر حق کو قبول کریں۔

اور پھر حق پر ثابت قدم رہیں۔

آج یومِ ازادی ہمیں کیا سوچنے پر مجبور کرتا ہے؟

آج ہم پاکستان کی آزادی منا رہے ہیں۔

آزادی ایک عظیم نعمت ہے۔

اس وطن کے قیام کے لیے بے شمار لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے، ہجرتیں کیں، قربانیاں دیں اور اپنی جانیں تک پیش کیں۔

لیکن آزادی کا سوال صرف یہ نہیں کہ:

"ہم کس سے آزاد ہوئے؟"

بلکہ یہ بھی ہے:

"ہم آزادی کے بعد کیا بنے؟"

اگر ایک قوم بیرونی اقتدار سے آزاد ہو جائے، لیکن اس کے افراد ظلم، جہالت، تعصب، جھوٹ، کرپشن اور نفسانی خواہشات کے غلام رہیں، تو کیا انقلاب مکمل ہوگیا؟

رسول اللہ (ص) جس آزادی کا تصور لے کر آئے تھے، وہ صرف سیاسی آزادی نہ تھی۔

وہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرنے کی دعوت تھی۔

وہ نفس کی غلامی سے آزادی تھی۔

وہ ظلم کے سامنے جھکنے سے آزادی تھی۔

وہ باطل روایت کو صرف اس لیے قبول کرنے سے آزادی تھی کہ "ہمارے باپ دادا ایسا کرتے آئے ہیں۔"

یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس پورے انقلاب کی بنیاد انسان کے اندر رکھی:إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ.

ایک نگاہ مستقبل کی سمت

یہاں جمعہ کی مناسبت ہماری گفتگو کو ایک نئی سمت دیتی ہے۔

ہم امام زمانہؑ کا انتظار کرتے ہیں۔

ہم اس زمانے کے منتظر ہیں جب عدل غالب ہوگا، ظلم کا خاتمہ ہوگا اور حق کی حکومت قائم ہوگی۔

قرآن فرماتا ہے:وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ

"اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور بنا دیے گئے ہیں، انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث قرار دیں۔"

ہم اس مستقبل کو صرف ایک آنے والا زمانہ سمجھ کر نہ دیکھیں۔

بلکہ سوال کریں:

وہ زمانہ کیسا ہوگا؟

اور پھر اس سے بھی بڑا سوال:

ہم اس زمانے کے لیے کتنے تیار ہیں؟

عصرِ ظہور کی دنیا

ظہور کے بعد کی دنیا کو صرف ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔

وہ ایک ایسی دنیا ہوگی جہاں عدل کو مرکزیت حاصل ہوگی۔

جہاں ظلم معمول نہیں ہوگا۔

جہاں حق کو دبانا طاقت کی علامت نہیں ہوگا۔

جہاں انسان کی عزت اس کے مال، نسل اور طاقت سے نہیں بلکہ اس کی حقیقتِ انسانی سے ہوگی۔

یعنی جس انسانی انقلاب کا آغاز رسول اللہ (ص) نے کیا تھا، اس کے عدالتی اور عالمی ثمرات ظہورِ امام مہدیؑ کے تصور میں اپنی کامل صورت پاتے ہیں۔

رسول اللہ (ص) نے انسان کو بتایا کہ انسان کیا ہونا چاہیے۔

اہل بیتؑ نے اس انسان کی تربیت اور حفاظت کی۔

کربلا نے دکھایا کہ اس راستے کی قیمت کیا ہے۔

اور امام زمانہؑ کا ظہور اس عادلانہ مستقبل کی امید ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha