جمعہ 14 اگست 2026 - 18:37
کربلا کے وارث اور پاکستان کے محافظ؛ محبتِ اہلِ بیت، قیامِ پاکستان کی قربانیاں اور شہدائے وطن کی وفاداری کے تناظر میں

حوزہ/14 اگست محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں یہ ایک قوم کی آزادی، ایک خواب کی تعبیر، ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کی یاد کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کی صورت میں اپنے سیاسی، تہذیبی، دینی اور ملی تشخص کو محفوظ کرنے کی منزل حاصل کی۔

تحریر: آغا زمانی

حوزہ نیوز ایجنسی|

14 اگست محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں یہ ایک قوم کی آزادی، ایک خواب کی تعبیر، ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کی یاد کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کی صورت میں اپنے سیاسی، تہذیبی، دینی اور ملی تشخص کو محفوظ کرنے کی منزل حاصل کی۔ پاکستان فقط زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی ہجرت، جدوجہد، خون، آنسو اور قربانیوں سے وجود میں آنے والی ایک امانت ہے اور جب ہم پاکستان کی آزادی اور اس کے قیام کی داستان کو کربلا کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ کربلا ہمیں صرف شہادت کا درس نہیں دیتی، بلکہ وفاداری، اصول پسندی، حق شناسی، ظلم کے مقابلے میں استقامت، اجتماعی ذمہ داری اور اپنے مقصد کے لیے قربانی کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جن سے ایک زندہ قوم اپنی آزادی کی حفاظت کرتی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور حبِ پاکستان ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ اپنے بلند ترین اخلاقی مفہوم میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جو شخص امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ حق کو سمجھتا ہے، وہ ظلم، استبداد، ناانصافی، بددیانتی اور قومی خیانت کو کبھی اپنا شعار نہیں بنا سکتا۔ وہ وطن کو محض مفادات کی چراگاہ نہیں بلکہ ایک امانت سمجھتا ہے۔

یہی کربلا کا اصل جوہر ہے۔

امام حسین نے اپنے عہد کے جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ آپ نے یہ پیغام دیا کہ انسان کی سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو فروخت نہ کرے۔ اقتدار کے سامنے حق کو نہ چھوڑے، خوف کے سامنے ایمان کو نہ بیچے اور مصلحت کے نام پر اصولوں کا سودا نہ کرے۔

پاکستان کی آزادی کو بھی اگر اسی اخلاقی زاویے سے دیکھا جائے تو آزادی کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ قوم اپنے فیصلے خود کرے، اپنے عقیدے، تہذیب اور تشخص کے مطابق زندگی بسر کرے اور کسی بیرونی یا داخلی جبر کے سامنے اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار نہ ہو۔

تحریکِ کربلا کے مطالعے سے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ امام حسین کا قیام کسی ذاتی اقتدار، سلطنت یا دنیاوی منفعت کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ آپ نے امتِ محمدیہ کی اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دینِ محمدی کی حفاظت اور حق و باطل کے درمیان واضح حدِ فاصل قائم کرنے کے لیے قیام فرمایا۔ کربلا دراصل انسانی ضمیر کی آزادی، حق کی سربلندی، ظلم کے انکار اور اصولوں پر استقامت کا وہ عظیم منشور ہے جس نے تاریخِ انسانیت کو یہ درس دیا کہ اقتدار کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہی حقیقی آزادی ہے۔

کربلا کے واقعات میں زہیر بن قین رضوان اللہ علیہ کا کردار ایک ایسا روشن باب ہے جو آج کے پاکستانی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ زہیر نے حق کو پہچانا، پھر حق کا ساتھ دینے کے لیے اپنی پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہیں معلوم تھا کہ حسین کے ساتھ کھڑا ہونا آسان راستہ نہیں، لیکن انہوں نے آسانی کے بجائے حق کا انتخاب کیا۔

یہی وفاداری ہے۔

وطن سے وفاداری بھی صرف نعرے لگانے کا نام نہیں۔ پاکستان سے محبت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب قومی مفاد اور ذاتی مفاد آمنے سامنے ہوں۔۔ جب حق بات کہنے میں نقصان کا اندیشہ ہو۔۔ جب بدعنوانی سے فائدہ اٹھانے کا موقع موجود ہو مگر انسان امانت کو ترجیح دے۔۔ جب ملک کی خدمت خاموشی سے کرنی ہو اور اس کے بدلے کوئی صلہ بھی نہ ملے۔

کربلا کا زہیر ہمیں سکھاتا ہے کہ وفاداری دعوے سے نہیں، فیصلے سے ثابت ہوتی ہے۔

کربلا میں ایک دوسرا کردار عبیداللہ بن حر جعفی کا ہے۔ وہ امام حسین علیہ السلام کو پہچانتا تھا، حقیقت کو سمجھتا تھا، مگر موت کے خوف نے اسے قدم بڑھانے سے روک دیا۔

یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ سوال دیتا ہے۔ کیا ہم حق کو پہچاننے کے باوجود مصلحتوں کے اسیر تو نہیں؟

پاکستان بھی آج ایسے ہی کرداروں کا محتاج نہیں جو وطن سے محبت کا دعویٰ تو کریں مگر قومی مفاد کے وقت خاموش ہوجائیں۔ ملک کو ایسے شہری درکار ہیں جو حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، قانون کی پاسداری کریں، قومی وسائل کو امانت سمجھیں، کمزور کا حق نہ ماریں اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں۔

حسینی ہونا صرف مجالس میں حسین کا نام لینے کا نام نہیں۔۔ حسینی ہونا کردار میں حسین کے پیغام کو جگہ دینا ہے۔

کربلا کے نوجوان شہید حضرت علی اکبر بن امام حسین علیہ السلام کا کردار بھی ہماری نئی نسل کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ جب انسان کو یقین ہو کہ وہ حق پر ہے تو موت کا خوف اس کے قدم نہیں روک سکتا۔

پاکستان کے قیام میں بھی نوجوانوں، طلبہ، کارکنوں، مہاجروں اور عام مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ آج پاکستان کی نئی نسل کے سامنے بھی ایک میدان ہے۔ البتہ اس میدان میں دشمن کے نیزے نہیں بلکہ جہالت، انتہاپسندی، کرپشن، منشیات، بے روزگاری، مایوسی، فرقہ واریت، جھوٹ اور سوشل میڈیا کی گمراہ کن یلغار جیسے چیلنجز ہیں۔

اگر نوجوان نسل جنابِ علی اکبر کی شجاعت، کردار اور حق شناسی سے سبق حاصل کرے تو وہ پاکستان کے مستقبل کو سنوار سکتی ہے۔

پاکستان قربانیوں سے بنا اور کربلا قربانی کی سب سے عظیم درس گاہ ہے۔ کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے مقاصد بڑی قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ امام حسین نے اپنے عزیزوں، اصحاب اور گھرانے کی قربانیاں پیش کرکے دین، انسانیت اور حق کی حفاظت کی۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی لاکھوں لوگوں نے اپنا گھر، مال، کاروبار، زمینیں، رشتے اور بعض نے اپنی جانیں تک قربان کیں تاکہ ایک آزاد وطن وجود میں آئے۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔ جو قوم قربانیوں کی قدر نہیں کرتی، وہ آزادی کی حفاظت بھی نہیں کرسکتی۔

اس لیے 14 اگست کا دن صرف جشن کا دن نہیں احتساب کا دن بھی ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جن لوگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں، کیا ہم ان کی امانت کے امین ثابت ہورہے ہیں؟

اس موقعے پر ہم بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی بے مثال بصیرت، اصول پسندی، عزمِ مصمم اور قیادت کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اپنی بے لوث جدوجہد سے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی منزل تک پہنچایا۔ ہم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح(رح) کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر خواتین اور قوم کو بیداری، حوصلے اور خدمت کا درس دیا۔ اس عظیم جدوجہد کے فکری معمار حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو بھی سلام، جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی، آزادی، بیداری اور جداگانہ ملی تشخص کا شعور پیدا کیا اور ایک آزاد مسلم ریاست کے خواب کو فکری بنیاد فراہم کی۔ ہم ان تمام بانیانِ پاکستان، گمنام مجاہدین، مہاجرین، ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے گھر بار، مال و متاع اور عزیز و اقارب کی قربانیاں دے کر اس وطن کی بنیادوں کو اپنے خون اور آنسوؤں سے سینچا اور ان شہدائے پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قیامِ وطن سے لے کر آج تک اس کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان کی تاریخ دراصل انہی عظیم کرداروں، قربانیوں اور وفاداریوں کی تاریخ ہے، اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی امانت کو دیانت، اتحاد، کردار اور خدمت کے ذریعے آگے بڑھائیں۔

برصغیر میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور بعد ازاں ملک کی تعمیر و استحکام میں محبانِ اہلِ بیت نے بھی اپنی بساط کے مطابق قربانیاں دی ہیں۔ اس ملک کی افواج میں اہلِ تشیع کے سپوتوں نے وطن کے دفاع کے لیے جانیں قربان کیں، سرحدوں پر شہادتیں پیش کیں، قومی اداروں میں خدمات انجام دیں، تعلیم، طب، تجارت، صحافت، سیاست، زراعت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کیا۔

پاکستان کی تعمیر کسی ایک طبقے، علاقے یا مسلک کی محنت کا نتیجہ نہیں۔۔ یہ پوری ملت کی اجتماعی جدوجہد کا ثمر ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ روشن ہے کہ محبانِ اہلِ بیت نے پاکستان کی تعمیر، دفاع اور استحکام میں کبھی اپنے حصے کی قربانی سے گریز نہیں کیا۔ بلکہ اہلِ بیت کی محبت ان کے لیے وطن سے وفاداری کو ایک اخلاقی ذمہ داری میں بدل دیتی ہے۔

کیونکہ جس گھرانے کے امام نے فرمایا کہ میرا قیام نہ ظلم کے لیے ہے نہ فساد کے لیے، بلکہ اصلاحِ امت کے لیے ہے۔ جس گھرانے نے جان دے کر حق کی حفاظت کی۔ جس مکتب نے شہادت کو مظلوم کی آواز اور ظالم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بنایا۔۔ اس مکتب کا پیروکار اپنے وطن کے ساتھ خیانت کو کیسے اپنا شعار بنا سکتا ہے؟

محبِ اہلِ بیت کے لیے وطن بھی ایک امانت ہے، قوم بھی ایک امانت ہے اور اس کی ذمہ داریاں بھی ایک امانت ہیں۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت انسان کو تنگ نظری نہیں سکھاتی۔ حسین کسی ایک خاندان، قبیلے یا علاقے کے حسین نہیں۔۔ حسین حق، حریت، انسانیت اور عزتِ نفس کے استعارے ہیں۔

اسی لیے پاکستان میں اہلِ بیت سے محبت رکھنے والے ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے وطن سے محبت کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کے حق کا احترام کرے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک، زبان، قوم یا علاقے سے ہو۔

حسین کی محبت ہمیں تقسیم نہیں، انصاف سکھاتی ہے۔

حسین ہمیں نفرت نہیں، حق سکھاتے ہیں۔ںحسین ہمیں کمزور پر ظلم نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ حسین ہمیں مفاد پرستی نہیں، اصول پسندی سکھاتے ہیں۔ اور یہی اقدار پاکستان کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔

پاکستان کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی

ہم اکثر وطن کی حفاظت کو صرف سرحدوں کی حفاظت سمجھتے ہیں۔ یقیناً سرحدوں پر کھڑے فوجی جوان وطن کے عظیم محافظ ہیں، لیکن ایک ملک صرف بندوق سے محفوظ نہیں ہوتا۔ استاد جب دیانت سے تعلیم دیتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جب مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ صحافی جب سچ لکھتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ قاضی جب انصاف کرتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ تاجر جب ناپ تول میں خیانت نہیں کرتا تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ افسر جب قومی خزانے کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتا تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ نوجوان جب منشیات، جہالت اور بے مقصد سرگرمیوں سے بچ کر علم و کردار کی طرف آتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک عام شہری جب قانون کی پاسداری کرتا ہے، صفائی کا خیال رکھتا ہے، دوسرے کے حق کا احترام کرتا ہے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔

یہی حسینی کردار کا قومی اظہار ہے۔

آج جب ہم سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں اور آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمیں اس پرچم کے رنگوں کے ساتھ ان قربانیوں کا رنگ بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اسے سربلند کیا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کوئی مفت تحفہ نہیں تھی۔

یہ قربانیوں کی قیمت پر ملی تھی۔ اور کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ آزادی کی حفاظت بھی قربانی، کردار اور اصولوں سے ہوتی ہے۔

اس لیے 14 اگست ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے چاہیں گے۔

ہم نفرت کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔

فرقہ واریت کے بجائے اخوت کو مضبوط کریں گے۔

کرپشن کے بجائے امانت کو اپنائیں گے۔

جھوٹ کے بجائے سچ بولیں گے۔

ظلم کے بجائے عدل کا ساتھ دیں گے۔

اور مایوسی کے بجائے تعمیرِ وطن کا راستہ اختیار کریں گے۔

کربلا کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی ایک فرد کا درست فیصلہ پوری تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے تعداد نہیں دیکھی، حق دیکھا۔ مادی قوت نہیں دیکھی، اصول دیکھا۔ دنیاوی کامیابی نہیں دیکھی، رضائے الٰہی دیکھی۔

پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ہمیں اسی شعور کی ضرورت ہے۔

ہمیں تعداد سے زیادہ کردار چاہیے۔

نعروں سے زیادہ عمل چاہیے۔

دعوؤں سے زیادہ قربانی چاہیے۔

اور حب الوطنی کے اظہار سے زیادہ وفاداری کا عملی ثبوت چاہیے۔

محبِ اہلِ بیت کے لیے یہ راستہ اجنبی نہیں۔ کربلا اس کے سامنے ہر روز ایک سوال رکھتی ہے۔۔

تم حق کے ساتھ کہاں کھڑے ہو؟

آج پاکستان بھی اپنے شہریوں سے یہی سوال کر رہا ہے۔۔

تم اس وطن کی تعمیر، حفاظت اور استحکام کے لیے کہاں کھڑے ہو؟

اگر ہم واقعی حسین علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے لیے بھی وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو کربلا ہمیں سکھاتی ہے۔ حق کا ساتھ، ظلم سے انکار، مظلوم کی حمایت، امانت کی حفاظت، اجتماعی ذمہ داری اور ضرورت پڑنے پر قربانی۔

14 اگست کے اس مبارک موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک امانت سمجھیں گے۔ اس کے امن، سلامتی، استحکام اور ترقی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں گے۔ اس کی کمزوری کو اپنی کمزوری اور اس کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں گے۔

اور محبانِ اہلِ بیت کے لیے تو یہ ذمہ داری مزید گہری ہے کیونکہ ان کے پاس کربلا کی پوری تاریخ موجود ہے۔

انہیں معلوم ہے کہ وطن، ملت، دین، حق اور اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانی کیا ہوتی ہے۔

انہیں معلوم ہے کہ وفاداری کیا ہوتی ہے۔

انہیں معلوم ہے کہ ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

اور انہیں معلوم ہے کہ حسین کے مکتب میں محبت صرف آنکھوں کے آنسو نہیں، کردار کی گواہی بھی ہے۔

اسی لیے آج 14 اگست کے دن سبز ہلالی پرچم کے سائے میں ہم پورے عزم کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔۔

محبتِ اہلِ بیت ہمیں پاکستان سے محبت کا درس دیتی ہے اور حسین کی وفاداری ہمیں وطن کی وفاداری کا شعور عطا کرتی ہے۔

محبِ اہلِ بیت اگر حسین کے پیغام کو سمجھتا ہے تو وہ پاکستان کی آزادی، سلامتی، وحدت اور استحکام کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا۔

کیونکہ حسین نے ہمیں سکھایا ہے کہبحق سے وفاداری ہی اصل وفاداری ہے، اور امانت کی حفاظت ہی وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

پاکستان بھی ایک امانت ہے۔

اور اس امانت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان زندہ باد!

وطنِ عزیز پائندہ باد!

محبتِ اہلِ بیت زندہ باد!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha