حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 79ویں یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر قوم کے نام جاری اپنے پیغام میں کہا: پاکستان کو آزاد ہوئے 79 برس گزر چکے ہیں، مگر آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عوام خوشحال نہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ انصاف کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں، اڑھائی کروڑ بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں جبکہ کئی لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں۔
انہوں نے کہا: ملک کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جاچکی ہے، لوئر مڈل کلاس تقریباً ختم ہوچکی، شعبہ زراعت، مزدور طبقہ اور عام آدمی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ہم 79واں یوم آزادی منا رہے ہیں، لہٰذا ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر کن امور اور اقدامات سے صرفِ نظر کیا گیا؟
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے زور دیتے ہوئے کہا: اب کھوکھلے نعروں اور دکھاوے سے عام آدمی کو نہ متاثر کیا جاسکتا ہے اور نہ مطمئن، کیونکہ اب وعدوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا وقت ہے۔
انہوں نے کہا: جس انداز سے دفاع وطن کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا گیا، اب اسی جذبے کے ساتھ داخلی، معاشی اور سماجی مضبوطی کے لیے بھی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ جب تک تحریک پاکستان والا جذبہ اور ہر معاملے میں قومی مفاد مقدم نہیں ہوگا، آزادی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچیں گے اور ملک ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: ریاست نئی نسل کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے دورِ جدید کے تمام سائنسی، علمی، فنی، ثقافتی اور ارتقائی تقاضوں کے مطابق انہیں آراستہ کرے تاکہ وہ بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں۔ جب تک ہم مذکورہ تمام امور پر سختی سے عمل پیرا نہیں ہوتے، اس وقت تک ملک میں حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے عوام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: اپنے دائرۂ اختیار میں فرائض کی انجام دہی یقینی بنائیں اور ملک میں اتحاد بین المسلمین، فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دے کر قومی اتفاقِ رائے اور ملی یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ