بدھ 23 ستمبر 2026 - 23:30
ڈاکٹر پزشکیان نے یو این او میں دنیا کا ضمیر جھنجھوڑ دیا

حوزہ/اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک ہاتھ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر اور دوسرے ہاتھ میں میناب اسکول کے شہداء کی تصاویر لے کر کھڑا ہونا محض ایک سفارتی منظر نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے ملک کی فریاد تھی جس پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت مسلط کی گئی اور جس کی قیمت ایرانی عوام، خصوصاً معصوم بچوں نے اپنے خون سے ادا کی۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک ہاتھ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر اور دوسرے ہاتھ میں میناب اسکول کے شہداء کی تصاویر لے کر کھڑا ہونا محض ایک سفارتی منظر نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے ملک کی فریاد تھی جس پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت مسلط کی گئی اور جس کی قیمت ایرانی عوام، خصوصاً معصوم بچوں نے اپنے خون سے ادا کی۔

پزشکیان نے دنیا کے سامنے تقریر سے زیادہ مؤثر ایک تصویر پیش کی؛ ایک ایسی تصویر جو کسی فوجی کی نہیں، ایک معصوم طالب علم کی تھی۔

28 فروری 2026 کو ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر ہونے والا حملہ جدید جنگ کی اس سفاک حقیقت کی یاد دہانی ہے جس میں میزائل اور بم چلانے والے فاصلے پر محفوظ رہتے ہیں، مگر ان کے نشانے پر آنے والے گھروں، اسکولوں اور خاندانوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق اس حملے میں 156 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 120 بچے شامل تھے۔ ایک اسکول جہاں بچیوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں تھیں، وہاں خون اور ملبہ رہ گیا۔

یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ المناک ہے کہ امریکہ دنیا کی جدید ترین فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ اس کے پاس سیٹلائٹ ہیں، مصنوعی ذہانت ہے، جدید نگرانی کا نظام ہے، انتہائی درست میزائل ہیں اور اہداف کی شناخت کے لیے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر ایک اسکول کو فوجی ہدف سمجھ کر تباہ کر دیا جائے تو سوال صرف ایک غلطی کا نہیں رہتا، بلکہ اس جنگی نظام کی اخلاقی ذمہ داری کا بن جاتا ہے جو اپنی تکنیکی برتری پر فخر کرتا ہے مگر انسانی جان کے تحفظ میں ناکام رہتا ہے۔

بعد کی تحقیقات میں بھی یہ سوال سامنے آیا کہ امریکی ہدفی نظام میں اسکول کی شناخت کے حوالے سے سنگین غلطی ہوئی۔ یعنی جس عمارت میں بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ ایک ایسے نظام کی نظر میں فوجی ہدف بن گئی جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے جدید ہدفی نظام ہے۔ اگر جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ایک اسکول اور فوجی تنصیب کے درمیان فرق نہ کر سکے تو پھر جنگ کی نام نہاد ’’درستگی‘‘ کے دعوے کس کام کے؟

امریکہ اس حملے میں بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کی تردید کرتا رہا ہے اور اسے ہدف کی شناخت میں غلطی قرار دیتا ہے۔ لیکن ایک ماں کے لیے یہ فرق شاید اتنا اہم نہیں کہ میزائل جان بوجھ کر اس کے بچے کے اسکول پر آیا تھا یا غلطی سے۔ اس کے لیے حقیقت صرف یہ ہے کہ اس کا بچہ اسکول گیا تھا اور واپس نہیں آیا۔ ملبے میں ملنے والی کتاب، جلا ہوا بستہ اور خون سے آلودہ یونیفارم کسی فوجی بیان سے زیادہ طاقتور گواہی بن جاتے ہیں۔

ایران پر ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا المیہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے اس تصادم میں ایک ایسا ملک نشانے پر ہے جس کے عام شہریوں کا جنگ کے فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ گھروں، بازاروں، بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں پر حملوں کا سب سے بڑا بوجھ عام ایرانی شہری اٹھاتے ہیں۔ ایران نے جس جارحیت کا سامنا کیا، اس کے مقابلے میں اس کے عوام کا اپنے ملک، اپنی سرزمین اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا محض سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک قومی مزاحمت کی تصویر بھی ہے۔

اس تناظر میں پزشکیان کا یو این او میں خون آلود بستہ اٹھانا ایک قابلِ توجہ سفارتی اقدام تھا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کے سامنے ایران کی مظلومیت کو محض الفاظ میں بیان نہیں کیا بلکہ اسے ایک ایسی علامت میں تبدیل کر دیا جسے دنیا کا کوئی شخص آسانی سے نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ایک صدر کے ہاتھ میں خون آلود بستہ دراصل ان تمام بچوں کی نمائندگی کر رہا تھا جو طاقتور ریاستوں کی جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے گھروں، اسکولوں اور خوابوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اور یہاں اسرائیل کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین میں برسوں سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ جب طاقتور ریاست کو جواب دہی سے استثنیٰ کا احساس ہو تو شہری آبادی کس طرح جنگ کا سب سے آسان نشانہ بن جاتی ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملوں اور امریکی فوجی طاقت کی شمولیت نے مشرق وسطیٰ کے پہلے سے سلگتے ہوئے بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ انسانی جان کے تحفظ کا اصول طاقت کے توازن کے نیچے دب جاتا ہے۔

ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو بعض حلقے اپنے سیاسی اور عسکری مفادات کے لیے جائز ثابت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن کسی ملک کی سیاسی مخالفت اس کے شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتی۔ ایران کی حکومت سے اختلاف اپنی جگہ، مگر ایرانی بچوں کا خون کسی سیاسی اختلاف کا حصہ نہیں۔ جس طرح فلسطینی بچے کی جان قیمتی ہے، اسی طرح ایرانی بچے کی جان بھی قیمتی ہے۔ انسانیت کا اصول یہی ہے کہ مظلوم کی حمایت اس کی قومیت، مذہب یا سیاسی وابستگی دیکھ کر نہیں کی جاتی۔

پزشکیان کا خون آلود بستہ اسی انسانی اصول کی یاد دہانی ہے۔ یہ بستہ کسی میزائل سے زیادہ طاقتور سوال بن کر دنیا کے سامنے آیا: اگر جدید دنیا واقعی انسانی حقوق کی محافظ ہے تو پھر ایک اسکول میں پڑھنے والی بچیوں کی حفاظت کیوں نہ ہو سکی؟ اگر عالمی ادارے شہریوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں تو پھر معصوم بچوں کے خون پر اتنی خاموشی کیوں ہے؟ اور اگر جنگی طاقت کو قانون اور اخلاق کا پابند ہونا چاہیے تو طاقتور ملکوں کے لیے معیار مختلف کیوں دکھائی دیتا ہے؟

ایران نے اس جنگ میں صرف فوجی دباؤ کا سامنا نہیں کیا بلکہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ایک مشکل آزمائش بھی دیکھی۔ ایسے وقت میں پزشکیان کا عالمی فورم پر کھڑے ہو کر خون آلود تصاویر اٹھانا ایران کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے لانے کی ایک مؤثر کوشش تھی۔ انہوں نے اس خاموش بستے کو ایران کے ان بچوں کی آواز بنا دیا جن کی آواز بموں کے شور میں دب گئی۔

دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کی اصل تصویر میزائلوں، جنگی طیاروں اور فوجی نقشوں میں نہیں ملتی۔ جنگ کی اصل تصویر ایک ماں کے آنسو، ایک باپ کی خاموشی، ملبے میں پڑی ایک کتاب اور خون سے رنگے ہوئے ایک بچے کے بستے میں ملتی ہے۔ میناب کا خون آلود بستہ اسی حقیقت کا استعارہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ایوان میں پزشکیان کے ہاتھ میں اٹھا ہوا وہ بستہ شاید آنے والے وقت کے لیے ایک تاریخی تصویر بن جائے۔ ایک طرف دنیا کی بڑی طاقتیں، ان کی فوجیں، ان کے ہتھیار اور ان کے سیاسی مفادات؛ دوسری طرف ایک معصوم بچے کا بستہ۔ طاقت کے اس مقابلے میں شاید سب سے کمزور دکھائی دینے والی چیز ہی سب سے بڑا سوال بن گئی: آخر ایک بچے کا قصور کیا تھا؟

جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، میزائل خاموش ہو جاتے ہیں، سفارتی بیانات بدل جاتے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق نئے اتحاد بنا لیتی ہیں، مگر بچوں کے خون کے نشان تاریخ سے نہیں مٹتے۔ پزشکیان نے یو این او میں جو خون آلود بستہ اٹھایا، وہ صرف ایران کے مظلوم بچوں کی علامت نہیں تھا؛ وہ عالمی ضمیر کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ تھا۔ اس آئینے میں امریکہ اور اسرائیل کی فوجی طاقت بھی دکھائی دیتی ہے، عالمی سیاست کے دوہرے معیار بھی اور ایک مظلوم قوم کی وہ فریاد بھی جو دنیا سے صرف اتنا چاہتی ہے کہ انسانی جان کو طاقت اور سیاست سے بالاتر سمجھا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha