تحریر: مولانا کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | کل صفین میں قرآن نیزوں پر بلند کیا گیا تھا…
آج مکہ و مدینہ کا نام سامنے لا کر وہی جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے؟
ذرا ٹھہریے…
کیا واقعی مکہ و مدینہ خطرے میں ہیں، یا تاریخ ایک بار پھر ہمارے جذبات کو آزما رہی ہے؟
صفین سے مکہ و مدینہ تک… تاریخ پھر ہمارے سامنے ہے۔
آج سعودی عرب پوری مسلم دنیا سے واویلا اور دہائی کر رہا ہے:
’’مسلمانو! مکہ و مدینہ خطرے میں ہیں، حوثی سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں!‘‘
ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں،
کیا یہ واقعی سچی بات ہے؟
حوثی یہ جنگ سعودی عرب پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے۔ نہ ان کا مکہ و مدینہ پر قبضے کا کوئی اعلان ہے اور نہ ہی حرمین شریفین پر ان کی کوئی بری نظر سامنے آئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی زمین اور اپنے لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ یمن میں سعودی فوجی مداخلت کے خلاف انہوں نے جنگ لڑی اور سعودی فوج کو یمن سے نکلنا پڑا۔
پھر مکہ و مدینہ کو خطرے میں بتا کر پوری دنیا کے مسلمانوں سے مدد کی اپیل کیوں؟
یہ سوال سمجھنا ضروری ہے۔ تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔
صفین میں جب جنگ فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ گئی تو قرآن نیزوں پر بلند کر دیے گئے۔
قرآن سب کے لیے مقدس تھا، اس لیے بہت سے لوگ رک گئے۔ جنگ کا رخ بدل گیا اور ایک ایسا معاملہ جو تلوار سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا تھا، قرآن کے نام پر دوسری طرف چلا گیا۔
آج منظر بدل گیا ہے۔
کل قرآن نیزوں پر تھا،
آج مکہ و مدینہ کا نام سامنے ہے۔
کل کہا گیا:
’’قرآن ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔‘‘
آج کہا جا رہا ہے:
’’مکہ و مدینہ خطرے میں ہیں۔‘‘
لیکن سوال وہی ہے:
کیا کسی جنگ کے ساتھ مکہ و مدینہ کا نام جوڑ دینے سے وہ پوری امت کی جنگ بن جاتی ہے؟
یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ یمن میں جنگ کرنا اور سعودی عرب پر قبضہ کرنا ایک بات نہیں۔
اور یمن کی سرزمین پر مزاحمت کرنا، مکہ و مدینہ پر حملے کی نیت رکھنا بھی ایک ہی بات نہیں۔
مکہ و مدینہ کسی ایک حکومت یا خاندان کی ملکیت نہیں۔ یہ پوری امتِ مسلمہ کے مقدس مقامات ہیں۔
اس لیے صرف مکہ و مدینہ کا نام سن کر جذباتی ہونے کے بجائے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اصل جنگ کیا ہے، کہاں ہو رہی ہے اور کیوں ہو رہی ہے؟
تاریخ کا سبق یہی ہے:
مقدس نام لینا اور مقدس مقصد کے لیے کھڑا ہونا، دونوں ایک چیز نہیں۔
صفین میں قرآن نیزوں پر بلند ہوا تھا؛
آج مکہ و مدینہ کا نام سامنے ہے۔
وقت بدل گیا،
مگر جذبات کو استعمال کرنے کا طریقہ نہیں بدلا۔









آپ کا تبصرہ