تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے والوں کو سب سے پہلے تاریخ پڑھنی چاہیے، کیونکہ کسی قوم کو اس کے صدیوں پرانے مذہبی پس منظر کی بنیاد پر آج بھی اسی نام سے پکارنا نہ علم ہے، نہ تحقیق اور نہ انصاف۔ اگر تاریخ کو تعصب کے بجائے حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فارس اور وسیع ایرانی و خراسانی تہذیبی خطہ اسلام کی تاریخ میں صرف ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ علم، تہذیب، فکر اور دینی خدمات کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔
ایرانیوں کا اسلام سے تعلق بھی محض کسی ایک سیاسی واقعے سے شروع نہیں ہوا؛ ایرانی النسل افراد عہدِ رسالت ہی میں اسلام کے دامن سے وابستہ ہوچکے تھے، اور اس سلسلے کی سب سے روشن شخصیت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ تاریخی تحقیق بھی انہیں فارسی النسل اولین نمایاں مسلم شخصیات میں شمار کرتی ہے اور ایرانیوں کے ابتدائی قبولِ اسلام کی علامت قرار دیتی ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ذکر اس پوری تاریخ کا سب سے خوب صورت نقطۂ آغاز ہے۔ ایک فارسی انسان، جس نے حق کی تلاش میں سفر کیا، مختلف دینی ماحول دیکھے، معرفت کی جستجو جاری رکھی اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ تک پہنچ کر اسلام قبول کیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابی اور اہلِ بیت علیہم السلام سے خصوصی نسبت رکھنے والی عظیم شخصیت بن گئے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر جب مہاجرین اور انصار دونوں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو اپنی جماعت میں شمار کرنے پر فخر کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ»
ترجمہ: ’’سلمان ہم اہلِ بیت میں سے ہیں۔‘‘
یہ روایت امام حاکم نیشاپوریؒ نے المستدرک علی الصحیحین میں اور امام بیہقیؒ نے دلائل النبوۃ میں نقل کی ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی یہ نسبت اس حقیقت کی نہایت خوب صورت مثال ہے کہ اسلام نے انسان کی قدر و منزلت کو نسل، زبان اور جغرافیے سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص، معرفت اور کردار سے وابستہ کیا۔ ایک فارسی انسان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ بیت علیہم السلام سے نسبت عطا فرمائی؛ اس لیے فارس اور اسلام کے تعلق کو محض سیاسی فتوحات کی تاریخ سمجھنا درست نہیں۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اس تعلق کی وہ روشن علامت ہیں جس میں فارس کی سرزمین، حق کی جستجو اور اسلام کی عالمگیر روح ایک جگہ جمع ہوجاتی ہے
اب ذرا ایران اور وسیع ایرانی و خراسانی علمی دنیا کی طرف دیکھیے۔ اسلام قبول کرنے کا عمل ایران میں ایک طویل تاریخی عمل تھا؛ معتبر تحقیق کے مطابق دسویں صدی کے قریب تک ایرانی ماحول مجموعی طور پر بڑی حد تک اسلامی ہوچکا تھا، اگرچہ مختلف علاقوں میں رفتار اور حالات مختلف رہے۔ اس کے بعد یہی سرزمین اور اس سے وابستہ وسیع علمی دنیا اسلامی علوم کی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کرتی رہی۔ یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ بخارا، ترمذ، نسا، ہرات اور دوسرے شہر موجودہ ایران کی سیاسی حدود میں نہیں ہیں، لیکن تاریخی ایرانی و خراسانی تہذیبی اور علمی دائرے میں ان کی اہمیت بنیادی تھی؛ اس لیے انہیں موجودہ سیاسی نقشے کے مطابق ’’ایران‘‘ کہنا درست نہیں، جبکہ ایرانی علمی دنیا کا حصہ کہنا تاریخی طور پر زیادہ مناسب ہے۔
حدیث کی کتابوں کی طرف دیکھیے تو امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ بخارا سے، امام مسلم بن حجاج نیشاپوریؒ نیشاپور سے، امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ ترمذ سے، امام احمد بن شعیب نسائیؒ نسا سے، امام ابن ماجہ قزوینیؒ قزوین سے اور امام ابو داود سجستانیؒ سجستان سے وابستہ تھے۔ اسی وسیع علمی خطے نے امام حاکم نیشاپوریؒ، امام بیہقیؒ اور امام ابن خزیمہؒ جیسے عظیم محدثین بھی پیدا کیے۔ ان حضرات کی کتابیں اسلامی حدیثی روایت کے بنیادی ذخیرے کا حصہ ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس پورے علمی ماحول کو نظرانداز کرکے ایران اور ایرانی تہذیب کو ایک تحقیر آمیز لفظ میں محدود کردے، وہ دراصل اسلامی تاریخ کے ایک بڑے حصے کو سمجھنے سے محروم ہے۔
یہ علمی خدمت صرف حدیث تک محدود نہیں تھی۔ امام ابو حنیفہؒ کے خاندان کی فارسی نسبت کا ذکر قدیم مصادر میں ملتا ہے، امام ابو حامد غزالیؒ طوس سے تعلق رکھتے تھے، امام فخر الدین رازیؒ رے کے تھے اور امام محمد بن جریر طبریؒ آمل کے۔ غزالیؒ کی احیاء علوم الدین، رازیؒ کی مفاتیح الغیب اور طبریؒ کی جامع البیان اور تاریخ الطبری اسلامی فکر، تفسیر اور تاریخ کے عظیم علمی سرمایہ ہیں۔ اسی طرح نیشاپور، طوس، رے، قزوین، آمل اور خراسان کے دوسرے مراکز نے فقہ، کلام، فلسفہ، تصوف، ادب اور تاریخ میں بے شمار علماء پیدا کیے۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے: اگر کوئی شخص صحیح بخاری پڑھتا ہے، صحیح مسلم سے استدلال کرتا ہے، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابو داود کی روایات بیان کرتا ہے، حاکم و بیہقی کے علمی کام سے فائدہ اٹھاتا ہے، غزالی و رازی و طبری کی کتابیں پڑھتا ہے، لیکن اسی وقت پورے ایرانی علمی ماحول کو ’’مجوسی‘‘ کہہ کر تحقیر کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک واضح علمی تضاد کھڑا ہوجاتا ہے۔ علماء کی کتابیں قبول کرنا اور ان کے تہذیبی و تاریخی پس منظر کو گالی دینا علمی انصاف نہیں۔
ایران کی مذہبی تاریخ بھی اتنی سادہ نہیں کہ اسے ایک جملے میں بیان کردیا جائے۔ اسلام کے بعد ایران میں اہلِ سنت کی طویل اور مضبوط علمی روایت رہی، ساتھ ہی اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت اور شیعی علمی رجحانات بھی مختلف ادوار میں موجود رہے۔ بعد کے زمانے میں تشیع کی علمی روایت نے تحقیق، تعلیم، اجتہاد، مناظرے اور تصنیف کے ذریعے اپنی فکری بنیادیں مضبوط کیں۔ صفوی دور ایک بڑا تاریخی موڑ تھا، جب اثناعشری تشیع کو ریاستی مذہب بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں ایران کی مذہبی شناخت بڑی حد تک تبدیل ہوئی؛ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ایرانی تشیع محض شاہی حکم سے پیدا ہوا۔ صفوی دور سے پہلے بھی ایران میں شیعی رجحانات اور علمی روایت موجود تھی، جبکہ صفوی دور میں اسے ریاستی سرپرستی اور ادارہ جاتی قوت ملی۔
صفوی دور میں بھی یہ تبدیلی فوری طور پر مکمل نہیں ہوئی۔ معتبر تاریخی تحقیق کے مطابق سولہویں صدی کے وسط میں قزوین، شیراز اور ہمدان جیسے اہم شہر اب بھی سنی مراکز تھے، اور 1720ء کے قریب ایک عثمانی مشاہد نے ایران کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو سنی قرار دیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کی موجودہ شیعی اکثریت ایک طویل تاریخی، مذہبی اور فکری عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔
لہٰذا ایران کے بارے میں علمی گفتگو کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے مختلف تاریخی ادوار کو الگ الگ سمجھا جائے۔ قدیم فارس کا مذہب اپنی جگہ، اسلام کے بعد ایرانیوں کا تدریجی قبولِ اسلام اپنی جگہ، صدیوں تک موجود سنی علمی روایت اپنی جگہ، اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستہ شیعی فکر کی نشوونما اپنی جگہ، اور صفوی دور میں تشیع کا ریاستی مذہب بننا اپنی جگہ۔ ان تمام مراحل کو ایک ہی لفظ ’’مجوسی‘‘ میں سمیٹ دینا تاریخ کو سمجھنا نہیں بلکہ تاریخ سے فرار اختیار کرنا ہے۔
اسلام نے بھی کسی قوم کی قدر اس کے آباؤ اجداد کے مذہب سے نہیں کی۔ قرآن مجید کا اصول واضح ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾، ’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 13)۔ اس لیے اگر کسی ایرانی کے عقیدے سے اختلاف ہے تو اس کے عقیدے پر علمی گفتگو کیجیے؛ کسی ایرانی ریاست کی پالیسی سے اختلاف ہے تو اس پالیسی پر تنقید کیجیے؛ کسی عالم یا سیاسی شخصیت کے موقف سے اختلاف ہے تو اس موقف کا علمی جواب دیجیے۔ لیکن ایک پوری قوم کو اس مذہب کے نام سے پکارنا جس سے اس کے اجداد صدیوں پہلے گزر چکے ہیں، علمی دیانت کے خلاف ہے۔
جو لوگ پورے ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہہ کر تحقیر کرتے ہیں، ان کی یہ روش سخت قابلِ مذمت ہے۔ یہ صرف ایرانیوں کی تحقیر نہیں بلکہ تاریخ، علم اور تہذیبی حقیقتوں سے ناواقفیت کا اظہار بھی ہے۔ کسی قوم کے ماضی کا مطالعہ ضرور کیجیے، لیکن اس ماضی کو اس قوم کے ہر فرد کی دائمی شناخت بنا دینا انصاف نہیں۔ اگر یہی اصول دنیا کی تمام قوموں پر لاگو کیا جائے تو شاید بہت کم قومیں ایسی بچیں گی جنہیں ان کے موجودہ مذہب کے نام سے پکارا جاسکے۔
ایران اور ایرانی تہذیبی دنیا کی تاریخ ہمیں ایک اور سبق بھی دیتی ہے: اسلام کسی ایک نسل، زبان یا خطے کی میراث نہیں۔ فارس کے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب اصحاب میں شمار ہوئے؛ خراسان اور ماوراءالنہر کے علماء نے حدیث کے عظیم ذخیرے مرتب کیے؛ طوس، نیشاپور، رے اور آمل نے فقہ، تفسیر، فلسفہ اور تاریخ کے بڑے علماء پیدا کیے۔ یہ سب اسلامی تہذیب کے مشترکہ سرمائے کا حصہ ہیں۔
لہٰذا ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے سے پہلے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو پڑھیے، پھر بخاری و مسلم کے محدثین کو پڑھیے، پھر غزالی، رازی اور طبری کو پڑھیے، پھر ایران اور خراسان کی علمی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ شاید اس کے بعد معلوم ہو کہ تاریخ کسی قوم کو ایک تحقیر آمیز لفظ میں قید کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پورے سفر کو سمجھنے کا نام ہے۔
جس فارس نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جیسا عظیم صحابی پیدا کیا، جس وسیع ایرانی و خراسانی علمی دنیا نے اسلامی علوم کے بے شمار ستون پیدا کیے، اور جس معاشرے نے صدیوں کے فکری و مذہبی سفر کے بعد اپنی موجودہ شناخت تشکیل دی، اسے صرف ’’مجوسی‘‘ کہہ دینا تاریخ، علم اور انصاف—تینوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
اختلاف کیجیے، مگر علم کے ساتھ؛ تنقید کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ؛ اور تاریخ بیان کیجیے تو پوری تاریخ بیان کیجیے۔ ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے سے پہلے ایران کی تاریخ پڑھ لیجیے—کیونکہ تاریخ کا مطالعہ تعصب کو نہیں، حقیقت کو جنم دیتا ہے۔










آپ کا تبصرہ