بدھ 7 اکتوبر 2026 - 04:08
ناصبیت: آلِ رسولؐ سے بغض کی وہ آگ جس نے تاریخ کو لہو لہان کردیا

حوزہ/ناصبیت کوئی معمولی مسلکی اختلاف نہیں، بلکہ بغض و دشمنی کی وہ فکری نجاست ہے جس میں علیؑ اور آلِ محمدؐ کی عظمت کھٹکنے لگتی ہے، اہل بیتؑ کی فضیلت کو گھٹانے کے لیے تاویلیں تراشی جاتی ہیں، ان کے مسلمہ حقوق سے انکار کیا جاتا ہے، ان کے دشمنوں کے لیے عذر تلاش کیے جاتے ہیں اور ان پر ڈھائے گئے مظالم کو جواز بخشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ صرف زبان کا بغض نہیں؛ یہ وہ ذہنی و اخلاقی انحراف ہے جہاں محبتِ اہل بیتؑ جرم اور ان کے مخالفین کی وکالت فضیلت بننے لگتی ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| ناصبیت کوئی معمولی مسلکی اختلاف نہیں، بلکہ بغض و دشمنی کی وہ فکری نجاست ہے جس میں علیؑ اور آلِ محمدؐ کی عظمت کھٹکنے لگتی ہے، اہل بیتؑ کی فضیلت کو گھٹانے کے لیے تاویلیں تراشی جاتی ہیں، ان کے مسلمہ حقوق سے انکار کیا جاتا ہے، ان کے دشمنوں کے لیے عذر تلاش کیے جاتے ہیں اور ان پر ڈھائے گئے مظالم کو جواز بخشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ صرف زبان کا بغض نہیں؛ یہ وہ ذہنی و اخلاقی انحراف ہے جہاں محبتِ اہل بیتؑ جرم اور ان کے مخالفین کی وکالت فضیلت بننے لگتی ہے۔

ناصبیت کی پہچان یہ ہے کہ وہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر مظلوم سے ثبوت مانگتی ہے اور ظالم کے لیے تاویلیں تراشتی ہے؛ قاتل کے ہاتھ سے تلوار چھیننے کے بجائے اس کے ہاتھ کو پاک ثابت کرنے میں اپنی علمی توانائیاں صرف کرتی ہے۔ اہل بیتؑ کی حمایت میں کوئی زندہ ضمیر مسلمان قلم اٹھا دے یا حق کی گواہی زبان پر لے آئے تو صدیوں سے سینے میں دفن بغض کی راکھ پھر سلگنے لگتی ہے۔

یہ محض مسلکی تعصب نہیں؛ یہ انصاف سے انحراف، تاریخ سے بددیانتی اور ضمیر کی نجاست ہے۔ آخر اس سے بڑھ کر احسان فراموشی کیا ہوگی کہ جس گھرانے کی محبت رسولؐ نے امت کے ایمان و اخلاق کا حصہ بنائی، اسی اہل بیتؑ سے بغض کو اسلام، دشمنی کو ایمان اور ظلم کے دفاع کو حق پسندی کا عنوان دے دیا جائے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ناصبیت کا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے: محبتِ رسولؐ کا دعویٰ زبان پر رہ جاتا ہے اور آلِ رسولؐ سے بغض دل کی گواہی بن جاتا ہے۔

علیؑ جیسے عظیم المرتبت شخص کو منبروں پر برا بھلا کہا جائے اور پھر اس عمل کو خطائے اجتھادی ، سیاست یا مصلحت کا نام دے دیا جائے۔ بنی امیہ کے دور میں امام علیؑ کے خلاف سبّ و شتم اور منبروں سے لعن و طعن کے تاریخی شواہد اسی ذہنیت کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

امام حسنؑ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ تاریخِ اسلام کی متعدد روایات اس سانحے کے پسِ پردہ معاویہ کی سازش اور سیاسی کردار کی طرف مضبوط شواہد پیش کرتی ہیں۔ اس کے بعد کربلا کا وہ المناک سانحہ پیش آیا جس میں حسینؑ، ان کے اہلِ خانہ اور وفادار اصحاب کو محصور کرکے پانی سے محروم کر دیا گیا۔ علی اکبرؑ، عباسؑ، علی اصغرؑ اور ایک ایک کرکے تمام جان نثار ساتھی شہید کر دیے گئے اور بالآخر حسینؑ بھی میدانِ کربلا میں شہید کر دیے گئے۔ خیمے جلا دیے گئے، اہلِ حرم کو اسیر کیا گیا اور خاندانِ رسولؐ کو کوفہ سے شام تک اسیری کے سفر میں بازاروں اور درباروں سے گزارا گیا، یہاں تک کہ انہیں شام کی قید میں رکھا گیا۔ یوں کربلا کا ظلم صرف قتلِ حسینؑ تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے بعد اہلِ بیتؑ کی اسیری نے اس سانحے کو تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین المیوں میں تبدیل کر دیا۔

کربلا کے بعد بھی ظلم کی تلوار میان میں نہیں گئی۔ مختلف ادوار میں علویوں اور سادات کو صرف آلِ رسولؐ سے نسبت کی سزا دی گئی؛ قتل کیا گیا، قید کیا گیا، جلاوطن کیا گیا، تعاقب کیا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ کتنے ہی سادات نے جان بچانے کے لیے اپنے وطن، اپنے گھر اور اپنی زمینیں چھوڑ کر پہاڑوں، بیابانوں اور دور دراز علاقوں میں پناہ لی۔ تاریخی روایات میں ایسے لرزہ خیز واقعات بھی محفوظ ہیں جہاں سادات کے خون کو بہانے کے ساتھ ساتھ انہیں زندہ دیواروں میں چن دینے جیسی سفاک سزاؤں کا ذکر ملتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کی بنیادوں میں اینٹوں سے زیادہ آلِ رسولؐ کے فرزندوں کا لہو استعمال ہوا؛ سادات کے خون سے گارا بنا، ان کی لاشوں پر محل اٹھے، اور ان کی آہوں کے درمیان بادشاہتوں کے تخت سجائے گئے۔ اولادِ رسولؐ کے خلاف قتل، تعاقب، قید، جلاوطنی اور نسل کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششوں کو اسی لیے بعض اہلِ قلم نے نسل کشی جیسے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مگر خون سے تعمیر ہونے والی سلطنتیں خواہ کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں، تاریخ کے سامنے ان کی بنیاد ہمیشہ لہو سے آلودہ رہتی ہے۔

ناصبیت کا سب سے مکروہ چہرہ یہ ہے کہ وہ ظلم دیکھ کر بھی ظالم کے لیے دلیل تراشتی ہے۔ حسینؑ کے قاتلوں کے لیے عذر گھڑتی ہے، کربلا کے زخموں پر تاویلوں کا مرہم رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور اہل بیتؑ کے دشمنوں کی وکالت کو علم و دیانت کا نام دیتی ہے۔ یہ صرف تاریخ سے خیانت نہیں، بلکہ ضمیر کا قتل ہے؛ کیونکہ جس دل میں حسینؑ کے خون سے زیادہ قاتل کی آبرو عزیز ہو جائے، وہاں انصاف کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ ناصبیت انسان سے حق و باطل کی پہچان چھین کر شخصیتوں کا غلام بنا دیتی ہے؛ پھر ظلم، ظلم نہیں رہتا اگر ظالم محبوب ہو، اور حق، حق نہیں رہتا اگر حق اہل بیتؑ کے ساتھ کھڑا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعصب ایمان کے لباس میں، اور ظلم دلیل کے پردے میں چھپنے لگتا ہے۔

مگر تاریخ کا فیصلہ نہ تخت بدل سکتے ہیں، نہ تلواریں، نہ درباری قلم۔ علیؑ آج بھی عدالت و شجاعت کا استعارہ ہیں، حسنؑ صبر و حلم کی علامت اور حسینؑ ظلم کے مقابل حق پر ڈٹ جانے کی ابدی صدا۔ جن لوگوں نے آلِ رسولؐ کے خون پر اپنی سلطنتوں کی بنیادیں اٹھائیں، وقت نے ان کے تخت تو گرا دیے مگر ان کے نام بھی عزت کے ساتھ زندہ نہ رہ سکے؛ وہ تاریخ کے صفحات میں اپنے جرائم کے ساتھ محفوظ ہیں، محبت کے ساتھ نہیں۔

اور آج بھی ناصبیت اسی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اہل بیتؑ کی محبت کے چراغ کو بجھانے والے خود تاریخ کی تاریکیوں میں گم ہو جاتے ہیں، جبکہ آلِ رسولؐ کا ذکر صدیوں بعد بھی دلوں میں زندہ، زبانوں پر جاری اور نسل در نسل روشن ہے۔ یہی تاریخ کا سب سے بڑا جواب ہے: ظلم کے محل مٹ جاتے ہیں، مگر حسینؑ کا نام باقی رہتا ہے؛ قاتلوں کے تخت خاک ہو جاتے ہیں، مگر آلِ محمدؐ کی محبت دلوں میں زندہ رہتی ہے۔

اہل بیتؑ سے محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ رسولؐ سے نسبت، دینی وفاداری اور تاریخی انصاف کا تقاضا ہے۔ اسی طرح اہل بیتؑ سے بغض کو محض ایک مسلکی اختلاف قرار دے دینا بھی تاریخی حقیقت کو محدود کرنا ہے، خصوصاً جب یہ بغض ان کی فضیلت کے انکار، ان پر ہونے والے مظالم کی توجیہ اور ان کے مخالفین کے دفاع تک جا پہنچے۔

تاریخ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اقتدار کسی واقعے کی اخلاقی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ تخت و تاج ختم ہو جاتے ہیں، سیاسی سلطنتیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں، مگر ظلم اور مظلومیت کے آثار باقی رہتے ہیں۔ کربلا اسی تاریخی اصول کی سب سے نمایاں مثال ہے: حسینؑ کا جسمِ اطہر میدانِ کربلا میں شہید ہوا، مگر ان کا موقف تاریخ کے شعور میں زندہ رہا؛ جبکہ ظلم کے سیاسی مراکز وقت کے ساتھ مٹ گئے۔

اسی لیے اہل بیتؑ کی محبت کو جرم اور ان سے بغض کو فضیلت ثابت کرنے کی ہر کوشش، خواہ وہ سیاسی مصلحت کے نام پر ہو یا تاریخی تاویل کے ذریعے، علمی دیانت کے معیار پر پرکھی جانی چاہیے۔ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ حق کو حق، مظلوم کو مظلوم اور ظلم کو ظلم کہا جائے؛ کیونکہ وقت گزرنے سے واقعہ پرانا ہو سکتا ہے، مگر ظلم کبھی حق نہیں بن جاتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha