ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 09:54
درباری اسلام اور اصل اسلام

حوزہ/ہماری پہچان رسول و اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت اور حق کی پیروی ہے۔ ہم نہ کسی کی تکفیر کرتے ہیں، نہ کسی کے ایمان و عقیدے پر فیصلے صادر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے نکاح کے ٹوٹ جانے کے فتوے لگاتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ہماری پہچان رسول و اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت اور حق کی پیروی ہے۔ ہم نہ کسی کی تکفیر کرتے ہیں، نہ کسی کے ایمان و عقیدے پر فیصلے صادر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے نکاح کے ٹوٹ جانے کے فتوے لگاتے ہیں۔

ہمارا مقصد لوگوں کو دائرۂ اسلام سے نکالنا نہیں، بلکہ انہیں اُس اصل اسلام کی طرف بلانا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ لے کر آئے تھے؛ نہ کہ اُس مذہبی تصور کی طرف جسے بعد کے بادشاہوں، حکمرانوں اور درباری دین فروشوں نے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی

رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد اقتدار کی جنگیں شروع ہوئیں، حکومتیں بدلیں، خلافتیں وجود میں آئیں جو بادشاہتوں میں تبدیل ہوئیں اور سیاست نے مذہب کے معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ حکمرانوں کو جب اپنے فیصلوں کے لیے مذہبی جواز کی ضرورت پڑی تو ایسے مُلّا اور مفتی بھی سامنے آئے جنہوں نے حق کا ساتھ دینے کے بجائے بادشاہوں کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنالیا۔ انہوں نے درباروں سے پیسے اور انعامات لیے، حکمرانوں کی مرضی کے مطابق فتوے دیے اور ان کے غلط کاموں کو بھی مذہب کے نام پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔

یہ دین کی خدمت نہیں تھی، دین فروشی تھی ، یہ علم کی خدمت نہیں تھی، ضمیر کا سودا تھا۔

ان دین فروش مُلّاؤں اور زر خرید مفتیوں نے صرف بادشاہوں کی خوشامد ہی نہیں کی، بلکہ بعض ادوار میں احادیث و روایات کی نقل، تشریح اور قبولیت بھی سیاسی مفادات کے مطابق بدل ڈالیں۔ کہیں روایتوں کو دبانے کی کوشش ہوئی، توکہیں مخصوص شخصیات کے حق میں حدیثوں کو گڑھا گیا اور کہیں تاریخ کو حکمرانوں کی مرضی کے مطابق پیش کیا گیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ اصل دین پر سیاست، مصلحت اور ذاتی مفادات کی پرتیں چڑھتی گئیں۔ جو دین انسان کو حق پہچاننے کا راستہ دکھانے آیا تھا، اسی کے نام پر حق کو چھپانے کی کوششیں ہونے لگیں۔

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ان مذہبی ٹھیکے داروں نے عام لوگوں کے ذہنوں پر بھی پہرے بٹھانے شروع کردیے۔ کسی نے کتاب پڑھ لی تو ایمان خطرے میں، کسی نے سوال اٹھا دیا تو گمراہ! کسی نے اختلاف کردیا تو کافر! کہیں ایمان ختم ہونے کے فتوے، کہیں نکاح ٹوٹ جانے کے اعلانات، اور کہیں لوگوں کو دین سے خارج کرنے کے فیصلے! گویا دین اللہ کا نہیں، بلکہ بادشاہتوں اور سلطنتوں کی ذاتی جاگیر بن گیا جسے درباری مُلاوؤں اور زرخرید مفتیوں نے جواز کے فتوے دیکر ر عام مسلمانوں رائج کر دیا۔

ذرا سوچیے! جس دین نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی، اُس کے نام پر کتابوں سے ڈرایا جانے لگا۔ جس دین نے حق کی پہچان کی دعوت دی، اُس کے نام پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرایا جانے لگا۔ جس دین نے انسان کو اللہ کے سامنے جواب دہ بنایا، اُس کے نام پر بعض لوگوں نے خود کو دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے والا سمجھ لیا۔

آخر یہ کون سا اسلام ہے جس میں سوال کرنا خطرہ، مطالعہ کرنا جرم اور اختلاف کرنا کفر بن جاتا ہے؟

کیا حق اتنا کمزور ہے کہ ایک سوال سے ڈر جائے، یا ان لوگوں کی مذہبی دکانیں کمزور ہیں جنہیں تحقیق سے خوف آتا ہے؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہی تنگ نظری اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے ذکر کے وقت کیوں سامنے آنے لگتی ہے۔ کوئی شخص اہلِ سنت کے عقائد پر قائم رہتے ہوئے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے فضائل بیان کرے، ان سے محبت کا اظہار کرے یا ان کے مخالفین سے برائت کا اعلان کرے تو بعض لوگ فوراً اس کی نیت اور عقیدے پر حملے شروع کردیتے ہیں۔ اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس کی کردار کشی کی جاتی ہے، اسے اپنی جماعت سے باہر دھکیلنے کی کوشش ہوتی ہے اور اس کی عزت اچھالنے کو دینی خدمت سمجھ لیا جاتا ہے۔

آخر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت کرنا جرم کیوں ہوگیا؟

کیا رسول اللہؐ کے اہلِ بیت کا ذکر کرنے سے کسی کا عقیدہ خراب ہوجاتا ہے؟ ہمارے بزرگوں کے ہاں تو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت بھی تھی، ان کے فضائل کا ذکر بھی تھا اور اپنے عقائد پر استقامت بھی۔ پھر کچھ لوگوں کو اس محبت سے پریشانی کیوں ہونے لگتی؟

کیا ہم نے دین کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی پسند اور ناپسند کے تابع کرلیا ہے؟

ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر عالم دین فروش ہے، ہر مفتی زر خرید ہے یا تاریخ کی ہر روایت غلط ہے۔ ایسے فیصلے تحقیق اور دلیل کے بغیر نہیں کیے جاسکتے۔ لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ کسی کا عالم یا مفتی ہونا اسے غلطی سے پاک نہیں بناتا۔ کسی کے سر پر دستار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر قول کو آنکھیں بند کرکے مان لیا جائے۔ اگر کوئی شخص دین کو دولت، اقتدار اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس سے سوال ضرور ہونا چاہیے۔ اگر کوئی فتویٰ دلیل کے بجائے تعصب پر قائم ہے تو اسے چیلنج کرنا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص مذہب کے نام پر لوگوں کو ڈراتا، تقسیم کرتا اور خاموش کراتا ہے تو اس کے طرزِ عمل پر تنقید کرنا دینی بے ادبی نہیں، بلکہ حق شناسی کا تقاضا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم موروثی تعصبات سے باہر نکلیں، تاریخ کو کھلے ذہن سے پڑھیں، روایتوں کی تحقیق کریں اور ہر دعوے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تاریخ میں جو کچھ ہوا، وہ سب دین نہیں تھا؛ حکمرانوں نے جو کچھ کیا، وہ سب اسلام نہیں تھا؛ اور کسی مذہبی لیبل شخصیت نے جو کچھ کہہ دیا، وہ سب رسول اللہؐ کی تعلیم نہیں بن جاتا۔

ہماری دعوت کسی فرقے کو گالی دینے یا کسی مسلمان کو کافر بنانے کی دعوت نہیں۔ ہماری دعوت تو یہ ہے کہ آئیے، دین کو اُن لوگوں کی گرفت سے آزاد کریں جنہوں نے اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ آئیے، قرآن کو سمجھیں، رسول اللہؐ کی تعلیمات کی طرف لوٹیں، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے مقام و منزلت کو پہچانیں اور تاریخ کے ہر واقعے کو تحقیق کی روشنی میں دیکھیں۔

اسلام کسی بادشاہ کی جاگیر نہیں، کسی مُلّا کی دکان نہیں اور کسی زر خرید مفتی کی خرید و فروخت کی چیز نہیں۔ اسلام اللہ کا دین ہے؛ اسے کسی دربار کی خوشنودی، کسی سلطنت کی ضرورت یا کسی مذہبی سوداگر کے مفاد کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں درباروں کے مفادات کے مطابق ڈھالا گیا اسلام نہیں چاہیے۔ ہمیں وہ اسلام چاہیے جسے رسول اللہؐ لے کر آئے تھے؛ وہ اسلام جس میں حق کو اقتدار کے سامنے قربان نہ کیا جائے، علم کے راستے بند نہ کیے جائیں، سوال کرنے والوں کو گالیاں نہ دی جائیں، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت کو جرم نہ بنایا جائے اور مذہب کو انسانوں کو ڈرانے اور تقسیم کرنے کا ہتھیار نہ بنایا جائے۔

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: ہم اپنے دین کو دلیل، تحقیق اور سچائی کی روشنی میں سمجھیں گے یا اُن لوگوں کے حوالے کیے رکھیں گے جو مذہب کے نام پر اپنی دکانیں چمکاتے ہیں؟

ہمیں لوگوں کے ایمان کے فیصلے سنانے والے ٹھیکے دار نہیں، حق کو پہچاننے والے باشعور انسان چاہییں۔ ہمیں بادشاہوں کی مرضی کا اسلام نہیں، رسول اللہؐ کا لایا ہوا اصل اسلام چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha